الہ آباد ہائی کورٹ نے وارانسی میں دریائے گنگا کے بیچوں بیچ افطار کرنے اور مبینہ طور پر نان ویج کھانا کھانے کے معاملے میں گرفتار آٹھ نوجوانوں کو ضمانت دے دی ہے۔ ملزمان کی جانب سے عدالت میں حلف نامہ داخل کر کے باقاعدہ معافی مانگی گئی، جس کے بعد عدالت نے انہیں یہ قانونی راحت فراہم کی ہے۔ حلف نامے میں ملزمان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اپنے کیے پر پشیمان ہیں اور مستقبل میں اس قسم کا کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے۔
جسٹس راجیو لوچن شکلا کی عدالت نے محمد آزاد علی، محمد تحسیم، نہال آفریدی، محمد توصیف اور محمد انس کی ضمانت منظور کی، جبکہ جسٹس جتیندر کمار سنہا نے محمد سمیر، محمد احمد رضا اور محمد فیضان کو ضمانت دی۔ سماعت کے دوران ملزمان کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ان کا مقصد کسی بھی مذہب یا برادری کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا نہیں تھا اور ان نوجوانوں کا کوئی سابقہ مجرمانہ ریکارڈ بھی نہیں ہے۔ ریاستی حکومت کے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل انوپ ترویدی نے مذہبی مقامات کے تقدس اور عدالتی نظیروں کا حوالہ دیتے ہوئے ضمانت کی سخت مخالفت کی۔
یہ معاملہ مارچ 2026 کے ماہ رمضان کا ہے، جب ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا۔ اس ویڈیو میں کچھ نوجوان وارانسی کے پنچ گنگا گھاٹ کے قریب ایک کشتی پر افطار کر رہے تھے۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے مبینہ طور پر کشتی پر نان ویجیٹیرین کھانا کھایا اور بچا ہوا کھانا گنگا میں پھینک دیا، جس سے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی۔ اس واقعے کے خلاف بی جے پی یووا مورچہ کے ضلعی صدر رجت جیسوال نے کوتوالی پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی تھی۔ پولیس نے بی این ایس اور آئی ٹی ایکٹ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے 14 افراد کو گرفتار کیا تھا۔ الزام یہ بھی تھا کہ کشتی چلانے والے کو ڈرا دھمکا کر گنگا میں لے جایا گیا تھا۔
ضمانت منظور کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے ایک اہم مشاہدہ کیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ دریائے گنگا صرف ہندوؤں کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے ملک کے لیے عقیدے اور احترام کی علامت ہے۔ تمام مذاہب کے ماننے والے اس کا احترام کرتے ہیں اور کسی بھی شخص کو گنگا کی بے حرمتی کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ نچلی عدالتیں، جن میں وارانسی کی اے سی جے ایم اور سیشن کورٹ شامل ہیں، اس سے قبل ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر چکی تھیں، یہ کہتے ہوئے کہ اس طرح کے عمل سے سماجی ہم آہنگی متاثر ہو سکتی ہے اور یہ عمل مبینہ طور پر مذہبی جذبات کو بھڑکانے کے ارادے کی نشاندہی کرتا ہے۔
اس کیس میں کل 14 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ آٹھ ملزمان کی ضمانت کے بعد اب بقیہ چھ ملزمان، جن میں دانش سیفی، نور اسلام، امیر کیفی، محفوظ عالم، محمد احمد اور محمد اول شامل ہیں، کی ضمانت کی درخواستوں پر ہائی کورٹ میں سماعت ہونا باقی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق موجودہ ضمانت کے فیصلے اور ملزمان کی جانب سے داخل کیے گئے معافی نامے کے بعد بقیہ ملزمان کے لیے بھی قانونی راحت کی راہیں ہموار ہو سکتی ہیں۔




