ڈریے مت، سامنے آئیے: راہل گاندھی کا وزیر اعظم نریندر مودی کو کھلی بحث کا چیلنج

نئی دہلی میں لوک سبھا کے قائد حزب اختلاف اور سینئر کانگریس رہنما راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خارجہ تعلقات، مالیاتی پالیسیوں اور قومی سلامتی جیسے اہم موضوعات پر روبرو بیٹھ کر کھلی بحث کرنے کا پرزور چیلنج دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری کردہ ایک خصوصی ویڈیو بیان میں کانگریس رہنما نے واضح کیا کہ چیلنج دیے چوبیس گھنٹے مکمل ہو چکے ہیں، لہٰذا وزیر اعظم کو اب گریز کی راہ ترک کر کے قوم کے سامنے حقیقت لانی چاہیے۔

راہل گاندھی نے اپنے ویڈیو پیغام میں سخت لب و لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم اپنی مرضی کا مقام، پلیٹ فارم اور طریقہ کار منتخب کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے نوجوانوں اور میڈیا کی موجودگی میں دونوں رہنما ایک ہی میز پر بیٹھیں تاکہ قوم یہ جان سکے کہ ملک کے مفادات کا تحفظ کون کر رہا ہے اور غیر ملکی حلقوں سے کس نوعیت کے روابط ہیں۔ انہوں نے یہ پیشکش بھی رکھی کہ اگر ثالثی یا منصف کی ضرورت ہو تو آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کو بھی منصف کی نشست پر بٹھایا جا سکتا ہے۔

کانگریس لیڈر نے زور دیا کہ اس کھلے مباحثے میں امریکی معاہدوں کے طریقہ کار، ان کے فوری نفاذ، کابینہ کو اعتماد میں لیے بغیر کیے گئے مبینہ فیصلوں، اڈانی گروپ سے متعلق تنازعات اور دیگر بین الاقوامی رابطوں کے معاملات پر کھل کر بات ہونی چاہیے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ معمول کے بیانات پر اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف ہتک عزت کے درجنوں مقدمات قائم کیے جاتے ہیں، لیکن خارجہ تعلقات اور حساس مالی معاہدوں کے سنجیدہ سوالات پر نہ تو وضاحت دی جاتی ہے اور نہ ہی کوئی قانونی چارہ جوئی دیکھنے میں آتی ہے۔

یہ سیاسی پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان خارجہ امور، معاشی شفافیت اور اقلیتی و پسماندہ طبقات کے حقوق سے جڑے امور پر محاذ آرائی روز بروز شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ معیشت اور خارجہ پالیسی کے شعبوں میں بڑے فیصلے پارلیمان اور عوامی احتساب سے دور رکھے جا رہے ہیں، جس کا براہ راست اثر ملکی خودمختاری اور عام شہریوں پر پڑ رہا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق راہل گاندھی کے اس چیلنج سے انتخابی سیاست اور پالیسی سازی کے مباحث کو نیا رخ ملا ہے، جس کا مقصد حکومت کو قومی ایجنڈے پر دفاعی پوزیشن پر لانا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ حکمران جماعت اس براہ راست پیشکش کا سیاسی یا پارلیمانی سطح پر کیا باضابطہ جواب دیتی ہے۔

شیئر کریں۔