جھانسی: کار حادثے میں عتیق احمد کے سب سے چھوٹے بیٹے ابان اور ان کے ساتھی جاں بحق

اتر پردیش کے سابق رکن پارلیمنٹ عتیق احمد کے سب سے چھوٹے بیٹے ابان احمد کی جھانسی کانپور قومی شاہراہ پر ایک دردناک سڑک حادثے میں موت ہوگئی ہے۔ یہ واقعہ جمعرات کی صبح پونچھ پولیس اسٹیشن کے حدود میں اس وقت پیش آیا جب ان کی تیز رفتار ایس یو وی گاڑی بے قابو ہو کر سڑک کے ڈیوائیڈر سے ٹکرا گئی۔ اس حادثے میں ابان احمد کے ایک ساتھی کی بھی موقع پر ہی موت ہو گئی، جبکہ گاڑی میں سوار دیگر تین نوجوان شدید طور پر زخمی ہوئے ہیں۔

دستیاب اطلاعات کے مطابق، ابان احمد اپنے ساتھیوں کے ساتھ جھانسی جیل میں بند اپنے بڑے بھائی علی احمد سے ملاقات کے لیے آئے تھے۔ جیل میں ملاقات کا عمل مکمل کرنے کے بعد وہ تمام لوگ واپس پریاگ راج لوٹ رہے تھے۔ اسی دوران قومی شاہراہ پر پونچھ کے قریب گاڑی کے ڈرائیور نے گاڑی پر سے اپنا کنٹرول کھو دیا اور ایس یو وی شدید رفتار کے ساتھ ڈیوائیڈر سے جا ٹکرائی۔ حادثے کی خبر ملتے ہی مقامی پولیس اور امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور تمام زخمیوں کو علاج کے لیے قریبی کمیونٹی ہیلتھ سینٹر پہنچایا گیا۔

سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس بی بی جی ٹی ایس مورتی نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس کو صبح تقریباً ساڑھے دس بجے حادثے کی اطلاع موصول ہوئی۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ حادثہ ڈرائیور کے کنٹرول کھونے کی وجہ سے پیش آیا۔ پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والے افراد کی شناخت ابان احمد اور ان کے ساتھی سونو کے طور پر ہوئی ہے، جبکہ دیگر تین زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے اور انہیں اعلیٰ علاج کے لیے میڈیکل کالج منتقل کر دیا گیا ہے۔

سابق رکن پارلیمنٹ عتیق احمد کے کل پانچ بیٹے تھے، جن میں ابان احمد سب سے چھوٹے تھے۔ عتیق احمد کے خاندان کے قانونی اور جیل سے متعلق ریکارڈ کی بات کی جائے تو ان کا سب سے بڑا بیٹا عمر احمد اس وقت لکھنؤ جیل میں قید ہے جس پر ایک رئیل اسٹیٹ تاجر پر حملے اور اغوا کا مقدمہ درج ہے۔ دوسرے نمبر کا بیٹا علی احمد پہلے پریاگ راج کی نینی سینٹرل جیل میں بند تھا جسے حال ہی میں جھانسی جیل منتقل کیا گیا تھا۔ تیسرا بیٹا اسد احمد 2023 میں ایک پولیس انکاؤنٹر کے دوران مارا گیا تھا، جبکہ چوتھا بیٹا احزم احمد 2023 میں جوینائل ہوم سے رہائی کے بعد اپنی پھوپھی کی تحویل میں ہے۔

اس حادثے نے ایک بار پھر قومی شاہراہوں پر رفتار کے تعاقب اور ڈرائیونگ میں احتیاط کی ضرورت کو اجاگر کر دیا ہے۔ پولیس نے دونوں لاشوں کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا ہے اور حادثے کی دیگر تمام وجوہات کا تکنیکی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے زخمیوں کی صحت اور واقعے کے تمام پہلوؤں پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ قانونی کارروائی کی عمل آوری کو یقینی بنایا جا سکے۔

شیئر کریں۔