اصفہان پر امریکی بمباری، ایران-اسرائیل جنگ میں شدت، متعدد شہروں میں دھماکے

(فکروخبر/ذرائع) ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ کے 32ویں روز ایران کے اہم شہر اصفہان میں شدید حملے کیے گئے، جہاں امریکی افواج نے ایک بڑے اسلحہ گودام کو نشانہ بنایا۔ ایک امریکی اہلکار کے مطابق اس کارروائی میں دو ہزار پاؤنڈ وزنی بنکر بسٹر بم استعمال کیے گئے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک ویڈیو جاری کی، جس میں رات کے وقت ہونے والے زور دار دھماکے دکھائے گئے، جبکہ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے بھی اس حملے کی تصدیق کی ہے۔

ادھر ایران کے دیگر شہروں میں بھی صورتحال کشیدہ رہی۔ جنوب مغرب میں شیراز ایئرپورٹ کے اطراف اور اہواز میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ تہران میں متعدد دھماکوں کے بعد کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔ ایرانی خبر رساں ادارے "فارس” کے مطابق مشرقی تہران کے مختلف علاقوں میں بجلی بحال کرنے کے لیے کام جاری ہے۔

دوسری جانب بیت المقدس میں بھی کشیدگی دیکھی گئی، جہاں کم از کم دس دھماکوں کے بعد ایک میزائل کو فضا میں تباہ کر دیا گیا جبکہ دوسرا کھلے علاقے میں گرا۔ اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ ایران سے داغے گئے میزائلوں کو روکنے کے لیے دفاعی نظام متحرک ہے۔

ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق تہران نے بھی اسرائیل کی جانب متعدد میزائل داغنے کا اعلان کیا ہے۔

واضح رہے کہ اصفہان ایران کا ایک اہم صنعتی اور دفاعی مرکز ہے، جہاں فولاد، پیٹرو کیمیکل اور فضائی صنعتوں کے ساتھ اہم جوہری تنصیبات کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے اس کی اسٹریٹجک اہمیت بہت زیادہ ہے۔

رپورٹس کے مطابق 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے امریکی افواج 11 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنا چکی ہیں، جبکہ اسرائیلی حملوں کی تعداد 14 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ ایران نے جواباً ہزاروں میزائل اور ڈرون داغے، جن میں سے اکثر کو فضائی دفاعی نظام نے ناکام بنا دیا۔

مزید برآں ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے اور قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے یہ اہم بحری راستہ نہ کھولا تو اس کے خلاف مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے۔