الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش کے ضلع شاملی سے تعلق رکھنے والے اکتیس سالہ محمد علی ( آیوش ملک )کو غیر قانونی تحویل سے فوری آزاد کرنے کا حکم دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایک بالغ شہری کو اپنی مرضی سے مذہب اور شریکِ حیات کے انتخاب کا بنیادی آئینی حق حاصل ہے۔ عدالتِ عالیہ نے بدھ کے روز ہونے والی سماعت کے دوران شاملی پولیس اور ریاستی حکام کی سخت سرزنش کی اور حکم دیا کہ نوجوان کی ذاتی آزادی اور نجی زندگی میں کسی بھی قسم کی مداخلت فوراً بند کی جائے۔
یہ قانونی پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب آیوش ملک کے دوست سلطان نے ہائی کورٹ میں ہیبیس کارپس یعنی حبسِ بے جا کی رٹ پٹیشن دائر کی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ آیوش نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کر کے چاندنی قریشی نامی مسلم خاتون سے نکاح کیا تھا، جس کے بعد ریاستی انتظامیہ اور پولیس کی مبینہ ملی بھگت سے انہیں زبردستی ان کے والد کی غیر قانونی تحویل میں رکھا گیا اور ان پر عقیدہ تبدیل کرنے کے لیے شدید دباؤ ڈالا گیا۔ جسٹس سندیپ جین نے اس معاملے کی سنگینی کا نوٹس لیتے ہوئے نو ستمبر کو حکم دیا تھا کہ نوجوان کو سولہ ستمبر کو عدالت کے رُبرو پیش کیا جائے۔
بدھ کے روز جب شاملی پولیس نے آیوش ملک کو عدالت میں پیش کیا تو انہوں نے جج کے سامنے بغیر کسی خوف یا دباؤ کے دو ٹوک الفاظ میں بیان دیا کہ انہوں نے کسی لالچ یا زبردستی کے بغیر اپنی آزاد مرضی سے دینِ اسلام قبول کیا ہے۔ نوجوان نے عدالت کے سامنے واضح کیا کہ وہ اپنی اہلیہ چاندنی قریشی کے ساتھ ہی زندگی گزارنا چاہتے ہیں اور ان پر لگائے گئے جبری تبدیلیٔ مذہب کے الزامات مکمل طور پر بے بنیاد ہیں۔
اس سے قبل آیوش کے والد کی شکایت پر شاملی پولیس نے جون کے مہینے میں چاندنی قریشی اور ان کے اہل خانہ کے خلاف اتر پردیش کے انسدادِ جبری تبدیلیٔ مذہب قانون اور بھارتیہ نیا سنہتا کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے کارروائی کی تھی۔ پٹیشن میں اس ایف آئی آر کو بدنیتی پر مبنی قرار دیا گیا تھا جس کا مقصد جوڑے کو الگ کرنا اور نوجوان کی آئینی آزادی کو سلب کرنا تھا۔
عدالت نے اپنے عبوری جائزے میں واضح کیا کہ ابتدائی شواہد سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ آیوش نے رضاکارانہ طور پر اسلام قبول کیا اور شادی کی۔ ہائی کورٹ نے پولیس کو پابند کیا ہے کہ وہ جوڑے کی زندگی میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالے، جبکہ کیس کی باقاعدہ سماعت کا سلسلہ آگے بھی جاری رہے گا۔




