ملکی اور بین الاقوامی مارکیٹوں کے زیر اثر ملٹی کموڈٹی ایکسچینج پر منگل کے روز قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں زبردست کمی درج کی گئی ہے۔ منگل کی صبح کاروبار کے آغاز کے ساتھ ہی چاندی کی فیوچر قیمت میں 4400 روپے فی کلو سے زائد کی گراوٹ دیکھی گئی، جبکہ چوبیس کیرٹ سونے کی قیمت فی دس گرام 1300 روپے سے زائد کم ہو گئی۔ ہفتے کے پہلے کاروباری دن نظر آنے والی عارضی تیزی کے بعد منگل کے روز بازار کھلتے ہی فروخت کا دباؤ دیکھا گیا جس کے نتیجے میں دونوں قیمتی دھاتیں نمایاں طور پر سستی ہو گئیں۔
اعداد و شمار کے مطابق چار دسمبر کی ایکسپائری والی چاندی کا معاہدہ گزشتہ روز ایک لاکھ تراسی ہزار سات سو اناسی روپے فی کلوگرام پر بند ہوا تھا، تاہم منگل کو ٹریڈنگ کا آغاز ہوتے ہی یہ قیمت گر کر ایک لاکھ اناسی ہزار تین سو پچاس روپے فی کلوگرام پر آ گئی۔ اس اتار چڑھاؤ کے باعث چاندی فی کلو 4429 روپے نیچے چلی گئی۔ اس تازہ گراوٹ کے نتیجے میں چاندی اپنی سابقہ بلند ترین سطح سے اب تک دو لاکھ چالیس ہزار روپے سے زیادہ کم قیمت پر دستیاب ہو رہی ہے، جس سے صنعتی اور عام خریداروں دونوں کے لیے لاگت میں واضح فرق پیدا ہوا ہے۔
سونے کے شعبے میں بھی مندی کا اثر پوری شدت کے ساتھ ریکارڈ کیا گیا۔ چار دسمبر کی مدت ختم ہونے والے چوبیس کیرٹ سونے کے فیوچر سودوں میں 1386 روپے کی کمی واقع ہوئی، جس کے بعد یہ قیمت گزشتہ روز کے ایک لاکھ چالیس ہزار ایک سو چھیاسی روپے سے کم ہو کر ایک لاکھ اڑتیس ہزار آٹھ سو روپے فی دس گرام پر آ گئی۔ اس اچانک گراوٹ نے سرمایہ کاروں کے منافع کے تخمینوں پر اثر ڈالا ہے جبکہ گھریلو مارکیٹ میں شادیوں اور تقاریب کے سلسلے میں خریداری کرنے والے صارفین کو کچھ ریلیف ملا ہے۔
گھریلو سطح پر انڈین بلین جیولرز ایسوسی ایشن کے جاری کردہ ریٹس بھی فیوچر مارکیٹ کی مندی کی تصدیق کر رہے ہیں۔ ایسوسی ایشن کے مطابق اسپاٹ مارکیٹ میں چوبیس کیرٹ سونا پہلے ہی کم ہو کر ایک لاکھ سینتیس ہزار پانچ سو چوبیس روپے فی دس گرام کی سطح پر آ چکا تھا، جبکہ چاندی ایک لاکھ اناسی ہزار نو سو بہتر روپے فی کلو پر ٹریڈ کر رہی تھی۔ فیوچر مارکیٹ میں منگل کی نئی گراوٹ کے بعد عام زیورات بازاروں میں بھی ریٹیل قیمتوں پر فوری اثر پڑنے کا امکان ہے۔



