تحریر: شیما فیصل پیشمام
انگریزی تحریر کا خلاصہ
’’میرے قدموں تلے سے زمین کھسک گئی‘‘
یہ محاورہ تو بہت سنا تھا، مگر اس کا حقیقی مفہوم اب تک سمجھ میں نہیں آیا تھا، اکتوبر کا ایک معمول کا دن، دوپہر دو بج کر اڑتالیس منٹ پر، اچانک زندگی نے مجھے اس کے معنی سمجھا دیے۔
یوں لگا جیسے وقت کچھ لمحوں کے لیے سب کچھ ٹھہرسا گیا ہو۔
سب سے پہلے دل نے اس خبر کو ماننے سے انکار کیا۔ میں نے پیغام بار بار پڑھا۔ اس میں ان کے شوہر کا نام دیکھا، ان کے بیٹے کا نام دیکھا، اور اپنے آپ کو یقین دلانے کی کوشش کرتی رہی کہ ضرور کوئی اور ہوگی، جس کا نام بھی ان جیسا ہو، جن کے بیٹے کا نام بھی وہی ہو اور جن کے شوہر کا نام بھی ان کے شوہر کے نام سے ملتا ہو۔ یقیناً یہ وہ نہیں ہوسکتیں!
مگر وہ وہی تھیں۔
اور پھر اچانک آنسو بہنے لگے۔ مجھے خود بھی احساس نہ ہوا کہ کب آنکھیں برسنے لگی تھیں۔ ایک کے بعد ایک، یادوں کا ایک سیلاب دل و دماغ میں امڈ آیا، گویا میرا ذہن شدتِ بے بسی کے عالم میں ان کی ہر چھوٹی بڑی یاد کو اپنے دامن میں سمیٹ لینا چاہتا ہو۔
ان کی مسکراہٹ، جو ہمیشہ محبت اور اپنائیت سے لبریز ہوتی تھی۔ ان کا دسترخوان سجانا۔ میرے سامنے کھانا رکھنا اور اپنے ہاتھوں سے مجھے کھلانا۔ سردیوں کی ایک خشک صبح، جب میں اسکول جانے کے لیے تیار ہوتی تو ان کا میرے ہونٹوں پر نیویا کریم لگانا۔ سلائی مشین کے سامنے بیٹھ کر ہمارے کپڑے سینا۔ میرے لیے خاص کھانے تیار کرنا، کیونکہ میں گوشت اور دیگر غیر سبزی غذاؤں کے استعمال سے پرہیز کرتی تھی۔ ان کا اپنا ماہانہ ڈائجسٹ پڑھنا اور میرا چپکے چپکے یہ دیکھنے کی کوشش کرنا کہ وہ کیا پڑھ رہی ہے۔ دودھ کے مختلف ذائقے مجھے چکھانا، حالاں کہ میں کھانے پینے کے معاملے میں بہت نخرے دکھاتی تھی۔ دبئی کی مصروف سڑکیں پار کرتے ہوئے ان کا ہاتھ تھامے رکھنا اور نہ جانے کتنی ہی یادیں ہیں، جنہیں بیان کرنے بیٹھوں تو شاید بات ختم نہ ہو۔ وہ یادیں جو اُس وقت روزمرہ زندگی کے معمولی واقعات معلوم ہوتی تھیں، آج قیمتی خزانوں کی طرح محسوس ہوتی ہیں۔
میری زندگی کی ابتدائی ترین یادوں میں سے بیشتر انہیں کے ساتھ وابستہ ہیں؛ ان کے گھر کی، ان کے خاندان کی، ان کی محبتوں کی۔ برسوں تک ان کا گھر ہماری روزمرہ زندگی کا ایک حصہ بنا رہا۔ وہ ان گھروں میں سے تھا جہاں جانے کے لیے کسی خاص وجہ کی ضرورت نہیں ہوتی؛ بس دل چاہتا تو چلے جاتے، کیونکہ وہ گھر ہماری زندگی کا حصہ بن چکا تھا۔
اس گھر میں میرے بچپن کا اتنی یادیں وابستہ تھیں کہ شاید مجھے خود بھی اس وقت احساس نہیں تھا کہ میرا دل ان سے کس قدر وابستہ ہوچکا ہے۔
گزشتہ سال جب میں ان کے نئے گھر گئی تو میں نے ان سے کہا تھا ’’یہاں آکر ایسا محسوس ہی نہیں ہوتا کہ میں ماموں مامی کے گھر آئی ہوں۔‘‘ آج سوچتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ اس وقت مجھے خود بھی اپنے ان الفاظ کا پورا مطلب معلوم نہیں تھا۔
میرا لگاؤ کسی عمارت یا مکان سے نہیں تھا، بلکہ ان دیواروں کے اندر گزرنے والی زندگی سے تھا۔ ان مانوس چہروں سے، روزمرہ کے ان چھوٹے چھوٹے معمولات سے، وہاں بننے والی ان یادوں سے، اور سب سے بڑھ کر، ان سے۔
میری ابتدائی یادوں کا ایک بڑا حصہ ان کے گرد گھومتا ہے، جو ہمیشہ ہمارا خیال رکھتی تھیں۔ مہربانی، شفقت اور دوسروں کی فکر کرنا گویا ان کی فطرت میں شامل تھا۔ شاید گھر کی سب سے بڑی بیٹی کی حیثیت نے انہیں بیک وقت نرم دل بھی بنایا تھا اور مضبوط ارادوں والی بھی۔
وہ ہمدرد تھیں، گرم جوش تھیں، ایثار و قربانی کا پیکر تھیں اور زندگی سے بھرپور تھیں ۔ ان میں ایک عجیب سی خوبی تھی کہ وہ کسی غیر معمولی اہتمام کے بغیر بھی دوسروں کو اپنائیت کا احساس دلا دیتی تھیں ۔ ان کے پاس آکر انسان خود کو اجنبی محسوس نہیں کرتا تھا، بلکہ یوں لگتا تھا جیسے وہ اپنے ہی گھر میں ہو۔
اور جب برسوں بعد بھی ہماری ملاقات ہوئی تو ان کی محبت، ان کی گرم جوشی اور وہی پرانی اپنائیت جوں کی توں باقی تھی۔
مجھے خوشی ہے کہ مجھے اپنی زندگی کی یہ تمام یادیں ان کے ساتھ بتانے کا موقع ملا۔ انہوں نے ہمارے لیے جو کچھ کیا، وہ اتنا زیادہ ہے کہ اسے لفظوں میں سمیٹنا ممکن نہیں۔
اور اگر میں کسی طرح ان تمام باتوں کو لکھ بھی دوں تو بھی شاید کسی دوسرے شخص کو یہ احساس نہیں دلا سکوں گی کہ ان چھوٹی چھوٹی باتوں کی میرے لیے کیا اہمیت تھی۔ بعض چیزوں کو یاد کیا جاسکتا ہے، بیان کیا جاسکتا ہے، ان کے بارے میں لکھا جاسکتا ہے، لیکن ان کا حقیقی احساس وہی شخص سمجھ سکتا ہے جو خود ان لمحوں کا حصہ رہا ہو۔
مجھے کبھی پوری طرح احساس ہی نہیں ہوا کہ آپ ہمارے کتنے قریب تھیں، اور میں آپ سے کس قدر محبت کرتی تھی۔ شاید اس لیے کہ مجھے اس محبت کے بارے میں کبھی سوچنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی۔ آپکی موجودگی میری زندگی کا ایک ایسا فطری حصہ تھی کہ میں نے کبھی رک کر یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ آپ میرے لیے کتنی اہم ہو۔
آپ میرے بچپن میں موجود تھیں، ہماری روزمرہ زندگی میں موجود تھیں، ان تمام چھوٹے چھوٹے لمحوں میں موجود تھیں جن کی اہمیت کا مجھے اس وقت اندازہ نہیں تھا۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ ایک دن ایسا بھی آئے گا جب میرا دل انہی لمحوں میں واپس لوٹ جانے کے لیے تڑپے گا۔
آج بھی روزمرہ کی گفتگو میں تمہارے خاندان کا ذکر میرے لبوں پر آجاتا ہے، خواہ کئی دنوں یا مہینوں سے آپ لوگوں سے نہ بات ہوئی ہو، نہ ملاقات۔ میرے آس پاس کے لوگ تو آپکو جانتے ہیں، حالاں کہ شاید انہوں نے تمہیں کبھی دیکھا بھی نہیں۔ وہ آپکے خاندان کو میری باتوں سے پہچانتے ہیں، میرے بیان کرنے کے انداز سے، ان چھوٹی چھوٹی یادوں سے جو جانے کب سے میرے دل میں گھر کیے ہوئے ہیں اور جنہیں میں نے خود بھی کبھی شعوری طور پر سنبھال کر رکھنے کی کوشش نہیں کی۔
اور اب میں یہ سوچنے لگی ہوں کہ شاید مجھے آپکے فراق میں اپنی باقی زندگی کے اتنے ہی نہیں، بلکہ اس سے بھی زیادہ سال گزارنے پڑیں گے، جتنے سال آپکے ساتھ رہنے اور آپکی محبتیں پانے کے لیے مجھے نصیب ہوئے۔
