بھٹکل: اہم شاہراہ کا مسئلہ، سوال برقرار!

بھٹکل (فکروخبرنیوز) اہم قومی شاہراہ پر پے در پے پیش آنے والے سڑک حادثات نے اب محض تشویش ہی نہیں بلکہ عوام کے دلوں میں خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ شاہراہ ایک خطرناک راستہ بنتی جا رہی ہے اور تازہ مثال وینکٹاپور کراس کی ہے، جہاں دیا گیا موڑ اس قدر اچانک اور غیر سائنسی ہے کہ سواری اگر معمولی سی بھی غلطی کر بیٹھے تو حادثہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔ یہاں نہ صرف سیدھا آگے بڑھنا خطرناک ہے بلکہ اچانک دائیں طرف موڑ لینا بھی جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔

ابھی کل ہی وینکٹاپور کراس پر مہاراشٹرا کی ایک لاری موڑ کاٹنے کے دوران الٹ گئی، جس میں ڈرائیور کو شدید چوٹیں آئیں۔ زخمی ڈرائیور نے بتایا کہ اس خطرناک موڑ سے قبل نہ کوئی بیریگیڈ نصب ہے اور نہ ہی رفتار کم کرنے کے لیے اسپیڈ بریکر کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس پر مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ موڑ سے پہلے سڑک بالکل سیدھی ہے، جس کے باعث سواریاں پوری رفتار سے آگے بڑھتی ہیں اور اچانک سامنے آنے والا موڑ حادثے کو دعوت دیتا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے شرالی کا قدیم پل سواریوں کے لیے بند ہے، جس کے باعث تمام ٹریفک کو نئے پل کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔ اس ڈائیورشن کی وجہ سے وینکٹاپور ڈاؤن کے قریب ایک ہی راستہ رہ گیا ہے جہاں سے گاڑیاں آتی بھی ہیں اور جاتی بھی ہیں۔ پل عبور کرنے کے بعد سڑک کو بائیں جانب موڑ دیا گیا ہے، جہاں اس سے قبل بھی کئی سڑک حادثات پیش آچکے ہیں اور قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔

اہم شاہراہ کا یہ مسئلہ اب حد درجہ سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔ روزانہ اس راستے سے گزرنے والے مسافر، مزدور، طلبہ اور دیگر شہری شدید ذہنی دباؤ اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ ان تکالیف کو الفاظ میں بیان کرنا بھی مشکل ہوچکا ہے جن سے عوام کو روزانہ دوچار ہونا پڑ رہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا قدیم پل کے مسئلے کا کوئی مستقل حل موجود نہیں؟ یا پھر عوام کو اسی طرح خطرناک ڈائیورشن، ناقص منصوبہ بندی اور عارضی انتظامات کے ساتھ جینے کا عادی بنا دیا گیا ہے؟ یہ کب تک قومی شاہراہ پر اسی طرح کام چلاؤ نظام کے تحت حالات سے سمجھوتہ کیا جاتا رہے گا، اور کب عوام کو واقعی راحت نصیب ہوگی؟