بنگلورو میں کمرشل ایل پی جی بحران سنگین، وزیر اعلیٰ سدارامیا کی مرکز سے فوری مداخلت کی اپیل

بنگلورو (پی ٹی آئی) کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے شہر میں کمرشل ایل پی جی کی شدید قلت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ بحران ریستوراں، ہوٹلوں اور دیگر متعلقہ اداروں کو بند ہونے پر مجبور کر رہا ہے، جس سے ہوٹلوں کے شعبے سے وابستہ بڑی آبادی متاثر ہو رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے مرکزی وزیر برائے پیٹرولیم و قدرتی گیس ہردیپ سنگھ پوری کو خط لکھ کر صورتحال کی سنگینی سے آگاہ کیا۔ ان کے مطابق شہر میں روزانہ تقریباً 50 ہزار ایل پی جی سلنڈروں کی مانگ ہے، جبکہ صرف 1000 سلنڈر ہی فراہم کیے جا رہے ہیں، جس کے باعث طلب اور رسد میں شدید فرق پیدا ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کمی کے نتیجے میں ہوٹل، ریسٹورنٹ، کیٹرنگ سروسز اور پی جی رہائش جیسے کئی ادارے بند ہونے لگے ہیں، جس کا اثر طلبہ، آئی ٹی پروفیشنلز، کسانوں اور ڈیری سے وابستہ افراد سمیت مختلف طبقات پر پڑ رہا ہے۔

سدارامیا نے نشاندہی کی کہ اگرچہ مرکز کی ہدایات کے مطابق گھریلو ایل پی جی کو ترجیح دی جا رہی ہے، مگر کمرشل ایل پی جی کی تقسیم کے لیے کوئی مربوط نگرانی نظام موجود نہیں، جس سے شفافیت اور سپلائی مینجمنٹ میں مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ انہوں نے آٹو ایل پی جی کی قلت کا بھی ذکر کیا، جو شہر میں آٹورکشا خدمات کے لیے اہم ایندھن ہے۔

وزیر اعلیٰ نے امید ظاہر کی کہ جلد متوقع ایل پی جی ٹینکروں کی آمد کے پیش نظر کرناٹک، خصوصاً بنگلورو، کو اس کی ضروریات کے مطابق مناسب حصہ دیا جائے گا تاکہ جاری بحران پر قابو پایا جا سکے۔