واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وینزویلا سے متعلق ایک اہم معاشی اور توانائی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وینزویلا کی عبوری حکومت امریکہ کو بڑی مقدار میں خام تیل فراہم کرے گی۔ منگل (6 جنوری) کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں ٹرمپ نے بتایا کہ معاہدے کے تحت 30 سے 50 ملین بیرل اعلیٰ معیار کا وینزویلا کا تیل امریکہ کو فروخت کیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ کے مطابق یہ تیل عالمی منڈی کی قیمتوں پر ہی حاصل کیا جائے گا اور اس سودے سے حاصل ہونے والی رقم کا انتظام و کنٹرول امریکی نگرانی میں رہے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس آمدنی کو دونوں ممالک کے عوام کے مفاد میں استعمال کیا جائے گا۔ ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا کہ انہوں نے امریکی وزیرِ توانائی کرس رائت کو اس منصوبے پر فوری عمل درآمد کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔
صدر کے بیان کے مطابق تیل کی ترسیل خصوصی ذخیرہ بردار جہازوں کے ذریعے کی جائے گی، جو براہ راست امریکہ کی ان لوڈنگ ڈاکس اور بندرگاہوں تک پہنچیں گے، تاکہ سپلائی چین میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔
ادھر وائٹ ہاؤس کے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ وینزویلا کے ساتھ تیل کی تجارت کے حوالے سے آئندہ جمعہ کو اوول آفس میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقد ہونے جا رہی ہے۔ اس اجلاس میں ایکسن موبل، شیوران اور کونوکو فلپس جیسی معروف امریکی توانائی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداران کی شرکت متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق میٹنگ میں وینزویلا کے تیل سے متعلق موجودہ معاہدوں اور مستقبل کی توانائی حکمتِ عملی پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔
قابلِ ذکر ہے کہ وینزویلا دنیا کے سب سے بڑے خام تیل کے ذخائر کا حامل ملک ہے، تاہم اس کی یومیہ پیداوار اس وقت تقریباً 10 لاکھ بیرل تک محدود ہے۔ اس کے مقابلے میں امریکہ گزشتہ سال اکتوبر میں اوسطاً روزانہ 13.9 ملین بیرل تیل پیدا کر رہا تھا۔ ماہرین کے مطابق اگر ایک بیرل تیل کی قیمت تقریباً 56 ڈالر فرض کی جائے تو مجوزہ معاہدے کے تحت وینزویلا سے حاصل ہونے والا تیل تقریباً 2.8 ارب ڈالر کی مالیت رکھتا ہے۔
