‘میاں مسلمانوں’ کو پریشان کرو! ہیمنت بسوا شرما کی زہر افشانی کے خلاف پولس میں شکایت

آسام میں ۲۷؍ جنوری کو پھر مسلمانوں  کے خلاف  وزیراعلیٰ  ہیمنت بسوا شرما کی زہر افشانی  پرمعروف سماجی کارکن اور سابق آئی اے ایس افسر ہرش مندر  نے پولیس میں تحریری شکایت درج کراتے ہوئے فوری کارروائی کی مانگ  کی ہےجبکہ اپوزیشن نے اس معاملے میں وزیراعظم  نریندر مودی کی خاموشی پر سوال کیا ہے۔ دوسری طرف الہ آباد ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، گووِند ماتھر نے بھی ہیمنت بسوا شرما کی زہر افشانی کے خلاف آوا زبلند کرتےہوئے اسے ہندوستانی جمہوریت کی بنیاد پر حملہ قرا ر دیا ہے۔ 
ہیمنت بسوا شرا کی زہر افشانی پر ایک نظر 
 معروف سماجی کارکن اورمصنف ہرش مندر نے  پولیس  میں دی گئی شکایت  میں  ہیمنت بسوا شرما کے منگل کے بیان کا حوالہ دیا ہے جس میں  انہوں نے آسام میں بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو ’’میاں  مسلمانوں‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے ہوئے عوام سے کہا ہے کہ انہیں جس طرح بھی ممکن ہوپریشان کریں۔ وزیراعلیٰ   نے انتہائی نچلی سطح پر گرتے ہوئے کہا کہ’’ اگر اُن کے رکشہ میں بیٹھیں اور وہ ۵؍ روپے کرایہ مانگیں تو ۴؍ روپے دیں،وہ بہت سے بہت کیا کریں گے؟ پولیس میں شکایت ؟ آسام پولیس دیکھ لے گی۔‘‘اتنا ہی نہیں انہوں نے ٹھیکیداروں کو ہدایت دی کہ وہ ’’میاں مسلمانوں‘‘ کو ملازم رکھنے کے بجائے عام آسامی کو نوکری دیں۔ وزیراعلیٰ نے مسلمانوں  کے نام ووٹر لسٹ سے کاٹنے کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ ’’میاں مسلمانوں کو بنگلہ دیش میں ووٹنگ کرنی چاہئے۔‘‘ انہوں نے   لوگوں کو اس بات کیلئے بھی اُکسایا کہ وہ ووٹر لسٹ میں موجود ’’میاں مسلمان‘‘ کے نام کو  فارم  نمبر ۷؍ کا استعمال کرتے ہوئے  چیلنج کریں۔ بسوا شرما کے مطابق  آسام میں ایس آئی آر کے دوران ’میاں مسلمان‘ کے ۴؍ سے ۵؍ لاکھ نام کاٹے جائیں گے۔ اپنی صفائی میں ہیمنت بسوا شرما نے کہا ہے کہ ’میاں  مسلمان‘ سے ان کی مراد آسام میں موجود بنگلہ دیشی مسلمان ہیں۔ اپنی آئینی ذمہ داریوں کو بھولتے ہوئے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا شرما  کے مطابق’’میں  اور بی جےپی یہاں  (آسام  میں) میاں  مسلمان کو پریشان کرنے کیلئےہی ہیں۔‘‘
ہرش مندر    نے پولیس میں تحریری شکایت دی
 ہرش مندر پولیس میں تحریری شکایت دیتے ہوئے بھارتیہ نیائے سنہیتا-۲۰۲۳ء  کے تحت فوری کارروائی کی مانگ کی ہے۔  انہوں نے بطور خاص میں دفعہ۱۹۶ (نقض امن اور سماج میں نفرت پھیلانا)،۱۹۷( ملک کی سالمیت کیلئے نقصاندہ بیان)، ۲۹۹( مذہبی جذبات کو بھڑکانے کیلئے بدنیتی پر مبنی عمل)، ۳۰۲( مذہبی جذبات مجروح کرنے کی کوشش) اور ۳۵۳ (عوامی سطح پر شرانگیزی کا باعث بننے والی بیان بازی ) کے تحت کارروائی کی مانگ کی ہے۔  ہر ش مندر نے تحریری شکایت دہلی کے حوض خاص پولیس اسٹیشن میں  دی ہے۔   
وزیراعلیٰ سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جائے: سابق جج
    اس بیچ الہ آباد ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس گووند ماتھر نے ہیمنت بسوا شرما کی زہرافشانی پر برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان سے استعفیٰ طلب کرلیا جانا چاہئے۔ انہوں  نے کہا کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ ملک کےعوام کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی کوشش ہےجو ہندوستانی آئین اورجمہوریت کی بنیاد کے خلاف ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ آرٹیکل ۱۴؍ قانون کے سامنے سب کے  برابرہونے کی ضمانت دیتا ہے جبکہ آرٹیکل۱۵؍ مذہب کی بنیاد پر امتیاز سے روکتا ہے اور آرٹیکل۲۱؍ ہر فرد کی عزتِ نفس کےتحفظ کا ضامن ہے۔ سابق چیف جسٹس نےمتنبہ کیاکہ’’وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے بسوا شرما نے آئین کی پاسداری کا حلف لیا ہے۔ وہ جو کہتے ہیں وہ ریاستی حکومت کے حکم کا درجہ رکھتا ہے۔‘

 ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس نے  خبردار کیا کہ  ایسی بیان بازی جو خوف، محرومی یا نفرت کو فروغ  دے،آئینی اخلاقیات کو کمزور اور  ہندوستانی جمہوریت کی بنیادوں کو کھوکھلا کرتی ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعظم نریندر مودی کی خاموشی پر سوال کھڑے کرتے ہوئے ٹی ایم سی کی رکن پارلیمان مہوا موئترا نے کہا ہے کہ ’’ہیمنت بسوا شرما کے بیان پر وزیراعظم خاموش کیسے رہ سکتے ہیں؟شاید اس لئے کہ وہ خود بھی اسی جرم کے مرتکب ہوتے ہیں۔‘‘ انہوں نے عدالتوں کی خاموشی پر بھی سوال کیا کہ ’’وہ عدالتیں جو کتے کے کاٹنے کا از خود نوٹس لے لیتی ہیں، اس وحشیانہ بیان بازی پر خاموش کیسے رہ سکتی ہیں؟‘‘ ا س درمیان پوری بے شرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وزیراعلیٰ ہیمنت شرما نے اپنی زہر افشانی کا یہ کہہ کر دفاع کیا ہے کہ ’’جو لوگ ’’میاں‘‘ -وہ لفظ جو آسام میں  غیر قانونی بنگلہ دیشی مسلم دراندازوں  کیلئے استعمال ہوتا ہے- کے تعلق سے میرے ریمارکس پر  مجھے نشانہ بنارہے ہیں،انہیں رُک کر  پڑھ لینا  چاہیے کہ  ملک کے سپریم کورٹ نے آسام کے بارے میں کیا کہا ہے۔‘‘اس کے ساتھ ہی اپنی زہرا فشانی میں اضافہ کرتے ہوئے  بی جےپی لیڈر نے بتایاکہ انہوں نے ریاستی حکومت  کے پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ کے تمام ٹھیکے داروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ آئندہ منصوبوں میں کم از کم۵۰؍ فیصد مقامی نوجوانوں کو کام پر رکھیں۔