بھٹکل: ایک شہر ، ایک عید — اتحاد کی ایک زندہ مثال

از : محمد طلحہ سدی باپا
بھٹکل پر صبح کی روشنی ابھی پوری طرح پھیلی بھی نہ تھی کہ شہر ایک خاموش عزم کے ساتھ جاگ اٹھا۔ فجر کی نماز کے فوراً بعد گلیاں سفید لباس میں ملبوس لوگوں سے بھرنے لگیں، جو شہر کے ہر کونے سے ایک ہی سمت—عیدگاہ—کی طرف بڑھ رہے تھے۔ نہ کوئی اعلان، نہ کوئی جلدی—بس ایک مشترکہ آہنگ، گویا پورا شہر ایک ہی دھڑکن کے ساتھ چل رہا ہو۔
عید گاہ سے اواز بلند ہونے لگی —اللہ اکبر، اللہ اکبر—اور مجمع نے یک زبان ہو کر اس کا جواب دیا۔ یہ محض تکبیر نہ تھی، بلکہ ایک ایسی موج تھی جو بلند ہو کر فضا میں پھیل گئی، اور ماحول کو ایک نایاب سکون سے بھر دیا۔
عیدگاہ پہلے ہی ہزاروں افراد سےبھری ہوئی تھی، مگر لوگوں کی آمد جاری تھی۔ صفیں بنتی گئیں، نگاہ کی حد سے بھی آگے تک پھیلتی چلی گئیں۔ نہ کوئی ہدایت، نہ کوئی نگرانی—پھر بھی نظم اور ترتیب اپنی جگہ قائم تھی۔
اس لمحے بھٹکل محض عید کی تیاری میں مصروف ایک شہر نہ تھا، بلکہ ایک ایسا معاشرہ تھا جو حقیقی معنوں میں ایک وحدت کی شکل میں جمع ہو چکا تھا۔
چاند کی رویت اور قاضی صاحبان کا اتحاد
بھٹکل میں عید کی روانی عیدگاہ سے نہیں، بلکہ چاند کی رویت سے شروع ہوتی ہے—اور اس سے بھی بڑھ کر ان شخصیات سے جو اس کا اعلان کرتی ہے۔
اس سال ۲۹ رمضان کو جب کیرالہ کے ضلع ملاپورم سے چاند نظر آنے کی اطلاعات موصول ہوئیں، تو یہ خبر بھٹکل تک پہنچی۔ بھٹکل ہلال کمیٹی اورہلال کمیٹی ملاپورم اورملاپورم کے قاضی صاحب سےتصدیق کے بعد، جلد ہی بھٹکل کے قاضی صاحبان نے باقاعدہ طور پر عید کا اعلان کر دیا۔ یہ اعلان مساجد، اعلانات اور زبانی پیغامات اور سوشل میڈیا اور واٹس ایپ کے ذریعےتیزی سے پھیل گئیں اور پورے شہر میں عید کی خبر پھیل گئی مساجد میں بچے مائک پر عید کی تکبیرات پرھنی شروع کی اور پورا شہر عید کی تکبیرات سے گونجنے ؎ لگا۔
بھٹکل کی خاص بات صرف چاند کی رویت کو قبول کرنا نہیں، بلکہ وہ سکون اور وضاحت ہے جو دیگر مقامات پر اکثر نظر نہیں آتی۔
خاص طور پر قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس شہر میں دو قاضی ہیں—ایک ایسی حقیقت جو بہت سی جگہوں پر اختلاف یا الگ الگ فیصلوں کا سبب بن سکتی ہے۔ مگر بھٹکل میں دونوں دینی قائدین غیر معمولی ہم آہنگی کے ساتھ کام کرتے ہیں، باہمی احترام اور مشترکہ فہم کو برقرار رکھتے ہوئے۔ ان کی یکجہتی اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ عید جیسے اہم موقع پر پوری برادری کو ایک واضح اور متفقہ فیصلہ ملے۔
یہاں نہ کوئی متضاد اعلان ہوتا ہے، نہ الگ الگ عیدیں ۔
ایک ایسے دور میں جب مذہبی معاملات بھی اختلاف کا سبب بن جاتے ہیں، بھٹکل خاموشی سے ایک مختلف مثال پیش کرتا ہے—جہاں قیادت برتری کے بجائے ہم آہنگی کو ترجیح دیتی ہے، اور اختلاف کے بجائے اتحاد کو۔
اسی کا نتیجہ اگلی صبح صاف نظر آتا ہے: ایک شہر، ایک عید—سب مل کر۔
عیدگاہ کی جانب پیدل سفر (جلوس)
