عید آپس میں خوشیاں بانٹنے اور دلوں سے حسد ، کینہ اور بغض ختم کرنے کا پیغام دیتی ہے
نفرت کے ماحول میں محبت کا پیغام عام کریں
مایوس ہونے کے بجائے اپنے حوصلے بلند رکھیں اور اپنے جذبات پر قابو رکھیں
غرور اور تکبر میں ڈوبی ہوئی طاقتیں سمجھ لیں کہ دنیا میں کسی کو بھی ہمیشگی نہیں
نوجوانوں ایمان واخلاق سے خود کو مزین کریں اور مائیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں
بھٹکل(فکروخبرنیوز) بھٹکل میں آج مولانا عبدالعلیم صاحب کی اقتدا میں عیدگاہ کے وسیع وعریض میدان میں عید الفطر کی دوگانہ ادا کی گئی۔مسلمانوں نے عیدکی دوگانہ ادا کے بعد گلے مل کر ایک دوسرے سے محبت کا اظہار کیا اور اپنی خوشیاں بانٹیں ، نفرتوں کو دور کرنے اور آپس میں مل جل کر زندگی گذارنے کا عہد کیا ، کندھوں سے کندھا ملا کر زندگی کے ہر میدان میں ایک دوسرے کے تعاون کا ثبوت پیش کیا۔
اس موقع پر امام وخطیب جامع مسجد بھٹکل مولانا عبدالعلیم صاحب ندوی عید الفطر کی مبارکباد پیش کرنے کے بعد اس عید کو محبتوں کے بانٹنے کا ذریعہ بنانے ، موجودہ حالات سے مایوس ہونے کے بجائے اپنی ہمت اور حوصلوں کو مضبوط کرنے ، نوجوانوں کو اپنی اصلاح کی فکر کرنے اور ماؤں اور بہنوں کو اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کا پیغام دیا۔ مولانا نے کہا کہ آج ملک میں نفرت کی ہواؤوں کے درمیان یہ عید محبت کا پیغام عام کرنے کی دعوت دے رہی ہے۔ عید کا پیغام یہ ہے کہ آپسی اتحاد کو قائم رکھیں ، دلوں کو صاف کریں ، روٹے ہؤوں کو منائیں اورہمارا بڑھنے والا ہر قدم شریعت کے مطابق ہوں۔ رمضان کے مہینے کا بھی یہی پیغام تھا کہ ہم صبر کریں ، جذبات پر قابو رکھیں اور اللہ کی اطاعت کے لیے حلال چیزوں کو بھی قربان کریں۔ مولانا نے اپنے خطاب میں برملا اس بات کا اظہار کیا کہ دنیا نے بڑی سے بڑی ایسی طاقتوں کو دیکھا جنہوں نے غروراور تکبر میں خدائی تک کا دعویٰ کیا لیکن اللہ نے قرآن میں تذکرہ نہ کیا ہوتا تو آج ان کا کوئی نام لینے والا باقی نہیں رہتا ، دنیا کی جو بھی طاقت ظلم ، غرور اور تکبر کرتی ہو وہ سمجھ لے کہ انہیں بھی ہمیشگی نہیں ہے۔
نوجوانوں سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے انہیں دین اور شریعت کے مطابق اپنے زندگی گذارنے کی نصیحتیں کیں، نشہ آور چیزوں اور سوشیل میڈیا میں اپنے اوقات کے غلط استعمال سے دور رہیں۔ اپنے آپ کو ہر اس چیز کے لیے تیار رکھیں جس کا آپ کو مستقبل میں سامنا کرنا ہے، ایمان و اخلاق سے خود کو مزیّن کریں اور حالات کے مقابلہ کے لیے ہمت اور حوصلے سے کام لیں۔ کوئی چیز ہماری شریعت سے ٹکراتی ہو تواس کے لیے جان دینے کے لیے تیار رہیں اور اپنے بڑوں اور قائدین کے تابع بن کر زندگی گذاریں۔
مولانا نے خواتین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ امت کی مائیں ہیں اور آپ کی گود میں پلنے والی اولاد آپ کے پاس امانت ہے جس کی ذمہ داریوں کا احساس کریں۔ یہ یاد ہمیشہ ذہن میں رکھیں کہ جو بچہ ماں کی گود میں صحیح تربیت پاتا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے کمزور نہیں کرسکتی۔
ملت کے قائدین سے گذارش کرتے ہوئے حالات کو سمجھ کرقرآن ونست کے مطابنق اپنے فیصلے کرنے اور علماء کے رہبری میں آگے بڑھنے کا مشورہ دیا۔
یاد رہے کہ عیدگاہ میں سوا سات بجے عید کی دوگانہ کی گئی جبکہ جامعہ آباد میں واقع عیدگاہ میں امام وخطیب جامع مسجد سیدنا ابراہیم جامعہ آباد کالونی مولانا اسماعیل ندوی کی اقتدا میں نمازِ عید ادا کی گئی۔