مولانا محمد ناصر سعید اکرمی
بانی و ناظم معہد الامام حسن البنا بھٹکل
مورخہ 23 محرم الحرام 1448ھ مطابق 8 جولائی 2026 ء کو مغرب کے فورا بعد حافظ محمد اشفاق صاحب ہم سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہو کر اللہ کے دربار میں پہنچ گئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون
راقم نے اس دن مغرب کی نماز مدینہ مسجد میں پڑھی، نماز کے بعد لوگوں میں چہ میگوئیاں شروع ہوئیں،وہ ایک دوسرے کو حافظ اشفاق کی وفات کی خبر دے رہے تھے، راقم نے سنا تو اول وہلہ میں یقین نہیں آیا پھر کچھ دیر بعد سوشل میڈیا پر بھی خبر آگئی۔
مرحوم بیمار نہیں تھے، صحت مند تھے، جامعہ اسلامیہ میں اپنی ڈیوٹی پر تھے، دوپہر تین ساڑھے تین بجے کے آس پاس ان کے سینے میں درد اٹھا تو فوراً ہسپتال لے جایا گیا، درد اتنا شدید تھا کہ جاں بر نہ ہوسکے اور اپنی جان جان آفریں کے سپرد کر دی۔
اللہ تعالی نے موت کے لیے ایک وقت مقرر کیا ہے جس کو قرآن اجل سے تعبیر کرتا ہے، پوری انسانیت کے لیے بلکہ درندوں، پرندوں سب کے لیے اجل مقرر ہے، اسی وقت وہ اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے۔
حفظ میں داخلہ:
حافظ اشفاق کے گھر والے بالخصوص ان کے والد مرحوم چاہتے تھے کہ ان کا بصارت سے محروم یہ بچہ حافظ قرآن بن جائے، اس لیے انہوں نے اس کو جامعہ میں شعبہ حفظ میں داخلہ کرا دیا، ابتدا میں جامعہ کے ذمہ دار نابینا ہونے کی وجہ سے داخلہ دینے کے لیے تیار نہیں ہوئے، اس خیال سے کہ اس کو لانے لے جانے اور پڑھانے کی ذمہ داری لینا مشکل بھی ہے اور مستقل ایک کام بھی، اس لیے ان کا داخلہ مشکل میں پڑگیاتھا، جب سرپرست کی طرف سے اصرار بڑھتا گیا تو ذمہ داروں نے داخلے کی ہامی بھر لی،اس وقت درجہ حفظ میں حافظ شمیم صاحب اپنی خدمات پیش کررہے تھے، انھوں نے یہ ذمہ داری قبول کی بلکہ خود بڑھ کر اس کو اپنے ذمے لیا اور اس پر خصوصی توجہ دی اور خارجی اوقات میں بھی پڑھایا۔
جب اشفاق صاحب مکمل حافظ قرآن بن گئے تو گھر والے اپنے اور پرائے سب نے اشفاق کے حافظ ہونے پر خوشی کا اظہار کیا اور ان کواور ان کے استاد کو مبارک باد پیش کرنے لگے، اس اعتبار سے حافظ اشفاق کو جامعہ کے سب سے پہلے نابینا حافظ قرآن ہونے کا شرف حاصل ہو گیا۔
پھر سال دو سال کے بعد ان کا جامعہ اسلامیہ کے شعبہ حفظ میں تقرر بھی ہوا، اس وقت سے لے کر وفات کے چند گھنٹے قبل تک اشفاق صاحب اس عظیم خدمت کو انجام دیتے رہے،یہ جامعہ کا غالباً پہلا واقعہ ہے کہ کسی مدرس نے اپنی ڈیوٹی دیتے ہوئے وفات پائی ہو، مرحوم اشفاق کی جامعہ میں داخلہ دینے کے سلسلے میں مولانا محمد صادق اکرمی دامت برکاتہم کی بھی سفارش رہی ہے جیسا کہ اشفاق مرحوم کے درس حفظ کے ساتھی حافظ مبین ائیکری صاحب نے راقم کوبتایا۔
حافظ اشفاق مرحوم نے تقریبا30 سال تک درجہ حفظ میں تدریسی خدمات انجام دیں،ڈیوٹی کی بڑی پابندی کرتے اوردرجے کا بہت کم ناغہ کرتے، اللہ تعالی شرف قبولیت بخشے۔
حافظ ا شفاق خوبصورت آواز سے تلاوت کرتے تھے، آواز میں سوز اور درد تھا،خوش الحانی کے ساتھ ساتھ تجوید کا پورا لحاظ کرتے ہوئے پڑھتے تھے، راقم کو ان کی آواز بہت پسند تھی، کئی بار ایسا ہوا ہے کہ ہمارے محلے کی مسجد”مسجد سیدنا ابوبکر“میں مصلیوں کو جمع کر کے حافظ صاحب کی قرأت سننے اورسنانے کے مواقع حاصل ہوئے ہیں۔
ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ مولانا عبدالباری مرحوم کے دور اہتمام میں عرب جماعت جامعہ میں تشریف لائی، اس وقت جماعت کے ساتھ مولانا غزالی مرحوم بھی موجود تھے، مہتمم صاحب نے جماعت کو جامعہ دکھانے کی ذمہ داری اس راقم کے سپرد کی توان کوکتب خانہ، مسجدوغیرہ دکھاتے ہوئے درجہ حفظ میں لے گیا،اس وقت صدر مدرس حافظ کبیر الدین صاحب تھے، راقم نے حافظ اشفاق صاحب سے کہا کہ عرب جماعت آپ سے ملنے آئی ہے، ٓاپ کچھ پڑھ کر سنائیے،ہم نے اس وقت سورۂ ق سنانے کی درخواست کی تو انھوں نے ایسی درد بھری آواز سے سنائی کہ جماعت والوں کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے،مولانا غزالی صاحب کی آنکھیں بھی ڈبڈبا گئیں اور حقیقت بھی یہی ہے کہ حافظ صاحب کی آوازاور سوزو درد بھراانداز سننے والوں کو رلائے بغیر نہیں رہتاتھا اب وہ آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی۔
حافظ اشفاق صاحب مرحوم اپنے محلے کی مسجد قاضیا میں تین وقت کی امامت بھی کرتے تھے، رمضان میں تراویح پڑھانے کا معمول تھا،جب معاش کا مسئلہ حل ہوگیا تو اس دوران ان کی شادی ہوئی،ایک بچہ بھی ہوا،جس کی عمر 13 سال ہے، جامعہ اسلامیہ میں زیرتعلیم ہے، اللہ تعالی اس کو تعلیم مکمل کرنے کی توفیق دے اور بیوہ ماں کا سہارا بنائے، اشفاق کے دو اوربھائی ہیں،بڑے بھائی کا انتقال ہو گیا ہے، گویا تین بھائیوں میں دو چلے گئے اب ایک رہ گئے ہیں،دو بہنیں ہیں جوبقید حیات ہیں، والد اور والدہ دونوں وفات پا چکے ہیں،اللہ تعالی ان سب کی مغفرت فرمائے۔
تجہیزو تکفین:
دوسرے دن یعنی بدھ کو صبح دس بجے تدفین عمل میں آئی، جنازہ جامع مسجد میں لایا گیا ، اس دن جامعہ میں تعطیل رہی، طلبہ واساتذہ سب شریک رہے، قاضی بھٹکل مولانا عبدالرب صاحب خطیبی نے نماز پڑھائی اور بھٹکل کے قدیم قبرستان میں سپرد خاک کیے گئے۔ اللّٰہم اغفر لہ وارحمہ
حافظ اشفاق کے استاد حافظ شمیم صاحب مرحوم:
حافظ اشفاق مرحوم کے استاد حافظ شمیم صاحب بہار کے کسی علاقے میں 1963 میں پیدا ہوئے، بچپن ہی سے صالح، محنتی اور جفا کش تھے، ابتدائی تعلیم کے بعد گھر والوں نے ان کو درجہ حفظ میں داخل کر دیا،وہاں ایک مشہور مدرسہ ”مدرسہ عزیزیہ حنفیہ“کے نام سے تھا، اس مدرسے میں شمیم صاحب نے اپنا حفظ مکمل کیا، ان کے حفظ کے استاد حافظ اسلام الدین تھے، بڑے محنتی اور بچوں کے ساتھ پیار و شفقت کا معاملہ کرتے تھے، بچوں پر ان کی نگرانی اور محنت کا یہ نتیجہ ہوتا کہ بچے ان کے پاس اپنا حفظ کم وقت میں مکمل کرتے،حافظ اسلام الدین اپنے ماتحت بچوں پر اخلاقی نگرانی اور ان کی تربیت کرنے میں ممتاز مانے جاتے تھے،آپ بھی اسی علاقے کے رہنے والے تھے جس مدرسے میں ہمارے شمیم صاحب نے حفظ قرآن کے لیے داخلہ لیا،یہ مدرسہ اس علاقے کا بہت مشہور و معروف مدرسہ مانا جاتا تھا،وہاں کے لوگ اپنے بچوں کو اس مدرسے میں داخل کرنا پسند کرتے تھے، حافظ جب اپنا حفظ مکمل کر لیتا ہے اس کو دور کرنا لازمی ہوتاہے، دور کرنے کے بعد ہی حفظ پختہ ہوتا ہے ورنہ غیر پختہ اور کچا رہتا ہے، حافظ جتنا پڑھتا جاتاہے اتنا اس کا حفظ پختہ اور مضبوط ہوجاتا ہے، جو حافظ قرآن کی تلاوت اور دورکا معمول نہیں کرتا۔اس کا حفظ پختہ نہیں رہتا۔ حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:عن أبی موسی عن النبی ﷺ قال: تعاھدوا القرآن، فوالذی نفسی بیدہ لھو أشد تقصیّا من الإبل فی عقلھا۔(رواہ البخاری:5033)