اس اجتماعی حرکت کے مرکز میں ایک قدیم اور زندہ روایت ہے۔ عید کا جلوس باقاعدہ طور پر سٹی جامع مسجد سے شروع ہوتا ہے، جہاں لوگ جمع ہوتے ہیں اورعیدگاہ کے خطیب کے ہمراہ منظم انداز میں عیدگاہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔ جیسے جیسے یہ قافلہ آگے بڑھتا ہے، مختلف محلوں سے لوگ اس میں شامل ہوتے جاتے ہیں—گلی گلی، کوچہ کوچہ—یہاں تک کہ یہ جلوس خود ایک بڑھتا ہوا دریا بن جاتا ہے، عبادت گزاروں کا ایک ایسا دریا جو ایک ہی سمت اور ایک ہی مقصد کے ساتھ بہہ رہا ہوتا ہے۔
اس عمل میں ایک گہری علامتی معنویت پوشیدہ ہے۔
ایک ایسے دور میں جو رفتار اور سہولت کا اسیر ہے، جہاں گاڑیاں آسانی سے اس سفر کی جگہ لے سکتی ہیں، بھٹکل آج بھی عیدگاہ تک پیدل جانے کی اس خاموش روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ یہ صرف منزل تک پہنچنے کا معاملہ نہیں، بلکہ ایک ساتھ پہنچنے کا سفر ہے۔
بزرگوں کو وہ زمانہ یاد ہے جب عیدگاہ شہر کے کنارے واقع تھی—کشادہ، کھلی اور ایک طویل مگر بامعنی پیدل سفر کے بعد پہنچا جاتا تھا۔ آج شہر اس کے گرد پھیل چکا ہے، جگہ محدود ہو گئی ہے، مگر پیدل چلنے کی روایت اب بھی قائم ہے، جو ماضی سے ایک زندہ رشتہ برقرار رکھتی ہے۔
راستے میں گفتگو کم ہوتی ہے۔ فضا میں بس عید کی تکبیر کی گونج ہوتی ہے—اللہ اکبر، اللہ اکبر—جو یک زبان ہو کر چلتے ہوئے مجمع سے بلند ہوتی ہے، اور اس سفر کو خود ایک عبادت میں بدل دیتی ہے۔
عظیم اجتماع: تمام مسالک، ایک نماز
جب بھٹکل پر سورج پوری طرح طلوع ہوتا ہے تو عیدگاہ انسانوں کے ایک وسیع سمندر میں بدل چکی ہوتی ہے۔ صفیں نہایت ترتیب کے ساتھ زمین پر پھیل جاتی ہیں اور آنے والوں کے ساتھ مسلسل بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ ان صفوں میں کوئی امتیاز نہیں عید کی تکبیرات کی گونج ہر طرف سنائی دیتی ہے —نہ مخصوص جگہیں، نہ کوئی نمایاں درجہ بندی—بس ایک خاموش نظم و ضبط، جہاں ہزاروں افراد اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے کی تیاری کر رہے ہوتے ہیں۔
اس اجتماع کی اصل عظمت صرف اس کے حجم میں نہیں، بلکہ اس کی ساخت میں پوشیدہ ہے۔بھٹکل میں مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے مسلمان—سنی، بریلوی، دیوبندی اور سلفی—سب ایک ہی عیدگاہ میں، ایک ہی نماز ادا کرتے ہیں۔ ملک کے کئی حصوں میں یہی اختلافات الگ الگ اجتماعات کا سبب بنتے ہیں، بعض اوقات ایک ہی علاقے میں بھی۔ مگر یہاں یہ اختلافات اپنی جگہ تسلیم شدہ ہونے کے باوجود تقسیم کا سبب نہیں بنتے۔
یہ سب کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوتے ہیں۔
جب صفیں درست کی جاتی ہیں تو یہ منظر ایک واضح پیغام بن جاتا ہے۔ تعبیر، پس منظر اور وابستگی کے فرق خاموشی سے ایک بڑے مقصد میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔ باقی رہتا ہے تو بس ایک رخ، ایک نیت اور ایک مشترکہ لمحہ۔
امام نماز کے لیے تکبیر کہتا ہے، اور پل بھر میں ہزاروں افراد ایک ساتھ حرکت میں آ جاتے ہیں—رکوع، سجدہ، قیام—ہر عمل پورے میدان میں ایک جیسا نظر آتا ہے۔ یہ صرف ہم آہنگی نہیں، بلکہ اجتماعی بندگی کا حسین اظہار ہے۔
