اترپردیش کے تاریخی شہر علی گڑھ میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے سرکاری دورے کے دوران علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) اور شہر کے مختلف حصوں میں واقع مساجد سے لاؤڈ اسپیکر پر اذان کی مبینہ معطلی کا ایک انتہائی حساس اور سنگین معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس مبینہ انتظامی اقدام کے بعد یونیورسٹی کے طلبہ، اساتذہ اور مقامی مسلم برادری میں شدید غم و غصہ اور تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ طلبہ کا الزام ہے کہ وزیر اعلیٰ کی آمد کے پیشِ نظر سخت سیکوریٹی انتظامات کی آڑ میں کیمپس کی متعدد مساجد کو کئی گھنٹوں تک لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے سے روکا گیا، جسے انہوں نے مذہبی آزادی اور مسلم اقلیتی ادارے کی روایات پر براہِ راست حملہ قرار دیا ہے۔ دوسری جانب یونیورسٹی کے پراکٹر اور علی گڑھ پولیس کے اعلیٰ حکام نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ایسی کسی بھی سرکاری ہدایت یا زبانی حکم جاری کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔
دستاب رپورٹس کے مطابق یہ پورا تنازع اس وقت شروع ہوا جب وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ ۳۹۳ کروڑ روپے کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھنے اور عوامی تقریبات میں شرکت کے لیے علی گڑھ پہنچے۔ اے ایم یو کے فائنل ایئر کے طالب علم امان نے گواہی دی کہ ۲۲ جون کو جب وہ آفتاب ہال کے میکڈونالڈ ہاسٹل کی مسجد میں ظہر کی نماز کے لیے گئے، تو انہیں مسجد کے امام نے بتایا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی مبینہ زبانی ہدایات کے مطابق اگلی صبح فجر تک پورے کیمپس میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی رہے گی۔ آٹھ برسوں سے کیمپس میں مقیم امان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی پوری طالب علمی کی زندگی میں کبھی ایسا امتیازی سلوک نہیں دیکھا۔ ایک اور طالب علم عظیم الرحمان نے بھی تصدیق کی کہ انہوں نے خود پولیس اور یونیورسٹی انتظامیہ کے کارندوں کو مساجد کے ذمہ داران سے ملاقات کر کے لاؤڈ اسپیکر بند رکھنے کا دباؤ ڈالتے دیکھا تھا۔ مزید برآں، اے ایم یو مساجد کے ناظم پروفیسر محمد رشید نے بھی ابتدا میں خاموشی اختیار کرنے کے بعد اعتراف کیا کہ یہ پابندی صرف یونیورسٹی تک محدود نہیں تھی بلکہ پورے سول لائنز علاقے میں نافذ تھی، اور ان کے مطابق ضلعی انتظامیہ کے پروٹوکول پر عمل کرنا ضروری تھا۔
اس مبینہ واقعے کی گونج اس وقت مزید تیز ہو گئی جب ایل ایل ایم کے طالب علم اور معروف وکیل کیف حسن نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر، اساتذہ اور عالمی سطح پر موجود سابق طلبہ (ایلومنائی) کے نام ایک کھلا خط لکھ کر انتظامیہ کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔ انہوں نے اپنے خط میں تاریخی شواہد کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ایک مسلم اکثریتی یونیورسٹی کی تاریخ میں پہلی بار اذان کو کس قانون اور اختیار کے تحت خاموش کیا گیا؟ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اس حقیقت سے نظریں نہیں چرا سکتی کیونکہ مظلوم طلبہ اور عینی شاہدین اس کی گواہی دے رہے ہیں۔ طلبہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ اے ایم یو نے ماضی میں بھی بڑی سیاسی شخصیات کی میزبانی کی ہے، لیکن سیکوریٹی پروٹوکول کے نام پر شعائرِ اسلام پر پابندی عائد کرنا کسی بھی صورت میں قابلِ قبول نہیں ہے۔
یہ تنازع صرف یونیورسٹی کیمپس کی چاردیواری تک محدود نہیں رہا بلکہ علی گڑھ شہر کے دیگر مسلم اکثریتی علاقوں سے بھی اسی نوعیت کی پریشان کن شکایات موصول ہوئی ہیں۔ شہر کے زہرہ باغ علاقے کے رہائشی قاسم عتیق اور دھوررا بائی پاس کے مقامی باشندوں نے سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے بغیر کسی باضابطہ تحریری نوٹس کے ان تمام مساجد سے ایمپلیفائر اور لاؤڈ اسپیکر ہٹا دیے تھے جہاں سے وزیر اعلیٰ کا لشکری قافلہ گزرنا تھا۔ عائشہ مسجد کے مؤذن نے نمازیوں کو بتایا کہ پولیس نے ایمپلیفائر اپنے قبضے میں لے لیے تھے جو اگلے دن واپس کیے گئے۔ مقامی مسلم آبادی نے اسے ہراساں کرنے اور آئین ہند کے آرٹیکل ۲۵ کے تحت ملنے والی مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
مسلم برادری کے ان سنگین مطالبات اور شواہد کے برعکس، علی گڑھ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ نیرج کمار جدون نے تمام دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کی جانب سے لاؤڈ اسپیکر ہٹانے یا اذان روکنے کا کوئی حکم جاری نہیں ہوا تھا۔ یونیورسٹی کے پراکٹر ندیم خان نے بھی اسے چند طلبہ کا پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ تاہم، مقامی مسلم حلقوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یوگی حکومت کا ماضی میں مساجد اور اذان کے خلاف بیانیہ انتہائی سخت رہا ہے، جس کی وجہ سے نچلی سطح کی بیوروکریسی اور پولیس اقلیتوں کو دبانے کے لیے ایسے زبانی اور غیر قانونی ہتھکنڈے استعمال کرتی ہے۔ طلبہ نے اب مطالبہ کیا ہے کہ اگر ضلعی انتظامیہ سچی ہے تو وہ اس پورے معاملے کی اعلیٰ سطح پر عدالتی انکوائری کروائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔


