بلاری میں کانگریس اور بی جے کارکنوں کے درمیان تصادم کے بعد پولیس نے بیس افراد کو گیا گرفتار ، کانگریس کارکن کی ہلاکت کے بعد حالات کشیدہ
یکم جنوری کو بیلاری میں بینر چسپاں کرنے کے معاملے پر کانگریس اور بی جے پی کارکنوں کے درمیان ہونے والے تصادم میں کانگریس کارکن راج شیکھر کی ہلاکت کے بعد معاملہ مزید سنگین رخ اختیار کر گیا ہے۔ دونوں جماعتوں کے لیڈران ایک دوسرے پر الزامات عائد کر رہے ہیں، جبکہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اب تک 20 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق اس معاملے میں کل چھ ایف آئی آر درج کی گئی ہیں اور گرفتار شدگان میں 10 کانگریس اور 10 بی جے پی کارکن شامل ہیں۔ بروس پیٹ پولیس نے کہا ہے کہ قانون کے مطابق تمام فریقوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔
پولیس کی جانب سے گرفتار کیے گئے بی جے پی کارکنوں میں بی روی، روی بابو، پوٹپا، باجپا، جی سری نواسا، شداکشری، رنگاسوامی، گرو پرساد، پی سرینیواس ریڈی، لکشا اور تھیمپا شامل ہیں۔
وہیں گرفتار کانگریس کارکنوں میں کارتک (25)، مکنا (28)، عنایت اللہ (24)، راجو (20)، مصطفیٰ (22)، سری کانت (30)، محمد رسول (35)، بابو (38)، وینکٹیش (38) اور مبشر (25) شامل ہیں۔
ادھر راج شیکھر کی ہلاکت کے معاملے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ طویل عرصے تک یہ معمہ بنا رہا کہ راج شیکھر کی کمر میں لگنے والی 12 ایم ایم کی گولی کس کی بندوق سے فائر ہوئی تھی۔ پولیس تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ یہ گولی ستیش ریڈی کے باڈی گارڈ گروچرن سنگھ کی بندوق سے چلی تھی۔ پولیس نے گروچرن سنگھ کو حراست میں لے لیا ہے۔
اس کے علاوہ ستیش ریڈی کے دو دیگر نجی محافظوں بلجیت سنگھ اور ایک اور گروچرن سنگھ کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ تینوں پرائیویٹ گن مین، جن کا تعلق پنجاب سے بتایا جا رہا ہے، نے یکم جنوری کو فائرنگ کی تھی۔
تشدد کے اس واقعے کے بعد بھرت ریڈی اور جناردھن ریڈی کی مشکلات بھی بڑھتی نظر آرہی ہیں۔ پولیس نے فسادات کو ہوا دینے کے الزام میں سوموٹو کیس درج کر لیا ہے اور ان کی گرفتاری کے امکانات سے بھی انکار نہیں کیا جا رہا ہے۔
اس دوران ٹی وی 9 کی جانب سے جاری کردہ ایک ویڈیو نے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جس میں بوتلوں اور پٹرول بموں سے بھرے ایک آٹو کو دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد یہ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آیا جناردھن ریڈی کے گھر پر حملے کی منصوبہ بندی پہلے سے کی گئی تھی۔
واضح رہے کہ یکم جنوری کو بیلاری میں پتھراؤ، مار پیٹ اور فائرنگ کے دوران حالات بے قابو ہو گئے تھے۔ بھرت ریڈی کے قریبی ساتھی ستیش ریڈی کے نجی محافظوں کی ہوائی فائرنگ اور پولیس کی جوابی کارروائی کے دوران ہی کانگریس کارکن راج شیکھر کی جان چلی گئی تھی۔
فی الحال پولیس تمام پہلوؤں سے معاملے کی تفتیش کر رہی ہے اور مزید گرفتاریوں کے امکانات کا اظہار کیا جارہا ہے۔
