گوہاٹی: آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بيسوا سرما نے ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی (Special Revision) کے عمل کو لے کر ایک بار پھر سخت اور متنازع مؤقف اختیار کیا ہے۔ بدھ کے روز ضلع سِواسَگَر کے ڈیمو میں ایک تقریب کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی کارکنان نے مبینہ غیر ملکیوں کے خلاف پانچ لاکھ سے زائد شکایات درج کرائی ہیں۔
سرما نے کہا کہ اگر خصوصی نظرثانی کے دوران کوئی شکایت سامنے نہ آئے تو یہ ماننا پڑے گا کہ آسام میں کوئی غیر ملکی موجود نہیں، جو ان کے بقول “غیر معقول بات” ہوگی۔ انہوں نے اس عمل کو “قومی فریضہ” قرار دیتے ہوئے دیگر سیاسی جماعتوں پر بھی تنقید کی کہ انہوں نے اس معاملے میں سرگرمی نہیں دکھائی۔
’مِیا‘ لفظ اور بڑھتا ہوا تنازع
وزیر اعلیٰ کے بیانات میں ایک بار پھر “مِیا” کی اصطلاح کا استعمال بھی زیر بحث آ گیا۔ آسام میں یہ لفظ عموماً بنگالی نژاد مسلمانوں کے لیے تحقیر آمیز انداز میں بولا جاتا رہا ہے، جنہیں اکثر بنگلہ دیش سے غیر قانونی طور پر داخل ہونے والا قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں اس برادری کے کچھ افراد نے اس شناخت کو بطور ثقافتی علامت اپنانے کی بھی کوشش کی ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ سرما کی جانب سے اس اصطلاح کا بار بار استعمال ماحول کو مزید حساس بنا رہا ہے۔
الیکشن کمیشن کی خصوصی نظرثانی کیا ہے؟
الیکشن کمیشن آف انڈیا نے آسام میں ووٹر فہرست کی خصوصی نظرثانی کا عمل شروع کیا ہے، جس کی اہلیت کی کٹ آف تاریخ یکم جنوری 2026 مقرر کی گئی ہے۔
گھر گھر تصدیقی مہم: 22 نومبر تا 20 دسمبر
ابتدائی حذف شدہ ناموں کا اعلان: 27 دسمبر (10 لاکھ سے زائد نام ہٹانے کی بات)
دعوے اور اعتراضات داخل کرنے کی مدت: 27 دسمبر تا 22 جنوری
فیصلوں کی آخری تاریخ: 2 فروری
حتمی ووٹر لسٹ کی اشاعت: 10 فروری
ریاست میں آئندہ تین سے چار ماہ کے اندر اسمبلی انتخابات متوقع ہیں، جس کے باعث یہ عمل سیاسی طور پر نہایت اہم بن گیا ہے۔
متنازع بیانات اور اپوزیشن کی تنقید
سرما نے حالیہ دنوں میں یہ بھی کہا تھا کہ نظرثانی کے عمل میں چار سے پانچ لاکھ “مِیا ووٹروں” کے نام حذف ہو سکتے ہیں۔ ایک اور بیان میں انہوں نے کہا کہ ان کا کام “انہیں تنگ کرنا” ہے اور یہ کہ “انہیں آسام میں ووٹ نہیں ڈالنے دینا چاہیے، وہ بنگلہ دیش میں ووٹ دیں۔”
کانگریس رہنما امان ودود سمیت اپوزیشن لیڈروں نے ان بیانات کو آئینی اقدار کے منافی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی خاص مذہبی یا لسانی برادری کو نشانہ بنانا انتخابی عمل کی غیر جانبداری پر سوال کھڑے کرتا ہے۔
بے دخلی مہمات بھی بحث میں
2016 میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد آسام میں بڑے پیمانے پر بے دخلی مہمات چلائی گئیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان کارروائیوں کے دوران تقریباً ڈیڑھ لاکھ بِگھہ زمین “غیر قانونی قبضے” سے آزاد کرائی گئی۔ تاہم اپوزیشن کا الزام ہے کہ ان مہمات کا رخ زیادہ تر بنگالی نژاد مسلم آبادی کی بستیوں کی جانب رہا۔
سرما نے حالیہ بیان میں کہا کہ کارروائیاں “مِیا” افراد کے خلاف ہو رہی ہیں، نہ کہ مقامی اسامی لوگوں کے خلاف — ایک ایسا بیان جس نے سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھا دیا ہے۔
سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ
آسام میں ووٹر لسٹ کی نظرثانی کا عمل اب صرف انتظامی مرحلہ نہیں رہا بلکہ انتخابی سیاست کا مرکزی موضوع بنتا جا رہا ہے۔ ایک طرف حکومت اسے غیر قانونی دراندازی کے خلاف کارروائی قرار دے رہی ہے، تو دوسری جانب اپوزیشن اسے جائز شہریوں کے ووٹ کے حق کو متاثر کرنے کی کوشش بتا رہی ہے۔
آنے والے ہفتوں میں حتمی ووٹر فہرست کی اشاعت کے ساتھ یہ تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ریاست انتخابی ماحول کی طرف بڑھ رہی ہے۔
