نئی دہلی کی تاریخی اقلیتی درسگاہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات کی بحالی کا معاملہ حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ پیر کی علی الصبح تقریباً ساڑھے چار بجے جامعہ انتظامیہ نے طلبا یونین کے حوالے سے ایک تحریری حکم نامہ جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ یونین کا نیا آئین مرتب ہونے کے پندرہ دن کے اندر انتخابات منعقد کرائے جائیں گے۔ تاہم حتمی تاریخ کے اعلان کے بغیر سامنے آنے والے اس فیصلے کو احتجاجی طلبا اور بھوک ہڑتال پر بیٹھے نوجوانوں نے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ طلبہ تنظیموں کا دو ٹوک مؤقف ہے کہ واضح شیڈول کے بغیر یہ دستاویز محض وقت گزاری کی ایک مبہم کوشش ہے۔
یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے میں انتخابات کے عمل کو مشروط بناتے ہوئے طلبا سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ انتظامیہ کے خلاف سوشل میڈیا پر جاری بیانات کو فوراً ہٹائیں، پریس کانفرنس کے ذریعے اعلانیہ معافی مانگیں اور احتجاج فوری طور پر ختم کریں۔ دوسری طرف طلبا کا کہنا ہے کہ اپنے جمہوری اور آئینی حق کے لیے آواز اٹھانے پر معافی مانگنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ بھوک ہڑتالی کیمپ پر موجود طلبا رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ جب تک الیکشن کے باضابطہ شیڈول کی تحریری توثیق نہیں کی جاتی، ان کی بھوک ہڑتال اور کیمپس دھرنا پوری طاقت کے ساتھ جاری رہے گا۔
پیر کی صبح طلبا کو منانے کے لیے یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی خود دھرنے کے مقام پر پہنچے اور سرکاری حکم کی کاپی پیش کر کے تحریک ختم کرنے کی اپیل کی۔ اگرچہ انتظامیہ نے اس نوٹیفکیشن کے ذریعے تحریک کے دوران طلبا کو جاری کیے گئے معطلی کے احکامات اور شوکاز نوٹسز واپس لے لیے ہیں اور سیکیورٹی عملے کی مبینہ زیادتیوں کی جانچ کے لیے ایک کمیٹی قائم کرنے کا عندیہ دیا ہے، لیکن جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن سمیت دیگر سرگرم تنظیموں نے نشاندہی کی ہے کہ یونین کے آئین کی منظوری کے لیے کوئی حتمی ڈیڈ لائن مقرر نہیں کی گئی۔
طلبا کا یہ بھی کہنا ہے کہ احتجاج کے دوران تشدد اور ناروا سلوک کے الزامات کا شکار بننے والے چیف پراکٹر کے استعفے کے مطالبے کو نوٹیفکیشن میں مکمل نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ جامعہ جیسے تاریخی اور باوقار تعلیمی ادارے میں پچھلے ڈیڑھ عشرے سے طلبا یونین کے انتخابات معطل ہیں، جس کی وجہ سے کیمپس کے اندر نوجوانوں کی جمہوری نمائندگی اور ان کے بنیادی مسائل کے ازالے کا کوئی فعال فورم موجود نہیں ہے۔ طلبا کے مطابق یونین کی بحالی اقلیتی تعلیمی اداروں کے اندر آئینی آزادی، مکالمے اور جمہوری حقوق کے بقا کی علامت ہے۔




