یوپی میں بغیر نوٹس کے مسجد سیل ، عدالت یوپی حکومت پر سخت برہم

الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش حکومت کی جانب سے ایک زیر تعمیر مسجد کو بغیر پیشگی نوٹس سیل کرنے کے معاملے پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے حکومت سے وضاحت طلب کر لی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ کسی بھی عبادت گاہ کو سیل کرنے سے پہلے قانونی طریقہ کار اور فریق کو سننے کا موقع دینا لازمی ہے۔ یہ معاملہ 18 مارچ کو سماعت کے دوران سامنے آیا جب مظفر نگر کے رہائشی احسن علی کی جانب سے دائر درخواست پر دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔

جسٹس اتل سری دھرن اور جسٹس سدھارتھ نندن پر مشتمل بنچ نے سماعت کے دوران دو اہم نکات پر سوال اٹھایا۔ عدالت نے پوچھا کہ آیا کوئی ایسا قانون موجود ہے جو حکام کو یہ اختیار دیتا ہو کہ وہ کسی عبادت گاہ کو بغیر نوٹس اور سماعت کا موقع دیے سیل کر دیں، اور کیا عبادت گاہ کے اندر تعمیراتی کام کے لیے لازمی طور پر سرکاری اجازت درکار ہے۔ عدالت نے ان سوالات کے ذریعے نہ صرف اس مخصوص معاملے بلکہ وسیع تر قانونی اصولوں کو بھی زیر بحث لایا۔

درخواست گزار احسن علی نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ وہ اس زمین کے قانونی مالک ہیں اور انہوں نے یہ پلاٹ 2019 میں پروین کمار جین سے باقاعدہ رجسٹرڈ سیل ڈیڈ کے ذریعے خریدا تھا۔ ان کے مطابق جب مسجد کی تعمیر کا کام، جس میں باؤنڈری وال بھی شامل تھی، شروع ہوا تو مقامی انتظامیہ نے اچانک کارروائی کرتے ہوئے اسے سیل کر دیا۔

حکام کا کہنا تھا کہ یہ تعمیر غیر قانونی ہے کیونکہ اس کے لیے پہلے سے اجازت حاصل نہیں کی گئی تھی، تاہم درخواست گزار کے وکیل نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نہ تو کوئی نوٹس جاری کیا گیا اور نہ ہی مالک کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا، جو کہ قدرتی انصاف کے اصولوں اور بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔

یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں عبادت گاہوں، زمین کے حقوق اور سرکاری کارروائیوں کے حوالے سے قانونی بحث تیز ہو رہی ہے۔ عدالت کا یہ سوال کہ کیا کسی عبادت گاہ کو بغیر نوٹس سیل کیا جا سکتا ہے، مستقبل میں ایسے کئی معاملات پر اثر انداز ہو سکتا ہے اور انتظامیہ کے اختیارات کی حد بندی کا سبب بن سکتا ہے۔

ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ حلف نامہ داخل کر کے یہ واضح کرے کہ اس کارروائی کے لیے کون سی قانونی دفعات استعمال کی گئیں اور کیا تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے تھے۔