اتر پردیش کے شہر بریلی میں ایک مسلم نوجوان کے ساتھ پیش آئے مبینہ تشدد اور مذہبی توہین کے واقعے نے سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق 28 مارچ کی شام کینٹونمنٹ تھانے کے علاقے میں ایک نوجوان شعیب کو نہ صرف تشدد کا نشانہ بنایا گیا بلکہ اسے زبردستی ہندوتوا کے نعرے لگانے پر بھی مجبور کیا گیا۔ پولیس نے اس معاملے میں مرکزی ملزم رشبھ ٹھاکر کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے۔
پولیس اور درج ایف آئی آر کے مطابق متاثرہ نوجوان شعیب، جو دبئی میں کام کرتا ہے، کو ایک عوامی مقام پر کچھ افراد کے گروپ نے روک لیا۔ اس دوران اس کے ساتھ مارپیٹ کی گئی، گالیاں دی گئیں اور اسے مذہبی نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا۔ ملزمان نے اس واقعے کی ویڈیو بھی بنائی اور اسے سوشل میڈیا پر وائرل کر دیا، جس کے بعد یہ معاملہ سامنے آیا۔ ویڈیو میں بعض افراد خود کو بجرنگ دل سے وابستہ بتاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
تشدد کے دوران مرکزی ملزم رشبھ ٹھاکر شعیب پر “لو جہاد” میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرتا دکھائی دیتا ہے۔ گروپ نے نہ صرف اسے دھمکایا بلکہ اس سے یہ اعلان بھی کروایا کہ تمام ہندو خواتین اس کی بہنیں ہیں۔ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ اس واقعے کی وجہ شعیب کی ایک مقامی ہندو خاتون سے جان پہچان بتائی جا رہی ہے، تاہم ویڈیو میں اس خاتون کی موجودگی نظر نہیں آتی۔
اس معاملے میں خاتون کے والد وجیندر سنگھ نے بھی ایک علیحدہ شکایت درج کروائی، جس میں الزام لگایا گیا کہ ملزم نے ان کی بیٹی کے ساتھ بھی بدسلوکی کی۔ تاہم بعد میں انہوں نے خود کو اس معاملے سے الگ کر لیا اور کہا کہ معاملہ حل ہو چکا ہے، جبکہ انہوں نے شعیب سے اپنی بیٹی کی جان پہچان کی تصدیق ضرور کی۔
پولیس نے بھارتیہ نیائے سنہتا کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے، جس میں حملہ، مجرمانہ دھمکی اور بھتہ خوری شامل ہیں۔ متاثرہ شخص کے مطابق اس سے 7 ہزار روپے نقد اور مزید 2 ہزار روپے ڈیجیٹل طریقے سے لوٹے گئے۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 29 مارچ کو خفیہ اطلاع پر کٹھ پلہ پل کے قریب سے رشبھ ٹھاکر کو گرفتار کر لیا اور اس کے قبضے سے 3300 روپے نقد اور ایک موبائل فون برآمد کیا۔
ایس پی سٹی منوش پریک نے بتایا کہ یہ ایک منظم گروہ معلوم ہوتا ہے جو مذہب اور ذات کے نام پر لوگوں کو نشانہ بنا کر ان سے رقم وصول کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دیگر ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم نے پوچھ گچھ کے دوران اپنے جرم کا اعتراف بھی کیا ہے اور ویڈیو سوشل میڈیا پر ڈالنے کا مقصد سنسنی پھیلانا بتایا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مرکزی ملزم اس سے قبل بھی ہفتہ وصولی کے ایک معاملے میں ضلع بدر کیا جا چکا تھا، تاہم اس کے باوجود وہ دوبارہ سرگرم پایا گیا، جس پر اس کے خلاف مزید سخت دفعات شامل کی گئی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ نوجوان کا میڈیکل کروا کر اسے گھر بھیج دیا گیا ہے جبکہ کیس کی مزید تفتیش جاری ہے۔
