آنند وہار ٹرمینس سے نیو جلپائی گوڑی جانے والی ایکسپریس ٹرین کے فرسٹ اے سی کوچ میں سفر کرنے والی ایک خاتون کے ڈھائی لاکھ روپے مالیت کے طلائی زیورات اور پچیس ہزار روپے نقد چوری ہو گئے۔ یہ واردات ٹرین کے لکھنؤ چارباغ ریلوے اسٹیشن پہنچنے پر اس وقت سامنے آئی جب خاتون نے سامان غائب پایا۔ متاثرہ مسافر اپنے کمسن بچے کے ہمراہ سفر کر رہی تھیں، جن کا کہنا ہے کہ پریمیم کوچ کے محفوظ سمجھے جانے والے ماحول میں ان کے بیگ سے قیمتی اشیاء اور رقم نکال لی گئیں۔
خاتون کے مطابق واردات کا انکشاف ہوتے ہی انہوں نے عملے کو متوجہ کرنے کے لیے ایک کے بعد ایک چار مرتبہ ایمرجنسی الارم چین کھینچی، مگر اس کے باوجود نہ تو ٹرین کا ٹکٹ چیکنگ اسٹاف (ٹی ٹی ای) کوچ میں پہنچا اور نہ ہی ریلوے پروٹیکشن فورس (آر پی ایف) کا کوئی جوان مدد کے لیے آیا۔ خاتون نے ریلوے ہیلپ لائن پر بھی فوری شکایت درج کرانے کی کوشش کی، لیکن وہاں سے بھی بروقت کوئی رسپانس نہیں ملا۔ پریشانی کے عالم میں خاتون نے اپنے بچے کے ہمراہ کوچ سے ایک ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر جاری کی، جس میں انہوں نے ریلوے کی لاپرواہی اور سیکیورٹی کی سنگین ناکامی پر گہرے صدمے کا اظہار کیا۔
ریلوے کے سب سے مہنگے اور نجی سہولیات کے حامل فرسٹ اے سی ڈبے میں پیش آنے والے اس واقعے نے مسافروں، بالخصوص اکیلی سفر کرنے والی خواتین اور بچوں کی حفاظت کے دعوؤں کا پول کھول دیا ہے۔ عام طور پر فرسٹ اے سی کے دروازے بند رہتے ہیں اور مسافروں کی آمد و رفت محدود ہوتی ہے، ایسے میں اتنی بڑی مالیت کی چوری ہونا ٹرین کے اندرونی حفاظتی نظام اور نگرانی پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ اگر بھاری کرایہ ادا کرنے کے بعد بھی پریمیم درجے میں بنیادی تحفظ اور ہنگامی مدد میسر نہیں، تو عام کوچز کی حالت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کرنے لگی تو معاملے نے فوری سیاسی رخ اختیار کر لیا۔ سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے ریاستی حکومت اور ریلوے انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نظام میں بدانتظامی اور جرائم پیشہ عناصر کی بے خوفی عام شہری کے لیے مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے مسافر خواتین کے تحفظ سے متعلق حکومتی دعوؤں کو محض کھوکھلے نعرے قرار دیا۔ دوسری طرف اس پیش رفت پر لکھنؤ ریلوے ڈویژن، آر پی ایف یا جی آر پی کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ وضاحتی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔



