انڈیا اتحاد کی ریلی میں انتخابی شفافیت اور ایس آئی آر پر شدید اعتراضات؛ راہل گاندھی نے آئین کے تحفظ کا عزم دہرایا، ممتا بنرجی نے بنگال کے انتخابی نتائج پر سوال اٹھائے، کھڑگے نے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کردیا
انتخابات میں عوام کے ووٹ کی اہمیت اور انتخابی اداروں کی غیر جانب داری کا سوال اتوار کو دہلی کے رام لیلا میدان میں اپوزیشن کی ایک بڑی سیاسی سرگرمی کا محور بنا رہا۔ انڈیا اتحاد کے زیر اہتمام منعقدہ ریلی میں مختلف اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے ایک پلیٹ فارم سے انتخابی نظام پر اپنے اعتراضات پیش کیے اور الزام لگایا کہ ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) اور دیگر انتخابی اقدامات کے ذریعے شہریوں کے حق رائے دہی کو متاثر کیا جا رہا ہے۔
اس اجتماع میں محض انتخابی بے ضابطگیوں کا مسئلہ ہی نہیں اٹھایا گیا، بلکہ آئین کی بالادستی، جمہوری اداروں کی خودمختاری، بے روزگاری، کسانوں کے مسائل اور میڈیا کی آزادی جیسے موضوعات بھی زیر بحث آئے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو بھی اپنی تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کے عہدے سے ہٹائے جانے کا مطالبہ کیا۔
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، راہل گاندھی، ممتا بنرجی، اکھلیش یادو، تیجسوی یادو اور دیپانکر بھٹاچاریہ سمیت متعدد رہنماؤں نے خطاب کیا۔ ان کے خطابات میں ایک مشترکہ پیغام نمایاں رہا کہ اپوزیشن انتخابی شفافیت اور ووٹروں کے حقوق کے معاملے کو سیاسی جدوجہد کا اہم موضوع بنائے رکھے گی۔
راہل گاندھی نے ووٹ کے حق کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا
راہل گاندھی نے اپنے خطاب میں ووٹ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ کسی شہری کا ووٹ محض انتخابی عمل کا حصہ نہیں، بلکہ جمہوری نظام میں اس کی آواز اور اس کی نمائندگی کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک میں طویل عرصے سے ووٹوں کی چوری کا سلسلہ جاری ہے اور اس کے ذریعے جمہوریت کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ ملک کے کسانوں، مزدوروں اور نوجوانوں کی آواز کو دبنے نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے اجتماع کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہاں موجود لوگوں نے اپنے اتحاد کے ذریعے وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار تک اپنا پیغام پہنچا دیا ہے۔
آئین کی بالادستی پر زور دیتے ہوئے راہل گاندھی نے واضح کیا کہ ملک میں کوئی بھی شخص آئین سے بالاتر نہیں ہوسکتا۔ ان کے مطابق جمہوریت کا تحفظ اسی وقت ممکن ہے جب آئینی اصولوں اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا احترام کیا جائے۔
انہوں نے ووٹوں کی مبینہ چوری کو عام چوری سے زیادہ سنگین معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک کے ہر شہری کی آواز متاثر ہوتی ہے۔
امبانی اور اڈانی کا ذکر، بے روزگاری اور کسانوں کے مسائل پر حکومت کو گھیرا
راہل گاندھی نے انتخابی معاملات کے ساتھ معاشی نابرابری اور روزگار کے مسائل بھی اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسان اپنے حقوق سے محروم ہیں، نوجوانوں کو روزگار نہیں مل رہا اور ملک کی دولت چند بڑے صنعت کاروں کے پاس سمٹتی جا رہی ہے۔
انہوں نے امبانی اور اڈانی کا نام لیتے ہوئے الزام لگایا کہ ملک کی دولت ان کے پاس جارہی ہے، جبکہ عام شہری کو اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
قرضوں کی معافی کا حوالہ دیتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ بڑے پیمانے پر قرض معاف کیے جاتے ہیں، لیکن ایک عام آدمی قرض ادا نہ کرسکے تو اس کے خلاف سخت کارروائی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک منصفانہ معاشرے میں کسانوں، طلبہ اور نوجوانوں کو ان کی محنت کا پورا حق ملنا چاہیے۔
