بھٹکل : مسجد طوبیٰ میں آزاد نگر کے شبینہ مکاتب کے مابین حِفظِ منتخب، ناظرہ قرآن اور أدعیہ مأثورہ  کے مسابقہ

بھٹکل (فکروخبرنیوز) مسجد طوبیٰ آزاد نگر کے زیرِ اہتمام آزاد نگر کے جملہ شبینہ مکاتب کے درمیان حِفظِ منتخب، ناظرہ قرآن اور أدعیہ مأثورہ  کے مسابقہ کل رات مسجد طوبیٰ میں کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا۔ اس پروگرام میں مختلف مساجد کے شبینہ مکاتب کے طلبہ نے بھرپور شرکت کی اور بہترین انداز میں اپنے حفظ و قراءت کا مظاہرہ کیا۔

اس مسابقے میں بطور مہمانِ خصوصی آزاد نگر فرینڈس ایسوسی ایشن کے صدر مولانا محمد الیاس ندوی اور جماعت المسلمین منکی اور مہتمم مدرسہ رحمانیہ منکی مولانا شکیل احمد سکری ندوی نے شرکت کی۔
مولانا شکیل شکریٰ ندوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اولاد اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے، مگر یہ نعمت اسی وقت حقیقی بن سکتی ہے جب اس کی درست دینی، اخلاقی اور ایمانی تربیت کی جائے۔
مولانا ندوی نے زور دیا کہ موجودہ حالات میں شبینہ مکاتب بچوں کے ایمان، عقیدہ، نماز اور اسلامی آداب کے تحفظ کا مضبوط ذریعہ ہیں، کیونکہ عصری تعلیمی اداروں میں دینی تعلیم کے مواقع محدود ہو چکے ہیں
مزید کہا کہ بچپن میں کی گئی دینی تربیت ہی مستقبل میں صالح نسل اور مضبوط معاشرے کی ضمانت بنتی ہے، اور اسی پر قوم و ملت کا مستقبل قائم ہے۔

مسابقے کے دوران ممتاز کارکردگی دکھانے والے شبینہ مکاتب کے طلبہ کو انعامات سے نوازا گیا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مولانا محمد الیاس ندوی نے شبینہ مکاتب کی اہمیت اور افادیت پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے موجودہ حالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج ارتداد ایسے راستوں سے آ رہا ہے جن کا تصور بھی مشکل ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسکولوں میں مختلف نت نئے طریقوں سے بچوں کو بے راہ روی کی طرف مائل کیا جا رہا ہے، جس کے اثرات براہِ راست گھریلو ماحول تک پہنچ رہے ہیں۔ مولانا نے اس صورتِ حال کا واحد مؤثر حل شبینہ مکاتب کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہی مکاتب کے ذریعے بچوں کو قرآن و سنت کی تعلیم، اسلامی اقدار اور اخلاقی تربیت سے آراستہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے والدین اور سماج کے ذمہ داران پر زور دیا کہ وہ شبینہ مکاتب کو مضبوط بنانے میں بھرپور تعاون کریں۔