ترجمہ: قرآن کاخیال رکھو(پڑھتے رہو)، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے وہ اونٹ کے اپنی رسی تڑوا کر بھاگ جانے سے زیادہ تیزی سے بھاگتاہے(یعنی نہ پڑھنے سے بھول جاتاہے)۔
ہمارے حافظ شمیم صاحب نے جن کے پاس اپنا دور کیا اور قرآن سنایا ان کا نام حافظ رضوان تھا، وہ نابینا تھے، انھوں نے ایک لمبی عمر پائی، وفات کے وقت 125 سال کی عمر تھی اور اس طرح وہ”خیرکم من طال عمرہ وحسن عملہ“ (یعنی تم میں بہتر وہ شخص ہے جس کی عمر لمبی ہو اور ساتھ ہی ساتھ اس کے اعمال بھی اچھے ہوں)کے مصداق لوگوں میں شامل ہو گئے۔
بھٹکل آمد:
حافظ شمیم صاحب ذریعہ معاش کی خاطر بھٹکل تشریف لائے، ابتدا میں چند سال مدرسہ تعلیم القران تینگنگنڈی میں تدریسی خدمات انجام دیں، اس کے بعد جامعہ اسلامیہ میں کئی سال تدریسی خدمات انجام دینے کا موقع ملا، بہت سے بچوں کو آپ نے اپنی محنت سے حافظ بنایا، جب تک جامعہ میں رہے نیک نامی کے ساتھ درجات کی پابندی کے ساتھ رہے، 1986 عیسوی میں شادی کی،بچے ہوئے،آپ کی اہلیہ محترمہ مالیگاؤں کی ہیں، وہ کئی سال جامعۃ الصالحات بھٹکل کی معلمہ رہیں، محترم محی الدین منیری صاحب کے توسط سے وہ بھٹکل آئی تھی، کئی سال انھوں نے یہاں بچیوں کوپڑھایا، ان کی بہت سی طالبات بھٹکل میں ہیں، اب وہ مالیگاؤں ہی کے کسی مدرسے میں پڑھارہی ہیں۔
ادھر ماہ شعبان 1447ھ میں راقم نے ان کو معہد حسن البناء بھٹکل کے زیر اہتمام جامعۃ الطیبات کے تکمیل حفظ قرآن کے جلسے میں مدعوکیاتھا، اس سال بیس بچیوں نے حفظ کی سعادت حاصل کی تھی، ”سکون ہال“ میں بڑا جلسہ ہوا، اس موقع پرکثیر تعداد میں خواتین جمع تھیں، اللہ تعالیٰ شکیلہ صاحبہ کو صحت وعافیت کے ساتھ تادیر سلامت رکھے اوران کو بھٹکل میں ان کی خدمات کابہترین صلہ اللہ تعالیٰ کی طر ف سے عطاہو، محترمہ اپنے بال بچوں کے ساتھ مالیگاؤں میں رہتی ہیں، ایک لڑکا اسماعیل ہے،وہ بھی ماشاء اللہ بااخلاق اور تعلیم یافتہ ہے، وہاں کسی کالج میں پڑھاتے ہیں،بات چل رہی تھی حافظ شمیم صاحب کی۔
مسقط روانگی:
حافظ شمیم صاحب معاش کی ترقی کے پیش نظر بھٹکل سے 1994ء میں مسقط چلے گئے، وہاں آپ نے 2000ء میں حفظ قرآن کا ایک مدرسہ قائم کیا، جوآج بھی چل رہا ہے، حافظ صاحب جہاں بھی رہے نیک نامی کے ساتھ رہے، اللہ تعالیٰ نے ان سے اچھا کام لیا، کم گوتھے، کام سے کام رکھتے تھے، خوش اخلاق، خوش مزاج تھے، قدکچھ لمبا تھا، جسم مضبوط اورتوانا تھا، چوں کہ راقم بھی اسی جامعہ اسلامیہ میں استاد تھا، جہاں حافظ صاحب تھے، اس لیے اکثر ملاقاتیں اورعلیک سلیک، ہنسی مذاق اوردل لگی ہوتی رہتی تھی۔
وفات:
