حراست میں تشدد پولیس کی سرکاری ڈیوٹی نہیں بلکہ جرم : الہ آباد ہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ

الہ آباد ہائی کورٹ نے پولیس کی جانب سے اختیارات کے ناجائز استعمال اور تھانوں میں غیر قانونی حراستی تشدد کے خلاف ایک انتہائی اہم اور تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ حراست میں لیے گئے شہریوں پر بہیمانہ تشدد کسی بھی صورت پولیس اہلکاروں کی سرکاری ڈیوٹی کا حصہ نہیں ہو سکتا بلکہ یہ صریحاً ایک سنگین جرم ہے۔ جسٹس مدن پال سنگھ پر مشتمل سنگل بینچ نے اتر پردیش کے ضلع باندا کے بابیرو تھانے سے وابستہ ملزم پولیس اہلکاروں کی وہ تمام عرضیاں مسترد کر دیں جن میں انہوں نے اپنے خلاف درج فوجداری مقدمے کو خارج کرنے اور ڈسچارج دینے کی استدعا کی تھی۔

عدالت کے روبرو پیش کیے گئے شواہد اور میڈیکل رپورٹس سے یہ لرزہ خیز حقیقت سامنے آئی کہ مئی 2022 کے دوران پولیس اہلکاروں نے شکایت کنندہ اور اس کے خاندان کے افراد کو حراست میں لے کر ان کے ہاتھ پاؤں رسیوں سے باندھے، انہیں پیٹ کے بل لٹایا اور شدید جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا۔ میڈیکل بورڈ کی تفصیلی رپورٹ نے اس بات کی تصدیق کی کہ متاثرین کے کولہوں، رانوں، ٹانگوں اور سینے پر گہرے نیل اور شدید چوٹوں کے واضح نشانات موجود تھے۔ اس کے علاوہ پولیس اہلکاروں پر گرفتاری کے دوران خواتین کے ساتھ دست درازی کرنے، ان کی توہین کرنے اور جھوٹے مقدمات قائم کرنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے تھے۔

یہ تنازع دراصل سال 2022 میں باندا ضلع کے پدری گاؤں سے شروع ہوا تھا، جہاں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 41A کے تحت ایک معاملے میں نوٹس دینے گئے پولیس کانسٹیبلز اور مقامی افراد کے درمیان مبینہ جھڑپ ہوئی۔ پولیس کا الزام تھا کہ گاؤں والوں نے نوٹس پھاڑ دیے اور پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کیا۔ اس واقعہ کے بعد پولیس کی بھاری نفری گاؤں پہنچی اور رات کے اندھیرے میں چار خواتین سمیت آٹھ افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ بعد ازاں، متاثرین نے مقامی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جہاں مجسٹریٹ کے حکم پر شوانی جوشی سمیت نو نامزد پولیس اہلکاروں اور دیگر کے خلاف سنگین دفعات بشمول دفعہ 354 (خواتین کے ساتھ دست درازی) اور حراستی تشدد کے تحت باقاعدہ مقدمہ درج کر کے چارج شیٹ داخل کی گئی۔

ملزم پولیس اہلکاروں نے عدالت عالیہ میں پناہ لیتے ہوئے ضابطہ فوجداری (CrPC) کی دفعہ 197 کا سہارا لینے کی کوشش کی، جس کے تحت سرکاری فرائض کی انجام دہی کے دوران کیے گئے اقدامات پر کسی بھی ملازم کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے حکومت کی پیشگی اجازت ضروری ہوتی ہے۔ جسٹس مدن پال سنگھ نے اس دفاعی دلیل کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے فیصلہ سنایا کہ شہریوں کو باندھ کر غیر انسانی تشدد کا نشانہ بنانا اور خواتین کی عزت پر حملہ کرنا سرکاری ڈیوٹی کے دائرے میں ہرگز نہیں آتا۔ عدالت نے قانونی نکتہ واضح کیا کہ جب الزامات میں دفعہ 354 جیسی دفعات شامل ہوں تو ملزم سرکاری ملازمین دفعہ 197 کے قانونی تحفظ کے قطعی حقدار نہیں رہتے۔

ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے ذریعے تشکیل دیے گئے آزاد میڈیکل بورڈ کی کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگر آزادانہ میڈیکل معائنہ نہ کرایا جاتا تو پولیس کا یہ سفاکانہ چہرہ شواہد کے فقدان کی نذر ہو جاتا اور سچائی کبھی سامنے نہ آ پاتی۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ درخواست گزار اہلکاروں نے باقاعدہ ضمانت حاصل کیے بغیر اور ٹرائل کورٹ میں پیش ہوئے بنا براہ راست ریلیف مانگنے کی کوشش کی، جو قانون کے طے شدہ طریقہ کار کی خلاف ورزی ہے۔

اس فیصلے کے دور رس اثرات ہوں گے کیونکہ یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک سخت تنبیہ ہے کہ وردی کی آڑ میں انسانی وقار کو پامال کرنے والوں کو عدالتی احتساب سے کوئی استثنا حاصل نہیں ہو سکتا۔ اب ٹرائل کورٹ میں ان تمام ملزم پولیس اہلکاروں کے خلاف باقاعدہ فوجداری ٹرائل آگے بڑھے گا، جس سے متاثرہ خاندان کو انصاف کی راہ ہموار ہوگی۔

شیئر کریں۔