مجلس اصلاح و تنظیم کی سہ سالہ میعاد کے لئے انتخابات کا عمل مکمل، کامیاب امیدواروں کی فہرست جاری

بھٹکل کے تاریخی، سو سالہ قدیم اور ملت کے باوقار ادارے مجلسِ اصلاح و تنظیم کے سال 2026 کے عام انتخابات انتہائی جوش و خروش اور نظم و ضبط کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئے۔ ان انتخابات میں جہاں سخت مقابلے دیکھنے کو ملے، وہیں جدید ڈیجیٹل نظام کی شمولیت نے انتخابی عمل کو مزید شفاف اور تیز رفتار بنا دیا۔ انتخابی نتائج کے اعلان کے ساتھ ہی تنظیم کے نئے انتظامی ڈھانچے کی تصویر واضح ہو گئی ہے،

الیکشن کمیشن کی جانب سے صبح 9 بجے ووٹنگ شروع کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم تنظیم دفتر میں ابتدائی تکنیکی خامی کے باعث ووٹنگ کا عمل تقریباً 9:30 بجے شروع ہوسکا۔ جس کے بعد تمام بوتھوں پر ووٹنگ پرامن اور منظم انداز میں جاری رہی۔ ووٹنگ کا عمل شام ساڑھے پانچ بجے تک جاری رہا،انتخابی تفصیلات کے مطابق

مجموعی طور پر 706 ووٹ ڈالے گئے، جس میں حلقہ نمبر 14 سب سے زیادہ 175 ووٹوں کے ساتھ سرفہرست رہا۔ اس کے بعد حلقہ نمبر 2 میں 124 اور حلقہ نمبر 16 میں 90 ووٹ ریکارڈ کیے گئے۔ اگرچہ نتائج کے اعلان سے قبل مرکزی دفتر کے ہال میں معمولی بدنظمی دیکھنے میں آئی، لیکن الیکشن کمیشن اور موقع پر موجود رضاکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے صورتحال کو سنبھال لیا

نتائج کی تقریب کا باضابطہ آغاز مولوی عبداللہ ربیع ندوی کی تلاوتِ کلام پاک سے ہوا، جس کے بعد ڈیجیٹل ڈیش بورڈ پر کامیاب امیدواروں کے ناموں کی نمائش کی گئی۔

منتخب امیدواروں کی تفصیل:

حلقہ نمبر 1:
صدیق توحید (85)، رکن الدین رئیس احمد (85)، رکن الدین عبدالرحمن طارق (84)، محتشم محمد ادریس (84)

حلقہ نمبر 2:
النگرعکاشہ عبدالقادر (122)، شاہ بندری محمد یعقوب (122)، شپائی خلیل الرحمٰن (122)، حاجی فقی محمد شمعون (121)، گنگاولی ارشاد احمد (119)

حلقہ نمبر 7:
کولا سجاد احمد (65)، ائیکری عبدالْباسط (63)

حلقہ نمبر 9:
محتشم محمد قیصر (21)

حلقہ نمبر 10:
مختصر اسماعیل امشاد (53)، میڈیکل عبدالسمیع (42)

حلقہ نمبر 12:
محتشم افضل حسین (42)، آرمار جاوید حسین (32)

حلقہ نمبر 14:
قمری بلال احمد (134)، شاہ بندری عنایت اللہ (133)، رکن الدین عبدالسلام جفری (119)، رکن الدین اشرف علی (118)، شیخ مصباح الحق (101)

حلقہ نمبر 16:
اقبال سہیل (65)، مالکی سید علی (65)، کولا عبدالسمیع (63)

واضح رہے کہ اس سے قبل تنظیم کے 16 حلقوں میں سے 7 حلقوں — حلقہ نمبر 3، 4، 5، 6، 8، 11 اور 15 — سے مجموعی طور پر 15 امیدوار بلامقابلہ منتخب قرار دیے جاچکے تھے۔

اس بار کی انتخابی مہم اور عمل میں سب سے زیادہ توجہ کا مرکز اے آئی ٹی ایم (AITM) کالج کے نوجوان طلبہ، سید صفوان پیرزادہ اور محمد اذان پیشمام کا تیار کردہ ڈیجیٹل ووٹنگ سسٹم رہا۔ الیکشن کمیشن نے ان نوجوانوں کی تکنیکی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس جدید نظام نے انسانی غلطیوں کے امکانات کو ختم کر دیا اور نتائج کی فوری فراہمی کو ممکن بنایا۔ یہ پیش رفت بھٹکل کی مسلم کمیونٹی میں ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے رجحان اور نوجوانوں کی قیادت کی علامت سمجھی جا رہی ہے۔

۔ تنظیم کی نئی منتخب انتظامیہ سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے تین سالہ دور میں قوم کے تعلیمی، معاشی اور سماجی مسائل کو حل کرنے کے لیے جدید تقاضوں کے مطابق حکمتِ عملی مرتب کرے گی۔

شیئر کریں۔