حافظ صاحب کی وفات19/ نومبر2016ء مسقط میں ہوئی اوراچانک دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے ہوئی، غالباً بیوی بچے بھی وہیں مسقط ہی میں تھے، بہرحال مسقط کی سرزمین حافظ صاحب کے لیے مقدر تھی، اس لیے وہ وہیں سپرد خاک کیے گئے،اسی طرح وہ اپنی تمام یادوں کواپنے پیچھے چھوڑکر ہمیشہ کے لیے رخصت ہوگئے، اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔ آج ان کے شاگرد حافظ اشفاق کی اچانک وفات سے ان کی یاد تازہ ہورہی ہے، اس لیے یہ چند سطور لکھنے کی سعادت حاصل ہورہی ہے۔
کچھ باتیں بصارت سے محروم لوگوں کے بارے میں:
”بصارت کھوگئی لیکن بصیرت تو سلامت ہے“ کے مصداق دنیا میں ایسے لوگ بھی گزرے ہیں جو آنکھ جیسی نعمت نہ ہوتے ہوئے ایسے کارنامے انجام دے کر دنیا سے رخصت ہوگئے، جن کو سن کر آدمی حیرت واستعجاب میں کھوجاتاہے، جلد یقین کرنامشکل ہوجاتاہے، ان حضرات کی ایک لمبی فہرست ہے جنھوں نے آنکھ نہ ہوتے ہوئے بھی جہدومحنت کواپنا وظیفہ بنایا، اوربہت سے ایسے اچھے کام اپنے پیچھے بطور یادگار چھوڑگئے کہ آج بھی دنیا ان کے علم سے استفادہ کررہی ہے، ان میں سب سے نمایاں نام حضرت قتادہ کاہے، یہ وہ نابینا تھے، جنھوں نے فن تفسیر میں بڑا مقام پیداکیا اوراس کے ساتھ کئی علوم وفنون میں مہارت حاصل کی، ان کے بارے میں مشہورہے کہ وہ کوئی حدیث یاکوئی بات ایک مرتبہ سن لیتے تووہ حافظے میں محفوظ ہوجاتی، پھر زندگی بھراس کو نہیں بھولتے تھے، اسی طرح زبیر بصری، ابوجعفر نحوی وغیرہ، یہ سب بصارت سے محروم لوگ تھے، ان میں ادباء بھی ہوئے اورشعراء بھی اورفن حدیث اورصرف ونحوکے بڑے امام بھی ہوئے۔
بشار ایک مشہور شاعرتھے، بغداد کے خلیفہ مہدی ان کی بڑی تعریف کرتے تھے، وفات کے وقت ان کی عمر 90/سال کی تھی۔ اسی طرح زبیر بصری، ابومعاویہ، حماد بن زید، حافظ علامہ ابوعمر، مشہور شاعر ابن منصور، ابو العلاء المعری وغیرہ،یہ سب بصارت سے محروم لوگ تھے،لیکن ان میں کوئی شاعر ہوا، کوئی ادیب،کوئی محدث ہوا توکوئی مفسر۔
اب تونابینا ؤں کے مدرسے بھی ہیں، ان کی ٹرینگ ہوتی ہے، سڑک پر اکیلے چلتے کیا ہیں، دوڑتے بھی ہیں، سیڑھیاں چڑھنا اوراترنا، کار، اسکوٹر چلانا سب جانتے ہیں،اب تو ایک ایسا قرآن بھی تیارکیا گیا ہے جس کے حروف ابھرے ہوئے ہوتے ہیں ان پر نابینا ہاتھ رکھ کرآسانی سے پڑھ لیتے ہیں، جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے کتب خانے میں بھی اس کے کچھ پارے موجود ہیں۔
بہرحال نابینا حضرات کے حافظے مضبوط اورقوی ہوتے ہیں، ایک عضو کی قوت کھونے کے بعداس کی قوت دوسرے عضومیں منتقل ہوجاتی ہے، اللہ تعالیٰ نے بصارت سے محروم لوگوں کوجنت کی خوش خبری سنائی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا :”إذا بتلیت عبدي بحبیتیہ فصبر عوضتہ بھما الجنۃ“(بخاری) اللہ فرماتاہے جب میں اپنے بندے کی دومحبوب چیزیں (آنکھیں) لے کر آزماتاہوں اوروہ اس پر صبر کرتا ہے تومیں اس کو ا س کے بدلے جنت عطاکرتا ہوں۔
یہ خوش خبری اللہ تعالیٰ نے نابینا حضرات کو سنائی، اس سے بڑھ کر خوش خبری اورکیا ہوسکتی ہے کہ جس کے بدلے میں جنت مل جائے، لیکن شرط یہ ہے کہ وہ اس پر صبر کرے اوراللہ تعالیٰ کی بندگی اورشکر گزاری میں اپنا وقت صرف کرے۔




