بلاری: کرناٹک کے ضلع بلاری میں ہفتہ (7 مارچ) کی رات ایک نجی رہائشی اسکول کے ہاسٹل میں پیش آئے پرتشدد واقعہ میں نویں جماعت کا ایک طالب علم جاں بحق جبکہ ایک طالبہ اور ہاسٹل وارڈن سمیت سات دیگر زخمی ہوگئے۔
یہ واقعہ تلور روڈ پر واقع گروکل انٹرنیشنل اسکول سے منسلک گروکل ہاسٹل میں پیش آیا۔ پولیس کے مطابق مبینہ طور پر ایک نابالغ طالب علم نے معمولی جھگڑے کے بعد اپنے ساتھی طلبہ پر آہنی بیڈ راڈ سے حملہ کردیا۔ بتایا جاتا ہے کہ حملہ رات کے کھانے کے بعد اس وقت کیا گیا جب بیشتر طلبہ سو رہے تھے۔
واقعہ میں زخمی ہونے والے طلبہ اور دیگر افراد کو فوری طور پر علاج کے لیے بلاری میڈیکل کالج اینڈ ریسرچ سینٹر منتقل کیا گیا۔ طبی حکام کے مطابق کچھ زخمی طلبہ کی حالت مستحکم ہے جبکہ چند کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔ ہاسٹل وارڈن بلیسی بھی طلبہ کو بچانے کی کوشش کے دوران زخمی ہوگئے۔
پولیس نے اس معاملے میں پرائیویٹ ہاسٹل کے وارڈن کو بھی حراست میں لیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق نابالغ طالب علم کی مبینہ ریگنگ اور ہراساں کیے جانے کے معاملے میں سینئر طلبہ کے خلاف بھی کارروائی کی جارہی ہے۔
متوفی طالب علم کے والد لکشمی کانت نے واقعہ پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ان کے بیٹے پر آہنی راڈ نہیں بلکہ چاقو سے حملہ کیا گیا اور یہ واقعہ جان بوجھ کر انجام دیا گیا۔ انہوں نے اسکول انتظامیہ پر لاپرواہی کا الزام عائد کرتے ہوئے اس معاملے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب زخمی طالبہ کے والدین نے بھی ہاسٹل میں سکیورٹی کے ناقص انتظامات پر سوال اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک زیر نگرانی ہاسٹل میں کسی نابالغ کے لیے اس نوعیت کا پرتشدد حملہ کرنا انتظامیہ کی غفلت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے ملزم طالب علم کے ساتھ ساتھ ہاسٹل انتظامیہ کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
اس سلسلے میں بروس پیٹ پولیس اسٹیشن میں متاثرہ طالب علم کے والد کی شکایت پر مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق واقعے کے بعد موقع سے فرار ہونے والے ملزم طالب علم کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔ بلاری کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سمن ڈی پینیکر نے بتایا کہ واقعہ کے پس منظر اور استعمال شدہ ہتھیار کے بارے میں ابتدائی تحقیقات جاری ہیں۔
ادھر بلاری رینج کے انسپکٹر جنرل پولیس پی ایس ہرشا نے میڈیا کو بتایا کہ پولیس ٹیم، سین آف کرائم آفیسرز (SOCO) اور فارنسک سائنس لیبارٹری (FSL) کے ماہرین نے ہاسٹل کا تفصیلی معائنہ کیا ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ زخمی ہاسٹل وارڈن کا باضابطہ بیان بھی ریکارڈ کرلیا گیا ہے اور ہاسٹل میں مبینہ سکیورٹی کوتاہیوں سمیت پورے واقعے کی مکمل تحقیقات کی جارہی ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ چونکہ اس واقعے میں ملوث اور متاثرہ طلبہ نابالغ ہیں، اس لیے تحقیقات انتہائی حساسیت کے ساتھ کی جارہی ہے اور بچوں کے قانونی حقوق اور رازداری کا بھی خاص خیال رکھا جارہا ہے۔
