بنگلورو، 4 جنوری (فکروخبر نیوز) بیلاری میں بینر تنازعہ کے دوران پیش آئے پُرتشدد واقعات اور کانگریس کارکن راج شیکھر کی ہلاکت کے معاملے پر وزیر داخلہ کرناٹک ڈاکٹر جی پرمیشور نے اہم بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حساس معاملے کی تحقیقات سی آئی ڈی کے حوالے کرنے پر وزیر اعلیٰ سدارامیا سے بات چیت کی جائے گی، اور اگر ضرورت محسوس ہوئی تو کیس کو سی آئی ڈی کے سپرد کر دیا جائے گا۔
وزیر داخلہ نے بتایا کہ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی) نے تصدیق کی ہے کہ فائرنگ پولیس کی سرکاری بندوق یا ریوالور سے نہیں بلکہ ایک پرائیویٹ بندوق سے کی گئی تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس معاملے میں ملوث تمام افراد کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے گرفتار کیا جائے گا۔
پیٹرول بم کے استعمال سے متعلق الزامات پر انہوں نے کہا کہ اس پہلو کی بھی باریک بینی سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور حقائق جانچ کے بعد سامنے آئیں گے۔
ایم ایل اے جناردھن ریڈی کی جانب سے وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ کو خط لکھ کر اپنی اور اپنے اہل خانہ کے لیے سیکورٹی مانگنے کے سوال پر ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ انہیں تاحال ایسا کوئی خط موصول نہیں ہوا ہے، تاہم خط ملنے کے بعد اس پر مناسب کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اس بات کی تصدیق نہیں کر سکتے کہ جناردھن ریڈی کی بیلاری واپسی کے بعد پیش آیا تشدد محض اتفاق تھا یا منصوبہ بند، لیکن یہ حقیقت ہے کہ ان کی واپسی کے بعد ہی ہنگامہ آرائی ہوئی۔
پولیس ذرائع کے مطابق گولی محض چار سے پانچ فٹ کے فاصلے سے چلائی گئی تھی، جس کے نتیجے میں ایک ہی شخص کی موت واقع ہوئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سنگل بور گولی میں فائرنگ کے بعد پھیلنے کی صلاحیت ہوتی ہے، اور اگر گولی زیادہ فاصلے تک جاتی تو اس سے مزید جانی نقصان کا اندیشہ تھا۔
پولیس نے معاملے کی تمام پہلوؤں سے تفتیش تیز کر دی ہے، جبکہ بیلاری میں حالات بدستور کشیدہ بتائے جا رہے ہیں۔
ٹی وی نائن کے ان پٹ کے ساتھ
