ایس ائی آر میں ‘ای سی آئی نیٹ’ کا استعمال: الیکشن کمیشن کی رازداری پر کانگریس برہم، چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ تیز

نئی دہلی میں اپوزیشن جماعت کانگریس نے الیکشن کمیشن آف انڈیا پر ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران استعمال ہونے والے ڈیجیٹل سسٹم ‘ای سی آئی نیٹ’ سے متعلق اہم معلومات دانستہ طور پر چھپانے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ کانگریس کا مؤقف ہے کہ کمیشن کی یہ غیر معمولی رازداری اس بات کا بین ثبوت ہے کہ انتخابی فہرستوں سے بڑے پیمانے پر رائے دہندگان کے نام خارج کرنے کے لیے الگورتھم کی سطح پر گڑبڑ کی گئی ہے۔ اپوزیشن نے ایک بار پھر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے اور جاری ایس آئی آر مہم کو فی الفور منسوخ کرنے کا مطالبہ دہرایا ہے۔

کانگریس کے جنرل سیکریٹری اور شعبہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے ایک میڈیا رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حقِ اطلاعات قانون (آر ٹی آئی) کے تحت جب شہریوں نے کمیشن سے ووٹر لسٹوں کی درستی اور جانچ کے لیے استعمال کیے گئے سافٹ ویئر کا باضابطہ نام، ورژن اور طریقہ کار طلب کیا تو الیکشن کمیشن نے اسے فراہم کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ کمیشن نے اپنے جواب میں موقف اختیار کیا کہ یہ تمام تکنیکی ڈیٹا تجارتی اعتماد، تجارتی راز اور انٹیلیکچوئل پراپرٹی کے دائرے میں آتا ہے، جس کی بنیاد پر اسے عوام کے سامنے لانے سے استثنیٰ حاصل ہے۔

جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کڑے سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ‘ای سی آئی نیٹ’ دراصل اس پورے تنازع کی مرکزی بنیاد ہے، جس کے ذریعے مرکزی سطح پر ووٹر لسٹوں میں ہیرا پھیری کے دروازے کھولے گئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انتخابی ادارے نے تکنیکی پردہ ڈال کر یہ واضح کرنے سے بھی گریز کیا ہے کہ آیا ووٹرز کی اہلیت جانچنے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور خودکار فلٹرز کا استعمال کیا جا رہا ہے یا نہیں۔ اگر ایسا کوئی الگورتھم نافذ کیا گیا ہے تو اس کے غلط استعمال، اقلیتی و پسماندہ طبقات کے ناموں کے بلاجواز اخراج اور تکنیکی تعصب کو روکنے کے لیے کیا حفاظتی تدابیر اختیار کی گئی ہیں، اس پر مکمل پراسرار خاموشی سادھ لی گئی ہے۔

جمہوری نظام میں انتخابی عمل کی بنیادی بنیاد عوامی اعتماد اور شفافیت پر ٹکی ہوتی ہے۔ مہاراشٹر، کرناٹک اور اتر پردیش جیسی بڑی ریاستوں میں کروڑوں ووٹرز کے نام حذف کیے جانے اور خودکار فارم-7 کے اجرا پر پہلے ہی ملک بھر میں زبردست تشویش پائی جاتی ہے۔

شیئر کریں۔