بنگلورو: گھریلو ایل پی جی گیس سلنڈروں کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے خلاف کانگریس کے رہنماؤں اور کارکنوں نے بنگلورو میں احتجاج درج کرتے ہوئے مرکزی حکومت کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ قیمتوں میں اضافے سے پہلے ہی مہنگائی کا شکار عوام پر مزید معاشی بوجھ پڑے گا۔
مظاہرین کے مطابق حال ہی میں تیل مارکیٹنگ کمپنیوں نے ایل پی جی سلنڈروں کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے، جس کے تحت گھریلو استعمال کے 14.2 کلوگرام سلنڈر کی قیمت میں تقریباً 60 روپے جبکہ تجارتی استعمال کے 19 کلوگرام سلنڈر کی قیمت میں تقریباً 115 روپے اضافہ کیا گیا ہے۔ کانگریس رہنماؤں کا کہنا تھا کہ یہ اضافہ عام لوگوں کے لیے تشویش کا باعث بن گیا ہے۔
احتجاج کے دوران کانگریس رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ انتخابات سے قبل ایندھن اور ضروری اشیاء کی قیمتوں میں کمی اور بعد ازاں اچانک اضافہ کرنا موجودہ حکومت کی حکمت عملی بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کی قیادت والی حکومت عوام کو مہنگائی سے راحت دینے میں ناکام رہی ہے۔
رہنماؤں کا کہنا تھا کہ 2014 کے بعد سے ایل پی جی سلنڈروں کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عام خاندانوں کے بجٹ پر گہرا اثر ڈال رہا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی جانب سے سبسڈی کے نظام میں بتدریج کمی کے باعث غریب اور متوسط طبقے کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
مظاہرین نے یہ بھی کہا کہ موجودہ معاشی صورتحال میں حکومت کو عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے اقدامات کرنے چاہئیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ فوری طور پر واپس لیا جائے اور مہنگائی سے پریشان عوام کو راحت دی جائے۔
اس احتجاج میں کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری اور ایم ای آئی کے صدر ایس منوہر، میڈیا ترجمان آنند کمار ایم ایس، سُنکدکٹے نوین، اوبلیش، چنی پرکاش ہیمرج، پُٹّاراجو، اُمیش، رنجیت، سنجے، سائی نوین، سیموئیل، پروین، اپّارائے، پون سمیت متعدد کانگریس کارکنان شریک تھے۔
