ملکارجن کھرگے کا بیلٹ پیپر سے انتخابات کرانے کا مطالبہ

کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے نے ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی مہم اور انتخابی اندراجات میں مبینہ بے ضابطگیوں کو لے کر مرکز کی مودی حکومت اور الیکشن کمیشن پر براہ راست وار کیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ملک کے مختلف خطوں سے ووٹوں کے اندراج میں ہیرا پھیری کے شواہد سامنے آنے کے باوجود حکمران اتحاد چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ کانگریس صدر نے الیکشن کمیشن کے طریقہ کار اور شفافیت پر سوال اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ووٹر لسٹوں کی تجدید میں استعمال کیے جانے والے اندرونی سافٹ ویئر کی تفصیلات فوری طور پر عام کی جائیں اور جن رائے دہندگان کے نام خلاف ضابطہ کاٹے گئے ہیں انہیں فوری بحال کیا جائے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنے تفصیلی بیان میں ملکارجن کھرگے نے انکشاف کیا کہ حقِ اطلاعات قانون کے تحت جب الیکشن کمیشن سے مذکورہ ڈیجیٹل سسٹم اور الگورتھم کی وضاحت مانگی گئی تو کمیشن نے تجارتی راز کا بہانہ بنا کر معلومات دینے سے گریز کیا۔ کانگریس قیادت کے مطابق آزادانہ اور منصفانہ انتخابی عمل میں کسی بھی تیکنیکی میکانزم کو خفیہ رکھنا عوامی اعتماد کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جب کروڑوں ووٹرز کے جمہوری حق کا فیصلہ کسی کمپیوٹر کوڈ کے ذریعے ہو رہا ہو تو اس کا آڈٹ مکمل عوامی سطح پر ہونا ناگزیر ہے۔

ریاست اتر پردیش کی مثال دیتے ہوئے کانگریس صدر نے اعداد و شمار کی روشنی میں نشاندہی کی کہ ریاست بھر میں نئے ووٹرز کے اندراج کے لیے فارم 6 کے تحت موصول ہونے والی 16.18 لاکھ درخواستوں کے مکمل ریکارڈز کو منظر عام پر نہیں لایا گیا۔ ضلع پیلی بھیت کے صدر اسمبلی حلقے میں 10 ہزار 470 انتخابی ریکارڈز میں بے ضابطگیوں کی تصدیق کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہی سنگین خامیوں نے بعد ازاں الیکشن کمیشن کو یوپی کی تمام 403 نشستوں پر فارم 6، فارم 7 اور فارم 8 کے تحت کیے گئے تمام تر اندراجات کی ازسرنو جانچ کرانے پر مجبور کیا۔ فارم 7 کے ذریعے نام حذف کرنے اور فارم 8 کے ذریعے تفصیلات بدلنے کی اس مشق نے نچلی سطح پر اقلیتی اور پسماندہ طبقات کے بنیادی حقِ رائے دہی کے تحفظ پر شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔

ملکارجن کھرگے نے اعلان کیا کہ انڈیا اتحاد نے انتخابی نظام کی بحالی کے لیے تین واضح اور بنیادی مطالبات طے کیے ہیں۔ پہلا مطالبہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا فوری استعفیٰ اور الیکشن کمشنرز کی تقرری سے متعلق 2023 کے متنازع قانون کی منسوخی ہے تاکہ آئینی ادارے کو سرکاری اثر سے پاک کیا جا سکے۔ دوسرا مطالبہ نظرثانی مہم کو فی الفور روک کر غیر قانونی طور پر خارج کیے گئے تمام شہریوں کے ناموں کی مکمل بحالی ہے۔ تیسرا کلیدی مطالبہ ملک بھر میں تمام انتخابات کو روایتی بیلٹ پیپر کے ذریعے منعقد کرانا ہے تاکہ ہر ووٹر کے ووٹ کی شفاف گنتی پر کوئی ابہام باقی نہ رہے۔

کانگریس صدر نے ملک بھر کے باشعور شہریوں، سول سوسائٹی کے ارکان اور نوجوانوں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ آئین اور جمہوری ڈھانچے کی حفاظت کے لیے یکم نومبر کو دہلی کے تاریخی رام لیلا میدان میں جمع ہوں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ‘ووٹ بچاؤ، دیش بچاؤ’ جن مارچ اور مہاریلی محض ایک سیاسی اجتماع نہیں بلکہ عوام کے بنیادی حقوق کی بازیابی کی اجتماعی تحریک ہوگی۔ اپوزیشن کی جانب سے انتخابی فہرستوں کی شفافیت کے اس معاملے کو اب پارلیمنٹ کے ایوانوں سے لے کر عوامی سڑکوں تک لے جانے کا واضح لائحہ عمل تیار کیا جا چکا ہے۔

شیئر کریں۔