انجمن کی 106ویں یومِ تاسیس پر انجمن ڈے کا انعقاد ، اسمبلی اسپیکر یوٹی قادر اور ضلع انچارج وزیر منکال وئیدیا سمیت کئی مؤقر شخصیات کی شرکت

بھٹکل(فکروخبرنیوز) صدیوں پرانا تعلیمی ورثہ رکھنے والے بھٹکل کے انجمن حامی مسلمین تعلیمی ادارے کی 106ویں یومِ تاسیس کا افتتاح 13 دسمبر کو بڑے جوش و خروش کے ساتھ کیا گیا، یہ تقریب ’’انجمن ڈے‘‘ کے نام سے دو دن تک جاری رہے گی۔

افتتاحی تقریب میں کرناٹک قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر یوٹی قادر نے انجمن کی تعریف کی اورکہا کہ صرف بھٹکل نہیں بلکہ آس پاس کے اضلاع اور دیہاتوں میں سماجی، مذہبی، تعلیمی اور صحت کے شعبوں کی ترقی انجمن کا وافر حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی حب الوطنی نعروں میں نہیں بلکہ دیہی سطح پر تعلیمی ادارے بنانے اور ملک بچوں کو ملک کی دولت بنانے میں مضمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک تب ہی مضبوط ہوتا ہے جب کلاس روم اور کھیل کے میدان میں پروان چڑھنے والے طلبہ مضبوط ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طلباء کو صرف کاروبار تک محدود نہیں رہنا چاہئے بلکہ انجینئر، ڈاکٹر، وکیل اور آئی اے ایس افسران سمیت تمام شعبوں میں آگے بڑھنا چاہئے۔ انہوں نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا کام یہاں آکر ہمیں دیکھ کر خوش ہونا نہیں ہے بلکہ اس بات کا عزم کرنا ہے کہ آئندہ پچیس سے تیس سالوں میں اپنے بچوں کو بڑے سے بڑے سے عہدوں پر پہنچانا ہے۔ انہوں نے انجینئرنگ اور لاء کالج کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اب وقت آچکا ہے کہ آپ اس میدان میں آجائیں۔ اس سے نہ صرف تعلیم کے شعبہ میں ترقی ہوگی بلکہ اس سے ہر اعتبار سے بھٹکل کی ایسی ترقی ہوگی جسے روکنے کی کسی کے اندر ہمت نہیں ہوگی۔ اس کے لیے آپ کی کیمونیٹی کو متحد ہونا پڑے گا۔

انچارج وزیراور بھٹکل ایم ایل اے منکال ویدیا نے کہا کہ بھٹکل میں ہائی ٹیک اسپتال اور ایک میڈیکل کالج کے قیام کے لیے حکومت کی طرف سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ اس علاقے میں ہائی ٹیک ہسپتالوں کی کمی ہے اس لیے حکومت اس سلسلہ میں تعاون کرے گی کیونکہ انجمن تنظیم کے پاس زمین اور انفراسٹرکچر موجود ہے۔ انہوں نے لا کالج کی ضرورت پر بھی بات کی۔

شاہین گروپ کے روحِ رواں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا کہ بھٹکل سے میرا تعلق 37 سال پرانا ہے جب میں نے یہاں کے انجمن کو دیکھا اور میں اس سے بہت متأثر تھا۔ بھٹکل کے صدیق محمد جعفری صاحب اول روز سے شاہین کے ساتھ رہے اور انہوں نے اس کے لیے خدمات انجام دی۔ انہوں نے اب انجمن کو وہ اقدامات کرنے پڑیں سے جس سے یہاں انقلاب آجائے۔ انہوں نے یہاں نیٹ کے امتحان کی تیاری شروع کرنے پر بھی زور دیا۔ اس کے علاوہ کڈاکٹر اے ایم۔ خان، وائس چانسلر کرناٹک یونیورسٹی اور معروف تاجر میراں منیگار نے بھی خطاب کیا۔

اس کے علاوہ کرناٹک یونیورسٹی دھارواڑ کے وائس چانسلر اے ایم خان ، معروف تاجر میراں منیگار اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔  

پروگرام میں جنرل سکریٹری جناب اسحاق شاہ بندری نے انجمن کی تفصیلی رپورٹ یش کی اورصدارت انجمن کے صدر محمد یونس قاضیا نے کی۔

انجمن کے مختلف کالجوں اور اسکولوں کا ثقافتی پروگرام بعد عصر منعقد ہوا جو تقریباً ساڑھے گیارہ بجے تک جاری رہا۔ جس پر حاضرین نے خوب داد دی اور انعامات سے نوازا۔ صدر انجمن ، جنرل سیکریٹری و دیگر اراکین انتطامیہ کی طرف سے مختلف ثقافتی پروگراموں کے لیے نقد انعامات دئے گئے اور انجمن الفطرہ کا استقبالیہ نظم و پیرامیٹ و نور اور پرائمری اسکول کے علاوہ اسلامیہ اینگلو اردو ہائی اسکول کا پیرامیٹ کو عوام نے قدر کی نگاہ سے دیکھا اور بہت سراہا پروگرام کے آخر میں عوام اور اسٹاف اسی طرح طلبہ کے لیے الگ الگ رافل ڈرا (Raffle Draw) رکھا گیا تھا جس میں دس ہزار روپیہ نقد انعام دیے گیے۔

پروگرام کے کنوینر محسن سر پرنسپل انجمن بی بی اے رہے۔ دعائیہ کلمات پر یہ دن بھر کا پروگرام رات قریب ساڑھے گیارہ بجے اختتام کو پہنچا۔