دیکھنے والے کے لیے یہ منظر سادہ بھی ہے اور گہرا بھی۔
ایک ایسے وقت میں جب اتحاد پر گفتگو ہوتی ہے، بحث ہوتی ہے اور کبھی اس کا مطالبہ کیا جاتا ہے، بھٹکل ایک مختلف سبق پیش کرتا ہے—ایسا سبق جو کسی اسٹیج سے نہیں، بلکہ زمین پر عمل کے ذریعے دیا جاتا ہے۔
یہاں اتحاد کوئی خیال نہیں۔
یہ ایک نظر آنے والی حقیقت ہے۔
عید کا خطبہ، انتظامیہ اور رضاکار: اجتماع کے پسِ پردہ قوت
نماز کے اختتام کے بعد جب صفیں آہستہ آہستہ سنبھلیں، تو توجہ عید کے خطبے کی طرف مبذول ہوئی—وہ لمحہ جو اس جشن کو حقیقی معنویت عطا کرتا ہے۔
خطیب عیدگاہ ،حضرت مولانا خواجہ اکرمی ندوی مدنی ، نے اس وسیع اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایک ایسا پیغام دیا جو روحانی بھی تھا اور سماجی بھی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ عید محض ایک مہینے کی عبادت کا اختتام نہیں، بلکہ رمضان میں سیکھی گئی اقدار—نظم و ضبط، صبر، ہمدردی اور اللہ کا گہرا شعور—کو آگے بڑھانے کا نام ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ روح عید کے بعد بھی برقرار رکھی جائے، بھائی چارے کو مضبوط کیا جائے، اور انصاف، عاجزی اور خدمتِ خلق کے اصولوں پر قائم رہا جائے۔
مولانا خواجہ نے مقامی پولیس انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے سکیورٹی ا فراہم کی اور سکون سے عید کی دوگانہ اجتماعی طور پر پرسکون ماحول مین اداکرنا ممکن بنیایا ۔ اسی طرح مقامی والینٹیرس کی انتھک محنت کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا، جن کی خاموش مگر مؤثر نگرانی—ہجوم کی رہنمائی، صفوں کی ترتیب اور نظم و ضبط کی برقراری—میں اہم کردار ادا کیا ۔
عید کی اس ظاہری وحدت کے پیچھے ایک مضبوط اور منظم نظام بھی کارفرما تھا، جو اکثر نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔
صبح سویرے ہی والینتیرس مختلف داخلی راستوں پر تعینات ہو گئے تھے، جو آنے والے لوگوں کی رہنمائی کرتے، نظم برقرار رکھتے اور مقام کی حرمت کا خیال رکھتے تھے۔ ساؤنڈ سسٹم، جس کے ذریعے تکبیر کی آواز پورے عیدگاہ میں گونج رہی تھی، نے اجتماع کو ہم آہنگ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا—ہزاروں افراد کو ایک ساتھ تکبیر کہنے کا موقع دیا، جس سے فضا میں ایک روحانی اور پُرسکون تاثیر پیدا ہوئی۔
اتنے بڑے اجتماع کے باوجود تمام انتظامات نہایت پُرامن اور منظم رہے، جو صرف انتظامی صلاحیت کا نہیں بلکہ ایک ایسے معاشرے کا عکس ہے جو مل جل کر کام کرنے کا عادی ہو۔
یوں اس اجتماع کی کامیابی صرف تعداد میں نہیں، بلکہ اس تعاون کے جذبے میں مضمر تھی جو قیادت سے لے کر والینٹیرس تک، اور افراد سے لے کر پوری برادری تک پھیلا ہوا تھا۔

بھٹکل — ایک معاشرتی خاکہ (اتحاد کی جڑیں)
اس عظیم عید کے اجتماع کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے بھٹکل کو سمجھنا ضروری ہے۔
