بھٹکل میں عید الفطر جوش و خروش سے منائی گئی

بھٹکل (فکروخبر نیوز) بھٹکل میں آج عید الفطر نہایت عقیدت، جوش و خروش اور مذہبی جذبے کے ساتھ منائی گئی۔ عیدگاہ میں نمازِ عید کے موقع پر عوام کا غیر معمولی ہجوم دیکھنے کو ملا، جہاں عیدگاہ کے اندر ہی نہیں بلکہ باہر بھی تا حدِ نگاہ نمازیوں کی صفیں نظر آ رہی تھیں۔

نمازِ عید کے بعد قاضی مرکزی خلیفہ جماعت المسلمین بھٹکل مولانا خواجہ معین الدین ندوی مدنی نے مسلمانوں کو اسلام جیسی عظیم نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرنے اور اس کے احکامات پر مکمل عمل پیرا ہونے کی تلقین کی۔

مولانا نے کہا کہ آج کا یہ بابرکت دن ہمیں اس بات کا پیغام دیتا ہے کہ ہم اپنی آپسی رنجشوں، دشمنیوں اور دلوں میں موجود حسد، کینہ اور بغض جیسی بیماریوں کو ختم کریں۔ عید دراصل دلوں کو جوڑنے، معاف کرنے اور محبت و بھائی چارے کو فروغ دینے کا موقع ہے۔ اس موقع پر ہمیں چاہیے کہ ہم ایک دوسرے کو معاف کریں، دل صاف کریں اور اخوت و یگانگت کے ساتھ ایک نئی شروعات کریں، تاکہ ہمارا معاشرہ امن، محبت اور خیرخواہی کا گہوارہ بن سکے۔

انہوں نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ مسلمان ایسے اعمال سے دور رہیں جسہر سے اسلام اور مسلمانوں کی بدنامی ہو یا دیگر مذاہب کے لوگوں میں اسلام کے خلاف نفرت پیدا ہو۔ مولانا نے واضح کیا کہ اسلام ہی وہ دین ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے کامیابی کا وعدہ فرمایا ہے، لہٰذا ہر مسلمان اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کی فکر کریں۔

خصوصی طور پر نوجوانوں کو نشہ آور اشیاء سے دور رہنے اور اپنی زندگی کو اسلامی اخلاق سے مزین کرنے کی نصیحت کیمض۔ خواتین کو اپنے شوہروں کی عزت کرنے، جبکہ اولاد کو والدین کے ساتھ حسنِ سلوک، ادب و احترام کے ساتھ پیش آنے اور ان کی خدمت کرنے کی تاکید کی گئی۔

مولانا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دینی مسائل کے حل کے لیے مستند علماء سے رجوع کیا جائے اور غیر مصدقہ ذرائع خصوصاً انٹرنیٹ پر انحصار کرنے سے گریز کیا جائے، تاکہ صحیح رہنمائی حاصل ہو سکے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے علماء کے ساتھ مضبوط ربط قائم رکھنے کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔

مولانا نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ناحق کسی کا مال کھانا، خصوصاً قرض لے کر اسے ادا نہ کرنا اور اس کی واپسی کے سلسلے میں بے فکری کا مظاہرہ کرنا، ایک سنگین اخلاقی اور دینی خرابی ہے جس سے سختی سے بچنا ضروری ہے۔ مولانا نے اس بات پر زور دیا کہ اسلام میں امانت داری اور حقوق العباد کی ادائیگی کو بڑی اہمیت حاصل ہے، اور کسی کا حق دبانا یا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا نہ صرف گناہ ہے بلکہ آخرت میں سخت جواب دہی کا سبب بن سکتا ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو تاکید کی کہ وہ مالی معاملات میں دیانت داری اختیار کریں، وقت پر قرض ادا کریں اور دوسروں کے حقوق کا مکمل خیال رکھیں تاکہ ایک صالح اور بااعتماد معاشرہ تشکیل پا سکے۔

اپنے خطاب کے دوران مولانا نے برادرانِ وطن کو بھی اسلام کی حقیقی اور پرامن تعلیمات کو سمجھنے اور اس کے قریب آنے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام محبت، رواداری اور انسانیت کا درس دیتا ہے، اور اس کے اصول تمام انسانوں کی بھلائی کے لیے ہیں۔ مولانا نے اس بات پر زور دیا کہ غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے اسلام کو براہِ راست اس کے مستند ذرائع سے سمجھنا ضروری ہے، تاکہ معاشرے میں باہمی ہم آہنگی، بھائی چارہ اور امن کو فروغ دیا جا سکے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر مولانا نے عالمِ اسلام کے حالات کے پیش نظر امن و سلامتی کے لیے خصوصی دعائیں کیں اور رمضان المبارک کے اختتام پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کی تلقین کی۔

نمازِ عید کے بعد لوگوں نے ایک دوسرے کو گلے مل کر مبارکباد پیش کی- اس موقع پر لوگوں کو ہر طرح کی سہولیات کے لیے وسیع ترانتظامات کیے گیے تھے۔

شیئر کریں۔