"کوئی بھی محفوظ نہیں”ممتا بنرجی کا اجیت پوار طیارہ حادثے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کا مطالبہ

مہاراشٹر کے ڈپٹی چیف منسٹر اجیت پوار بارامتی کے قریب ایک چارٹرڈ طیارہ حادثے میں ان کی موت واقع ہوگئی ، جس نے قومی سیاست میں ہلچل مچادی ہے۔ پوار کا طیارہ 28 جنوری کی صبح تقریباً 08:45 بجے ممبئی سے بارامتی آتے ہوئے لینڈنگ کے دوران رَن وے کے قریب گر کر آگ لگنے کے باعث تباہ ہوا، جس میں کل پانچ افراد لقمہء اجل بن گئے۔
حادثے کے بعد سیاسی ردعمل میں مغربی بنگال کی وزِیرِاعظم ممتا بنرجی کا بیان سامنے آیا، جنہوں نے اس واقعہ کو سادہ حادثہ قرار دینے پر سوال اٹھائے اور سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ بنرجی نے کہا کہ آج کے دور میں نہ عام عوام محفوظ ہیں اور نہ ہی سیاسی رہنما، اور انہوں نے تحقیقی اداروں پر اعتماد ختم ہونے کا بھی دعویٰ کیا۔
ممتا بنرجی نے عوامی طور پر یہ بھی بیان دیا کہ پوار بی جے پی سے دوری اختیار کرنے کا سوچ رہے تھے اور کچھ حلقوں میں یہ بھی کہا جا رہا تھا کہ وہ “INDIA” بلاک میں واپس آ سکتے تھے، جس نے سازشی نظریات کو ہوا دی ہے۔
دوسری طرف کانگریس، ترنمول کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے آزاد و غیر جانبدارانہ تحقیقات کے مطالبے کی حمایت کی ہے، جب کہ بی جے پی نے ممتا بنرجی کے بیانات کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا اور تحقیقات کو DGCA اور AAIB جیسے اداروں پر چھوڑنے پر زور دیا ہے۔
واقعہ پر وزیراعظم نریندر مودی، مرکزی رہنماﺅں اور مختلف سیاسی شخصیات نے گہرے دکھ اور تعزیت کا اظہار کیا ہے اور اس حادثے کو نہایت افسوسناک قرار دیا ہے۔
اس المناک حادثے کے بعد مہاراشٹر میں تین دن ریاستی سوگ کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
تحقیقاتی ادارے DGCA اور AAIB طیارے کے بلیک باکس، موسم، تکنیکی و پائلٹ سے متعلق ڈیٹا کی جانچ میں مصروف ہیں جبکہ سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کے مطالبے پر ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