الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش غیر قانونی مذہب تبدیلی ممانعت قانون 2021 کے تحت درج ایک ایف آئی آر کو منسوخ کرنے سے انکار کرتے ہوئے دو جماعت بارہویں کی طالبات کے خلاف تحقیقات جاری رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔ عدالت نے کہا کہ دستیاب شواہد، متاثرہ طالبہ کے بیانات اور سی سی ٹی وی فوٹیج بادی النظر میں ایسے مواد کی نشاندہی کرتے ہیں جن کی مکمل تفتیش ضروری ہے۔
جسٹس جے جے منیر اور جسٹس ترون سکسینہ پر مشتمل ڈویژن بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ نوجوانوں میں دوسروں پر اپنے مذہبی خیالات مسلط کرنے کا بڑھتا رجحان مزید تشویشناک ہے۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ یہ عمر سیکھنے، صلاحیتیں نکھارنے اور سماج و قوم کی خدمت کے لیے خود کو تیار کرنے کی ہوتی ہے، نہ کہ ایسے تنازعات میں الجھنے کی۔
یہ معاملہ مرادآباد سے سامنے آیا، جہاں ایک ہندو طالبہ کے بھائی نے شکایت درج کرائی تھی کہ اس کی بہن کی مسلم ہم جماعتوں نے اسے برقع پہننے پر مجبور کیا اور اسلام قبول کرنے کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ شکایت کے مطابق یہ واقعہ دسمبر 2025 میں ایک نجی کوچنگ سینٹر میں پیش آیا، جہاں طالبہ کو مبینہ طور پر چہرہ ڈھانپنے پر مجبور کیا گیا۔
بعد ازاں مقامی اعتراضات کے سبب متعلقہ کوچنگ سینٹر بند کر دیا گیا تھا۔ ایک ملزمہ طالبہ نے مؤقف اختیار کیا کہ متاثرہ لڑکی نے برقع اپنی مرضی سے پہنا تھا تاکہ وہ اپنے سخت مزاج بھائی کی نظر سے بچ سکے، تاہم عدالت نے اس دلیل کو ابتدائی مرحلے پر قبول نہیں کیا۔
ہائی کورٹ نے کہا کہ کیس ڈائری میں متعدد ایسے شواہد موجود ہیں جو شکایت کی تائید کرتے ہیں، جن میں سی سی ٹی وی فوٹیج بھی شامل ہے۔ عدالت کے مطابق اس مرحلے پر یہ کہنا درست نہیں کہ ایف آئی آر بدنیتی یا جھوٹ پر مبنی ہے، کیونکہ متاثرہ طالبہ کے بیان کو بغیر مکمل جانچ کے رد نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ آیا مبینہ افعال 2021 کے قانون کے تحت غیر قانونی مذہب تبدیلی یا لالچ کے زمرے میں آتے ہیں یا نہیں، یہ تفتیش کا موضوع ہے، نہ کہ ایف آئی آر منسوخ کرنے کا۔ اسی بنیاد پر عدالت نے درخواستیں خارج کرتے ہوئے ایک ملزمہ کو دی گئی عبوری راحت بھی ختم کر دی۔
قابل ذکر ہے کہ مرادآباد پولیس نے ابتدائی طور پر کہا تھا کہ زبردستی مذہب تبدیلی کے واضح شواہد نہیں ملے، لیکن خاندان کی شکایت کے بعد مقدمہ آگے بڑھایا گیا۔ اس پہلو نے بھی مقدمے کو حساس بنا دیا ہے۔