کرناٹک کے ساحلی خطے میں واقع بھٹکل ایک ایسا شہر ہے جہاں شناخت اور اجتماعی زندگی ایک دوسرے سے گہری طرح جڑی ہوئی ہیں۔ یہاں کی آبادی کا بڑا حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے، خصوصاً نوائط برادری، جو اپنی قدیم روایات،اپنے اسلاف کو عربوں سے جوڑتی تاریخ اور حالیہ دنوں میں خلیجی ممالک سے روزگار اور تجارت سے جڑے رہنے کے لیے جانی جاتی ہے۔
صدیوں کے سفر میں بھٹکل نے نہ صرف ایک تجارتی مرکز کے طور پر بلکہ عصری و دینی تعلیم، دینی شعور اور سماجی تنظیم کے ایک اہم مرکز کے طور پر بھی اپنی شناخت قائم کی ہے۔ مساجد، مدارس اور سماجی ادارے یہاں محض عبادت یا تعلیم کے مقامات نہیں، بلکہ وہ جگہیں ہیں جہاں ایک مشترکہ شناخت مسلسل پروان چڑھتی ہے۔
یرونِ ملک روزگار نے معاشی استحکام میں بھی کردار ادا کیا ہے، مگر بھٹکل کی اصل پہچان اس کی معاشی حیثیت نہیں بلکہ اس کی سماجی ہم آہنگی ہے۔ فکری و عملی تنوع کے باوجود یہاں مشاورت، دینی قیادت کے احترام اور اجتماعی فیصلوں کی مضبوط روایت قائم رہی ہے۔
یہ ہم آہنگی روزمرہ زندگی میں بھی نظر آتی ہے—مگر عید جیسے مواقع پر یہ اپنی مکمل شکل میں سامنے آتی ہے۔
مختلف مسالک، پیشوں اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد کا بغیر کسی تصادم کے ایک ساتھ جمع ہونا محض اتفاق نہیں، بلکہ ایک طویل سماجی تربیت کا نتیجہ ہے—جہاں اتحاد کو اہمیت دی جاتی ہے، اس کی حفاظت کی جاتی ہے، اور اسے شعوری طور پر زندہ رکھا جاتا ہے۔
بھٹکل میں شناخت مختلف خانوں میں بٹ کر کمزور نہیں ہوتی، بلکہ ایک مشترکہ فہم کے ساتھ جڑی رہتی ہے—جہاں اختلاف اپنی جگہ موجود ہو سکتا ہے، مگر تقسیم ضروری نہیں بنتی۔
اور یہی فہم عیدگاہ میں اپنی سب سے طاقتور صورت میں جلوہ گر ہوتا ہے۔
ایک ایسی وحدت جو اپنی جگہ سے بڑی ہو رہی ہے
اس پرشکوہ اتحاد کے مظہر کے اندر ایک خاموش مگر ابھرتی ہوئی تشویش بھی موجود ہے۔ وہ عیدگاہ جو کبھی پورے شہر کو سمیٹ لینے کی صلاحیت رکھتی تھی، اب بتدریج محدود محسوس ہونے لگی ہے۔ سال بہ سال بڑھ رہی نمازیوں کی تعداد اور عیدگاہ جگہ اس بڑھتے ہوئے ہجوم کو سنبھالنے میں دشواری محسوس کر رہی ہےاور عیدگاہ اپنی تنگ دامانی کا زبان حال سے اعلان کر رہا ہے۔
بزرگ ایک مختلف زمانے کو یاد کرتے ہیں۔ جب عیدگاہ شہر کے کنارے واقع تھی—کشادہ، کھلی اور ہر طرح کی تنگی سے آزاد۔ آج شہر اس کے گرد پھیل چکا ہے؛ جو کبھی حاشیہ تھا، اب مرکز بن چکا ہے—اور اس کے ساتھ شہری پھیلاؤ کی لازمی محدودیتیں بھی آ گئی ہیں۔ اس کے باوجود ایک ہی مقام پر مل کر نماز ادا کرنے کا عزم بدستور قائم ہے۔
مگر یہی عزم اب غور و فکر کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر بروقت اس مسئلے پر توجہ نہ دی گئی تو جگہ کی یہ کمی نادانستہ طور پر الگ الگ انتظامات کی طرف لے جا سکتی ہے—اختلاف کی بنیاد پر نہیں بلکہ مجبوری کے تحت—جہاں لوگ چھوٹے چھوٹے اجتماعات اختیار کرنے لگیں۔ ایک ایسے شہر کے لیے جس نے ایک ہی عید کی نماز کی روایت کو بڑی احتیاط سے محفوظ رکھا ہے، یہ تبدیلی ایک بڑا انحراف ہوگی۔
