اتر پردیش کی سیاست اور قانونی حلقوں سے ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ نے غازی پور سے سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ افضال انصاری کو اسلحہ لائسنس کی سرکاری فائل غائب ہونے کے مقدمے میں بڑی عبوری راحت فراہم کی ہے۔ اعلیٰ عدالت نے پولس کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس معاملے میں ایس پی ایم پی کے خلاف فی الحال کسی بھی قسم کی جابرانہ کارروائی یا گرفتاری سے باز رہے۔ ہائی کورٹ کا یہ حکم افضال انصاری کے لیے ایک بڑی قانونی کامیابی تصور کیا جا رہا ہے۔
جسٹس سدھارتھ ورما اور جسٹس اچل سچدیو پر مشتمل ڈویژن بنچ نے افضال انصاری کی جانب سے دائر کی گئی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے یہ راحت دی ہے۔ سماعت کے دوران عرضی گزار کے وکیل نے عدالت کے سامنے مضبوط دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ جس فائل کے غائب ہونے کا الزام لگایا جا رہا ہے وہ سال 1983 سے 1987 کے درمیان کی ہے۔ وکیل نے سوال اٹھایا کہ چار دہائیوں پرانے معاملے میں 22 جولائی 2026 کو اچانک ایف آئی آر درج کرانا سیاسی بدنیتی اور ہراسانی پر مبنی کارروائی کی نشاندہی کرتا ہے۔
دوسری جانب، ریاستی حکومت کے وکیل نے معاملے سے متعلق مکمل معلومات اور ہدایات حاصل کرنے کے لیے عدالت سے کچھ وقت دینے کی استدعا کی۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ نے حکومت کی اس درخواست کو قبول کرتے ہوئے کیس کی آئندہ سماعت 10 اگست 2026 کو مقرر کی ہے اور تب تک کے لیے افضال انصاری کو جابرانہ پولیس کارروائی سے تحفظ فراہم کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ اتر پردیش پولیس نے حال ہی میں غازی پور کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (DM) دفتر سے متعلقہ اسلحہ لائسنسوں کے ریکارڈ کی جانچ کی تھی۔ پولیس کا ادعا ہے کہ تحقیقات کے دوران مختار انصاری، ان کے اہل خانہ اور ان سے وابستہ افراد کے لائسنسوں کی اصل فائلوں اور خریدو فروخت کے رجسٹروں میں سنگین بے ضابطگیاں پائی گئیں۔ پولیس کی جانب سے افضال انصاری، ان کی بھابھی افشاں بیگم اور اس وقت کے اسلحہ کلرکوں سمیت کئی افسران کے خلاف کل 5 مختلف مقدمات درج کیے گئے تھے۔
پولیس کا الزام تھا کہ سرکاری افسران اور کلرکوں کی مبینہ ملی بھگت سے ان ریکارڈز کو غائب کیا گیا تاکہ ہتھیاروں کے غلط استعمال اور ان کی اصل صورتحال کو چھپایا جا سکے۔ تاہم، الٰہ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے ملنے والی اس عبوری راحت نے اپوزیشن رہنماؤں کو سیاسی بنیادوں پر نشانہ بنانے کے الزامات کو مزید تقویت دی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا موقف ہے کہ پرانے کیسز کو بنیاد بنا کر اقلیتی اور مخالفین کی آواز کو دبانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، جن پر عدلیہ کا یہ موقف اہم ترین رکاوٹ ہے۔




