عدالت عظمیٰ نے پیر کے روز انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی مہم کے دوران خارج کیے گئے ووٹرز کے حق میں زبانی یقین دہانی کراتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ووٹر لسٹ میں دوبارہ نام شامل کرانے کے لیے فارم 6 جمع کرانے پر کسی بھی شہری کے خلاف کوئی قانونی یا فوجداری کارروائی نہیں کی جائے گی। چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل تین رکنی خصوصی بینچ نے مہاراشٹر میں انتخابی فہرستوں کی تیاری میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف دائر عرضی کی سماعت کے دوران یہ ریمارکس دیے۔ عدالت نے انتخابی کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت 5 نومبر کے لیے مقرر کر دی ہے، تاہم حتمی فہرست کے اجرا پر فوری حکم امتناع جاری کرنے سے گریز کیا।
سماعت کے دوران عرضی گزار کے وکیل نے یہ نکتہ اٹھایا کہ فارم 6 کا قانونی ڈھانچہ بنیادی طور پر صرف ان شہریوں کے لیے مخصوص ہے جو پہلی بار ووٹر بن رہے ہوں। اس فارم میں یہ حلفیہ اقرار شامل ہوتا ہے کہ درخواست گزار کا نام اس سے قبل کسی انتخابی حلقے میں درج نہیں رہا اور نہ ہی اس نے ماضی میں ووٹ کا استعمال کیا ہے۔ وکیل نے دلائل دیے کہ اگر پہلے سے رجسٹرڈ ووٹرز جن کے نام منسوخ کیے گئے ہیں، وہی فارم بھرتے ہیں تو یہ غلط بیانی کے زمرے میں آتا ہے جس پر قانونی دفعات کے تحت ایک سال تک کی قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ اس مؤقف پر چیف جسٹس سوریہ کانت نے واضح طور پر کہا کہ عوام کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے اور اس بنیاد پر کسی بھی شہری کے خلاف کوئی تادیبی یا عدالتی کارروائی عمل میں نہیں لائی جائے گی।
عرضی گزار کے سینئر وکیل نے عدالت کے سامنے انکشاف کیا کہ مہاراشٹر کے کل نو کروڑ رائے دہندگان میں سے تقریباً تین کروڑ ووٹرز کے نام ڈرافٹ لسٹ سے باہر کر دیے گئے ہیں। انہوں نے مطالبہ کیا کہ جن شہریوں کے نام غیر قانونی یا تیکنیکی بنیادوں پر خارج کیے گئے ہیں ان کے لیے نیا الگ فارم جاری کیا جائے، نہ کہ انہیں نئے ووٹرز والے فارم پر انحصار کرنے پر مجبور کیا جائے۔ وکیل نے ممبئی اور پونے جیسے گنجان آباد شہروں کی مخصوص صورتحال کی جانب بینچ کی توجہ مبذول کراتے ہوئے بتایا کہ ان شہروں میں ہزاروں عمارتیں ری ڈیولپمنٹ کے مرحلے میں ہیں، جن کے باعث رہائشی وقتی طور پر دیگر مقامات پر منتقل ہوئے ہیں۔ زمینی تصدیق کے دوران ان شہریوں کو غیر حاضر قرار دے کر انتخابی فہرستوں سے یکطرفہ طور پر خارج کر دیا گیا، جس کی زد میں کچی آبادیوں اور پسماندہ طبقات کی بڑی تعداد آئی ہے।
اس سے قبل دہلی ہائی کورٹ نے بھی 19 اکتوبر کے ایک فیصلے میں کہا تھا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے دیے گئے احکامات کے تحت فارم 6 جمع کرانے پر شہریوں کے خلاف غلط بیانی کا الزام لگانے کا خوف بے بنیاد ہے کیونکہ یہ کارروائی خود کمیشن کی ہدایات پر کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی سمیت متعدد قانونی ماہرین نے اس طریقہ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ انتخابی فہرستوں کے قواعد کے تحت پرانے ووٹرز سے یہ فارم بھروانا قانون کی روح کے منافی ہے اور الیکشن کمیشن کو اپنے ضوابط میں شفافیت لانی چاہیے۔