شاید کسی اپنے کو کھو دینے کا سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو یہی ہے کہ جب تک وہ ہمارے درمیان موجود ہوتے ہیں، ہمیں ان کی موجودگی کے مقام کا پورا احساس نہیں ہوتا۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ابھی بہت وقت باقی ہے۔ ایک اور ملاقات ہوگی، ایک اور گفتگو ہوگی، ایک اور معمول کا دن آئے گا۔ ہمیں کیا معلوم کہ ایک دن یہی معمولی دن ہماری زندگی کی سب سے قیمتی یادوں میں بدل جائیں گے، اور ہم انہیں دوبارہ پانے کے لیے ترسیں گے۔
ہم اپنے پیاروں کی موجودگی کے اس قدر عادی ہوجاتے ہیں کہ انہیں یہ بتانا بھول جاتے ہیں کہ وہ ہمارے لیے کتنے اہم ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ انہیں خود ہی معلوم ہوگا، ابھی بہت مواقع آئیں گے، پھر کبھی اپنے دل کی بات کہہ دیں گے، کسی اور دن اپنے جذبات کا اظہار کرلیں گے۔
مگر پھر ایک دن ایسا آتا ہے کہ ہمارے پاس کہنے کے لیے بہت کچھ باقی رہ جاتا ہے، لیکن سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔
آپکی بہت یاد آئے گی۔
میرا بچپن اتنا روشن اور خوب صورت بنانے کے لیے آپکا شکریہ۔ مجھے اس وقت بھی خاص ہونے کا احساس دلانے کے لیے شکریہ، جب میں اتنی چھوٹی تھی کہ یہ سمجھ بھی نہیں سکتی تھی کہ کسی کے لیے خاص ہونے کا مطلب کیا ہوتا ہے۔
ان تمام چھوٹی چھوٹی محبتوں کے لیے آپکا شکریہ، جن کے بارے میں شاید آپ نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا کہ میں انہیں اتنے عرصے تک یاد رکھوں گی۔ آپکی ہر اس محبت، احسان اور مہربانی کے لیے شکریہ جو اپنے لمحے سے گزر جانے کے باوجود میرے دل میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوگئی۔
اور میری زندگی کے ان خوب صورت برسوں کا حصہ بننے کے لیے بھی آپکا شکریہ، جنہیں یاد کرکے میں ہمیشہ اپنے بچپن کی طرف لوٹ جاؤں گی۔
کاش! آپکے ساتھ گزارنے کے لیے کچھ اور وقت ہوتا۔
کاش! آپکی موجودگی کے کچھ اور لمحے مجھے نصیب ہوتے۔
کاش! مجھے اس وقت احساس ہوجاتا کہ آپکے ہوتے ہوئے ہی مجھے آپ سے یہ سب کہہ دینا چاہیے تھا۔
میں آپ سے محبت کرتی ہوں، ہمیشہ کرتی رہوں گی۔
اور اب میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپکی تمام لغزشوں سے درگزر فرمائے، آپکے تمام نیک اعمال کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور آپ نے ہمارے ساتھ جو محبتیں اور مہربانیاں کیں، ان سب کا بہترین بدلہ عطا فرمائے؛ حتیٰ کہ ان چھوٹی چھوٹی نیکیوں کا بھی جنہیں شاید آپ نے کبھی کوئی خاص اہمیت نہیں دی ہوگی۔
اللہ تعالیٰ آپ کی قبر کو نور سے بھر دے، اور اسے جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے۔ اپنی بے پایاں رحمت سے آپکو ڈھانپ لے اور آپ کو وہ سکون، راحت اور اطمینان عطا فرمائے جو آپ زندگی بھر اپنے آس پاس کے لوگوں کو دیا کرتی تھیں۔
آمین یا رب العالمین!




