یوپی میں بی جے پی کو اقتدار سے روکنے کے لیے اے ائی ایم ائی ایم اپوزیشن سے ہاتھ ملانے کو تیار: اسد الدین اویسی

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے اتر پردیش میں بی جے پی کو تیسری بار حکومت بنانے سے روکنے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ انتخابی اتحاد قائم کرنے کی باضابطہ پیشکش کی ہے۔ مغربی اتر پردیش کے ضلع شاملی کے قصبے کیرانہ میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ان کی جماعت یوگی آدتیہ ناتھ کو تیسری مرتبہ ریاست کا وزیر اعلیٰ بنتے نہیں دیکھنا چاہتی۔ اویسی نے کہا کہ اگر دیگر سیکولر اور اپوزیشن جماعتوں کا ہدف بھی بی جے پی کو اقتدار سے باہر رکھنا ہے تو مجلس ان کے ساتھ مل کر سیاسی لڑائی لڑنے کے لیے پوری طرح آمادہ ہے۔

کیرانہ کے اس جلسے میں اویسی نے اپوزیشن صفوں کو اتحاد کی دعوت دینے کے ساتھ ساتھ اقلیتی، دلت اور پسماندہ طبقات کے بنیادی حقوق کے دفاع میں ان کی مبینہ ناکامی پر کڑا محاسبہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے اندر بی جے پی دور اقتدار میں اقلیتوں کو مسلسل تادیبی اور امتیازی اقدامات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تاریخی مساجد کے انہدام اور پولیس کی جانب سے مبینہ ہاف انکاؤنٹرز جیسے سنگین انسانی حقوق کے معاملات پر نام نہاد بڑی سیکولر پارٹیاں مصلحت پسندی کا شکار ہو کر خاموش تماشائی بنی رہیں۔

مجلس کے صدر نے زور دے کر کہا کہ جمہوریت میں اتحاد صرف اقتدار کے حصول کے لیے نہیں بلکہ محروم طبقات کے آئینی حقوق اور وقار کے تحفظ کے لیے ہونا چاہیے۔ مسلمانوں اور دیگر کمزور طبقات کے ساتھ یکطرفہ پولیس کارروائیوں اور بلڈوزر پالیسی پر اپوزیشن کی خاموشی نے ان کے سیکولر دعوؤں کو بے نقاب کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر اپوزیشن واقعی بی جے پی کی تقسیم پسندانہ سیاست کو شکست دینا چاہتی ہے تو اسے اقلیتوں کے ووٹ کو اپنا حق سمجھنے کی روش ترک کر کے ان کے حقیقی مسائل پر باوقار موقف اختیار کرنا ہوگا۔

یہ سیاسی پیش رفت اتر پردیش کے آئندہ انتخابی تناظر میں غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔ ریاست میں طویل عرصے سے اقلیتی ووٹ بینک کی تقسیم کو بی جے پی کی مسلسل فتوحات کا ایک بڑا سبب مانا جاتا رہا ہے۔ اویسی کی جانب سے اتحاد کی یہ پیشکش دیگر علاقائی جماعتوں، بالخصوص سماج وادی پارٹی اور کانگریس کے لیے ایک کڑا سیاسی امتحان بن کر سامنے آئی ہے، جن پر یہ الزام لگتا رہا ہے کہ وہ مجلس کو انتخابی میدان میں ووٹ تقسیم کرنے والی قوت قرار دے کر اس کے ساتھ باضابطہ مکالمے سے گریز کرتی ہیں۔

شیئر کریں۔