بھٹکل کے قدیم علاقوں میں آلودہ پانی کا مسئلہ برقرار، عوام کو شدید مشکلات کا سامنا

بھٹکل (فکروخبرنیوز) شہر کے قدیم علاقوں میں زیرِ زمین ڈرینیج کے باعث پینے کے پانی کے آلودہ ہونے کا مسئلہ ایک بار پھر سامنے آیا ہے، جس پر بلدیہ سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

میونسپل کونسلر فیاض ایچ ملا کی جانب سے سٹی میونسپل کونسل کے کمشنر کو دی گئی تحریری شکایت میں کہا گیا ہے کہ شوکت علی روڈ، شاذلی اسٹریٹ، فاروقی اسٹریٹ اور غوثیہ اسٹریٹ سمیت کئی علاقوں میں زیرِ زمین ڈرینیج کا پانی رِس کر کنوؤں میں شامل ہو رہا ہے، جس کے باعث پینے کا پانی متاثر ہو رہا ہے۔

خط میں بتایا گیا ہے کہ ان علاقوں کے عوام کو صاف پینے کے پانی کے حصول میں شدید دشواریوں کا سامنا ہے۔ مقامی افراد کے لیے بار بار کنوؤں کی صفائی کروانا مالی طور پر ممکن نہیں، اس لیے بلدیہ کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر ان کنوؤں کی صفائی کا انتظام کرے۔

کونسلر نے متنبہ کیا ہے کہ اگر مقررہ وقت میں مسئلے کا حل نہیں نکالا گیا تو ڈرینیج کے اس مسئلے کے خلاف سخت اقدام کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ شہر کے ان پرانے علاقوں میں یہ مسئلہ برسوں سے برقرار ہے اور عوام سال بھر اس سے متاثر رہتے ہیں۔ خصوصاً گرمی کے موسم میں جب پانی کی قلت بڑھ جاتی ہے تو صاف پینے کے پانی کا حصول مزید مشکل ہو جاتا ہے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ متعدد بار حکام کی توجہ اس جانب مبذول کرائی گئی، تاہم اب تک کوئی مستقل حل نہیں نکالا جا سکا، جس کے باعث عوامی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