اسی لیے اب یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ اس نادر اور طاقتور روایت کو برقرار رکھنے کے لیے بھٹکل کو اپنی عیدگاہ کے تصور پر ازسرِ نو غور کرنا ہوگا—شاید ایک بار پھر شہر کے کنارے کسی وسیع اور کھلی جگہ کی تلاش، جہاں اس اتحاد کی وسعت بغیر کسی رکاوٹ کے سمٹ سکے۔ یہاں قیادت کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے۔ بروقت منصوبہ بندی کے ذریعے بھٹکل اس وحدت کو محفوظ رکھ سکتا ہے جسے اس نے نسلوں سے پروان چڑھایا ہے، تاکہ عملی مسائل اس گہری اجتماعی روایت کو کمزور نہ کر دیں۔
یہ قدم محض ایک انتظامی مسئلے کا حل نہیں ہوگا، بلکہ ایک ایسی روایت میں سرمایہ کاری ہوگی جس نے برسوں سے اس معاشرے کو جوڑے رکھا ہے۔
کیونکہ بھٹکل میں عیدگاہ صرف ایک میدان نہیں—ایک علامت ہے:
اختلاف کے باوجود اتحاد کی،
تنوع کے باوجود نظم کی،
اور ایک ایسی مشترکہ شناخت کی جو داخلی فرق سے بلند ہے۔
اس علامت کو محفوظ رکھنا صرف جگہ کا مسئلہ نہیں—
یہ بصیرت کا تقاضا ہے۔

بھٹکل سے آگے ایک سبق
جب نماز ختم ہوتی ہے اور رسمی لمحات جشن میں بدلنے لگتے ہیں تو عیدگاہ ایک بار پھر ایک نئی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ صفیں بکھر کر گلے ملنے میں بدل جاتی ہیں۔ سکون کی جگہ مسکراہٹیں لے لیتی ہیں۔ آوازیں بلند ہوتی ہیں—اب تکبیر نہیں، بلکہ مبارکباد کے الفاظ—“عید مبارک” کی صدائیں فضا میں گونجنے لگتی ہیں۔
بچے خوشی سے ہجوم میں گھومتے ہیں، بزرگ اور نوجوان گرمجوشی سے مصافحہ کرتے ہیں، اور ایک مختصر مگر خوبصورت لمحے کے لیے پوری فضا ایک بڑے خاندان کا منظر پیش کرتی ہے۔
مگر اس سب کے بعد جو چیز باقی رہ جاتی ہے، وہ صرف خوشی نہیں—
بلکہ ساتھ کھڑے ہونے کی یاد ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب مذہبی، سماجی اور فکری تقسیمیں عوامی گفتگو پر غالب ہیں، بھٹکل ایک خاموش مگر مضبوط متبادل پیش کرتا ہے۔ یہاں اتحاد نہ زبردستی قائم کیا جاتا ہے، نہ صرف لفظوں میں بیان ہوتا ہے—بلکہ اسے شعوری طور پر اختیار کیا جاتا ہے، پروان چڑھایا جاتا ہے، اور نسل در نسل عملاً زندہ رکھا جاتا ہے۔
قاضی صاحبان کی باہمی ہم آہنگی سے لے کر چاند کی رویت پر اجتماعی اتفاق تک، گلیوں سے گزرتے ہوئے جلوس سے لے کر عیدگاہ میں ایک ہی اجتماع تک—ہر مرحلہ ایک گہری سمجھ کی عکاسی کرتا ہے: کہ ایک برادری کے اندر تنوع لازماً تقسیم کا سبب نہیں بنتا۔
بلکہ وہ اجتماعی قوت کو مزید مضبوط بھی کر سکتا ہے۔
بھٹکل کا پیغام سادہ بھی ہے اور گہرا بھی۔
جو چیز کانفرنسوں میں زیرِ بحث آتی ہے، تقاریر میں بیان کی جاتی ہے، اور ملک بھر میں جس کی تمنا کی جاتی ہے—یعنی امتِ مسلمہ کا اتحاد—وہ یہاں خاموشی اور تسلسل کے ساتھ عملی شکل میں موجود ہے۔
اور شاید یہی اس کا سب سے بڑا سبق ہے۔
اتحاد نعروں سے شروع نہیں ہوتا—
یہ عمل سے شروع ہوتا ہے۔
بھٹکل میں عید صرف منائی نہیں جاتی—
یہ مل کر جیتی جاتی ہے۔