چیف الیکشن کمشنر کے خلاف قانونی کارروائی سے متعلق بھی انہوں نے سخت موقف اختیار کیا اور کہا کہ وہ اس معاملے کو آگے بڑھائیں گے۔ وزیر اعظم مودی اور امت شاہ کے حوالے سے بھی انہوں نے کہا کہ وہ ان کی سیاست کا مقابلہ کریں گے، تاہم ان سے ذاتی نفرت نہیں رکھتے۔
ممتا بنرجی نے بنگال کے انتخابی نتائج کو چیلنج کیا
مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اپنے خطاب میں ریاست کے انتخابی حالات کو موضوع بنایا اور الزام لگایا کہ وہاں انتخابی عمل کے مختلف مراحل میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔
انہوں نے خصوصی جامع نظرثانی کے عمل پر بھی اعتراض کیا اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹوں کی گنتی کے عمل کو ہائی جیک کرنے کا الزام لگایا۔
ممتا بنرجی نے انتخابی نتائج پر اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’ہم ہارے نہیں ہیں، ہمیں ہرایا گیا ہے۔‘‘ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بنگال میں انتخابی عمل کو متاثر کیا گیا اور ای وی ایم و ووٹوں میں ہیرا پھیری ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کسی دباؤ کے سامنے جھکنے والی نہیں اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔
کھڑگے نے گیانیش کمار کے خلاف جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے انتخابی نظام کے حوالے سے اپنی تقریر کا بڑا حصہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر تنقید اور ان کے استعفے کے مطالبے کے لیے مختص کیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ، چیف الیکشن کمشنر کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔ کھڑگے کے مطابق خواتین، نوجوانوں اور دلتوں سمیت مختلف طبقات کے ووٹوں کو متاثر کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے تک اپوزیشن کی جدوجہد جاری رہے گی۔ اس موقع پر انہوں نے انتہائی سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ زمین کے اندر بھی چلے جائیں تو نوجوان انہیں وہاں سے نکال لائیں گے۔
کھڑگے نے سرکاری تحقیقاتی ایجنسیوں کے استعمال پر بھی اعتراض کیا۔ ان کا الزام تھا کہ ای ڈی جیسی ایجنسیوں کے ذریعے اپوزیشن رہنماؤں کو خوف زدہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، لیکن اپوزیشن اس دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گی۔
انہوں نے اپنے خطاب میں ’’مودی ہٹاؤ، جمہوریت بچاؤ‘‘ کا نعرہ بھی بلند کیا۔
اکھلیش یادو نے رام مندر کے چندے اور صحافت کی آزادی کا مسئلہ اٹھایا
سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے اپنی تقریر میں بی جے پی کو نشانہ بناتے ہوئے رام مندر کے چندے سے متعلق الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ مندر کے لیے جمع کیے گئے چندے میں چوری کرنے والوں کا اس بار صفایا ہونا طے ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ کبھی عالمی قیادت کے دعوے کرتے تھے، وہ آج ووٹ چوری کے الزامات میں گھرے ہوئے ہیں۔ اکھلیش یادو نے انتخابی نظام میں مبینہ مداخلت کو جمہوری حقوق کے لیے تشویش ناک قرار دیا۔
ان کے خطاب کا ایک اہم پہلو صحافت کی آزادی بھی رہا۔ انہوں نے کہا کہ جو صحافی سچ سامنے لاتے ہیں اور عوام کو حقائق سے آگاہ کرتے ہیں، انہیں پریشان کیا جاتا ہے۔ انہوں نے میڈیا کے خلاف مبینہ کارروائیوں پر حکومت سے جواب طلب کیا۔
تیجسوی یادو نے مہابھارت کے کردار شکونی سے انتخابی سیاست کا موازنہ کیا
آر جے ڈی رہنما تیجسوی یادو نے انتخابی بے ضابطگیوں پر طنز کرنے کے لیے مہابھارت کی مثال پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح شکونی پانسے کے ذریعے بے ایمانی کرتا تھا، اسی طرح آج بھی بے ایمانی کی جا رہی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ووٹوں کی مبینہ چوری کے لیے سافٹ ویئر استعمال کیا گیا اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو جیل میں ہونا چاہیے۔
تیجسوی یادو نے کہا کہ رام لیلا میدان آج ایک مختلف نوعیت کی جنگ کا گواہ بن رہا ہے۔ ان کے مطابق مہابھارت کی ابتدا میدان جنگ سے نہیں بلکہ پانسے کے کھیل سے ہوئی تھی اور آج بھی اقتدار کے لیے ایسی ہی چالیں چلی جا رہی ہیں۔
