محمد رضا مانوی
سینئر صحافی، بھٹکل
(کنڑا مضمون کا خلاصہ)
یکم نومبر اہل کرناٹک کے لیے فخر اور مسرت کا دن ہے۔ کرناٹک راجیہ اتسو محض ایک ریاستی تہوار نہیں، بلکہ اس سرزمین کی عظیم تاریخ، تہذیب و ثقافت، روایات اور کنڑا زبان سے محبت کو یاد کرنے کا ایک اہم موقع بھی ہے۔ اس دن جہاں ہمیں کنڑا زبان کی عظمت اور اس کے شاندار ماضی کو یاد کرنا چاہیے، وہیں مختلف زبانوں کے درمیان محبت، احترام اور بھائی چارے کو مضبوط بنانے کا عہد بھی کرنا چاہیے۔
کرناٹک اپنی ایک شاندار تاریخ اور اپنے تہذیبی ورثے کی حامل ریاست ہے۔ کنڑا زبان کی تاریخ ہزاروں سال پر محیط ہے۔ وچن ادب، داس ادب، لوک روایات، فنون، علم و ادب اور فکری سرمایہ کے ذریعے کنڑا زبان نے معاشرے کو گراں قدر خدمات پیش کی ہیں۔ مختلف زبانوں، تہذیبوں اور برادریوں کے لوگوں کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے کرناٹک تنوع میں اتحاد کی ایک بہترین مثال ہے۔
کنڑیگا ہونا ہمارے لیے باعث فخر ہے۔ کنڑا زبان سے محبت کرنا، اس کی ترقی کے لیے کوشش کرنا اور آنے والی نسلوں کو اس کی خوب صورتی اور مٹھاس سے روشناس کرانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ لیکن کنڑا سے ہماری محبت دوسری زبانوں کے لیے نفرت یا حقارت میں تبدیل نہیں ہونی چاہیے۔ جس طرح ہمیں اپنی زبان پر فخر ہے، اسی طرح دوسری زبانوں کے احترام کا جذبہ بھی ہمارے اندر ہونا چاہیے۔
اپنی زبان کو بلند مقام دلانے کے لیے کسی دوسری زبان کو نیچا دکھانا ضروری نہیں۔
زبانیں انسانوں کے درمیان محبت اور بھائی چارے کا پل بننی چاہئیں، دیوار نہیں۔ زبان انسانوں کے درمیان رابطے، جذبات کے اظہار اور ایک دوسرے کو سمجھنے کا ذریعہ ہے۔ ہر زبان کا اپنا حسن، اپنی اہمیت اور اپنی شناخت ہوتی ہے۔ زبان کا تعلق کسی ایک مذہب سے مخصوص نہیں ہوتا۔ کسی بھی زبان کو کسی خاص مذہب کی ملکیت سمجھنا درست نہیں۔ زبان تو پوری انسانیت کا مشترکہ سرمایہ ہے، جو لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا ذریعہ بنتی ہے۔
کرناٹک میں کنڑا کے ساتھ اردو، تولو، کونکنی، کوڈوا، مراٹھی، تلگو اور تمل سمیت کئی زبانوں کو اپنا منفرد مقام حاصل ہے۔ ان زبانوں کو بولنے والے لوگوں نے بھی کرناٹک کی سماجی، معاشی اور تہذیبی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی زبانوں اور ثقافتوں کا احترام کرنے سے کنڑا زبان کی عظمت میں کوئی کمی نہیں آتی، بلکہ اس سے کرناٹک کی کشادہ دلی، رواداری اور فراخ نظر تہذیب کو مزید بلندی حاصل ہوتی ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں زبان کے نام پر باہمی بدگمانی، عدم برداشت اور نفرت کے جذبات میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ یہ رجحان یقیناً تشویش ناک ہے۔ زبان سے محبت کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ دوسروں پر دباؤ ڈالا جائے یا ان کی توہین کی جائے۔
کنڑا زبان سیکھنے، بولنے اور روزمرہ زندگی میں استعمال کرنے کی ترغیب دینا ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ دوسری زبانیں بولنے والوں کے ساتھ عزت، محبت اور اپنائیت سے پیش آنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔
جو کام محبت اور احترام سے ہوسکتا ہے، وہ زور زبردستی سے کبھی حاصل نہیں کیا جاسکتا۔
زبان کے نام پر لوگوں کو تقسیم کرنے کے بجائے زبان ہی کے ذریعے انہیں ایک دوسرے کے قریب لانے کی کوشش ہونی چاہیے۔ تعلیمی اداروں، عوامی پروگراموں اور سوشل میڈیا پر لسانی ہم آہنگی کے پیغام کو زیادہ اہمیت دینے کی ضرورت ہے۔
خصوصاً نوجوان نسل کو چاہیے کہ وہ زبان کو اختلاف اور تصادم کا مسئلہ بنانے کے بجائے باہمی افہام و تفہیم، دوستی اور بھائی چارے کو فروغ دینے کا ذریعہ بنائے۔ نوجوانوں کے اندر یہ احساس پیدا کرنا ضروری ہے کہ زبانیں ایک دوسرے کی مخالف نہیں، بلکہ ایک دوسرے کو سمجھنے اور قریب آنے کا وسیلہ ہیں۔
کرناٹک راجیہ اتسو کی تقریبات صرف پرچم کشائی، جلوسوں، ثقافتی پروگراموں اور نعروں تک محدود نہیں رہنی چاہئیں۔ اس موقع پر کنڑا زبان کی ترقی کے لیے اپنی انفرادی اور اجتماعی طور پر خدمات انجام دینے کے لیے آگے آنا چاہیے۔ اس کے ساتھ یہ بھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ دوسری زبانیں بولنے والے افراد کے ساتھ اپنے تعلقات کو کس طرح بہتر بنایا جاسکتا ہے اور معاشرے میں محبت، رواداری اور خوشگوار بقائے باہمی کی فضا کو کیسے برقرار رکھا جاسکتا ہے۔
کرناٹک کی اصل خوب صورتی صرف اس کی زبان، تاریخ اور ثقافت میں نہیں، بلکہ یہاں بسنے والے مختلف مذاہب، زبانوں اور تہذیبوں کے لوگوں کے باہمی احترام اور اتحاد میں بھی پوشیدہ ہے۔ اس خوب صورتی کو برقرار رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
آئیے! اس کرناٹک راجیہ اتسو کے موقع پر ہم یہ عہد کریں کہ کنڑا زبان سے محبت کریں گے، اس کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں گے اور اس کے ساتھ دوسری زبانوں کو بھی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھیں گے۔ لسانی تعصب اور نفرت کو اپنے دلوں سے نکال کر باہمی احترام، محبت، رواداری اور مل جل کر زندگی گزارنے کو ترجیح دیں گے۔
کنڑا ہماری شان ہے اور دوسری زبانوں کا احترام ہماری تہذیب کی پہچان۔
زبانیں دلوں کو جوڑنے کا ذریعہ بنیں، انہیں توڑنے کا نہیں۔ زبانوں کے درمیان محبت کا رشتہ مضبوط ہو، نفرت کی دیواریں کھڑی نہ ہوں۔
(مضمون نگار کی رائے سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)