دیپانکر بھٹاچاریہ نے ایس آئی آر کو جمہوری حقوق کے لیے خطرہ بتایا
سی پی آئی (ایم ایل) کے جنرل سکریٹری دیپانکر بھٹاچاریہ نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی کے عمل کو اپنی تقریر کا مرکزی موضوع بنایا۔
انہوں نے ایس آئی آر کو جمہوریت کے خلاف ’’سرجیکل اسٹرائیک‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بہار میں اس عمل کے آغاز کے بعد اس کے اثرات ملک کے دیگر حصوں میں بھی محسوس کیے گئے ہیں۔
ان کا الزام تھا کہ ایس آئی آر کے ذریعے عام شہریوں کے ووٹ دینے کے حق کو متاثر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے پر احتجاج کرنے والوں کے لیے جنتر منتر پر احتجاج کی گنجائش محدود کردی گئی ہے۔
دہلی کے انتظامی اور سکیورٹی ماحول پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دارالحکومت کے حالات کسی جمہوری ملک کے بجائے پولیس اسٹیٹ جیسے محسوس ہوتے ہیں۔
نیہا بورا نے بی جے پی اور آر ایس ایس پر تنقید کی
آئیسا کی صدر نیہا بورا نے اپنی تقریر میں ہندوستان کی آزادی کی تاریخ اور جمہوری جدوجہد کا حوالہ دیتے ہوئے بی جے پی اور آر ایس ایس کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے اس تصور پر اعتراض کیا کہ ہندوستان کی تاریخ یا آزادی کی جدوجہد کو 2014 سے جوڑ کر پیش کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی تاریخ کسی ایک سیاسی جماعت یا حکومت کے دور سے شروع نہیں ہوتی۔
انہوں نے کہا کہ رام لیلا میدان میں جمع ہونے والے افراد اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ ہندوستان کی تاریخی اور جمہوری روایت کسی ایک سیاسی نظریے تک محدود نہیں ہے۔
ریلی کے لیے غیر معمولی سکیورٹی انتظامات
اپوزیشن جماعتوں کے اس بڑے اجتماع کے پیش نظر دہلی پولیس نے وسیع حفاظتی انتظامات کیے تھے۔ مارچ کے راستے اور جلسہ گاہ کی نگرانی کے لیے چار ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں اور مرکزی مسلح پولیس فورسز کو تعینات کیا گیا تھا۔
رام لیلا میدان کو 14 سکیورٹی زون میں تقسیم کیا گیا تھا، جن کی نگرانی اسسٹنٹ کمشنر رینک کے افسران کر رہے تھے۔ مارچ کا آغاز کناؤٹ پلیس سے ہوا اور شرکاء منٹو روڈ جنکشن اور اجمیری گیٹ سے ہوتے ہوئے جلسہ گاہ پہنچے۔
ریلی میں مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے ساتھ طلبہ تنظیموں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھی حصہ لیا۔ ترنمول کانگریس کے رہنما ابھیشیک بنرجی بھی اس موقع پر موجود تھے۔
تاجروں کی تنظیم کے اعتراض پر راہل گاندھی کا جواب
ریلی کے انعقاد سے قبل دہلی کی تجارتی تنظیم چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری نے اس پروگرام پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ سیاسی سرگرمیوں سے تاجروں کے کاروبار متاثر نہیں ہونے چاہئیں۔
اس معاملے پر راہل گاندھی نے کہا کہ ملک میں تہواروں کا موسم ہے اور دیوالی، چھٹھ اور بھائی دوج جیسے تہوار قریب ہیں۔ انہوں نے دہلی آنے والے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ احتجاج اور سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ مقامی بازاروں سے خریداری بھی کریں تاکہ تاجروں کو کاروباری فائدہ پہنچ سکے۔
قومی ترانے کے ساتھ اختتام
دن بھر جاری رہنے والی اس سیاسی ریلی کا اختتام دہلی کانگریس کی جانب سے شرکاء کے شکریے کے بعد قومی ترانے کے ساتھ ہوا۔ اپوزیشن رہنماؤں نے اپنے خطابات میں انتخابی شفافیت اور جمہوری حقوق کے تحفظ کو آئندہ سیاسی جدوجہد کا اہم موضوع بنانے کا اعلان کیا۔
رام لیلا میدان کا یہ اجتماع ایسے وقت میں منعقد ہوا ہے جب ایس آئی آر، ووٹر لسٹوں کی نظرثانی اور انتخابی عمل کی شفافیت پر سیاسی بحث جاری ہے۔ ریلی کے ذریعے انڈیا اتحاد نے ان مسائل کو ایک مشترکہ سیاسی پلیٹ فارم پر اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ اپوزیشن کا یہ مشترکہ موقف آئندہ دنوں میں کس طرح کی سیاسی اور پارلیمانی سرگرمیوں میں تبدیل ہوتا ہے۔




