لکھنؤ کے کھجھولی گاؤں میں مسجد اور مدرسے کو تالاب کی زمین پر قبضے کا نوٹس

اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ کے مضافاتی علاقے موہن لال گنج کی ایک ریونیو عدالت نے کھجھولی گاؤں میں واقع مسجد اور مدرسے کے منتظمین کو تالاب کی زمین پر مبینہ تعمیرات کے الزام میں نوٹس جاری کیا ہے۔ موہن لال گنج کی ریونیو کورٹ نے چار ذمہ داران کو احکامات جاری کرتے ہوئے 29 اکتوبر کو عدالت میں پیش ہو کر اپنے ملکیتی دستاویزات اور ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ انتظامیہ کی یہ کارروائی اتر پردیش ریونیو کوڈ 2006 کی دفعہ 67 کے تحت عمل میں لائی جا رہی ہے، جس کے تحت سرکاری و عوامی اراضی پر غیر مجاز قبضوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جاتی ہے۔

دستیاب رپورٹس کے مطابق اس کارروائی کا آغاز ریاستی شکایتی پورٹل پر ایک مقامی دیہاتی کی جانب سے درج کرائی گئی شکایت کے بعد ہوا۔ شکایت میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مسجد اور مدرسے کا کچھ حصہ سرکاری ریکارڈ میں تالاب کے طور پر درج اراضی پر تعمیر کیا گیا ہے۔ اس شکایت پر ریونیو انسپکٹر اور متعلقہ پٹواری نے جائے وقوعہ کا معائنہ کرنے کے بعد اپنی رپورٹ میں کہا کہ متنازع حصے کے تقریباً 0.03 ہیکٹر یعنی قریباً 300 مربع میٹر رقبے پر پختہ ڈھانچہ موجود ہے۔ ریونیو حکام کی جانب سے فی الوقت کسی قسم کی بے دخلی یا مسماری کا حتمی حکم جاری نہیں کیا گیا ہے، بلکہ منتظمین کو اپنے قانونی ثبوت اور دفاع کا موقع فراہم کیا گیا ہے۔

سرکاری رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ یہ تنازع صرف زمین کے ایک مخصوص چھوٹے حصے سے متعلق ہے، جس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ پوری مسجد یا مکمل مدرسہ سرکاری اراضی پر قائم ہے۔ رپورٹ میں عمارتوں کی قدامت، زمین کی تاریخی رجسٹریشن یا ماضی کے وقف و دیگر ملکیتی کاغذات کے تفصیلی اندراج کا تذکرہ تاحال سامنے نہیں آیا ہے اور نہ ہی انتظامیہ کے ذمہ داران کی جانب سے کوئی باضابطہ قانونی جواب اب تک داخل کیا گیا ہے۔

اس قانونی نوٹس کے منظر عام پر آنے کے بعد علاقے کی مسلم برادری میں گہری بے چینی اور تشویش پھیل گئی ہے۔ مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ محض 300 مربع میٹر کے ایک تکنیکی یا زمینی اندراج کے تنازع کو بنیاد بنا کر دیرینہ مذہبی اور تعلیمی اداروں کو متنازع بنایا جا رہا ہے۔ شہریوں کے مطابق ماضی کے زرعی سروے ریکارڈز اور زمینی حد بندیوں میں اکثر ایسے اندراجات پائے جاتے ہیں جنہیں شواہد کی بنیاد پر درست کیا جا سکتا ہے، لہٰذا کسی نتیجے پر پہنچنے سے قبل تمام دستاویزی حقائق کی منصفانہ جانچ پڑتال ضروری ہے۔

یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ریاست اتر پردیش میں مسلمانوں کے مذہبی اور تعلیمی اداروں، مساجد اور اوقافی اراضیات کے حوالے سے پہلے ہی حساس فضا پائی جاتی ہے۔ حال ہی میں سہارنپور کے ایک سرکاری احاطے میں واقع پرانی مسجد کو عدالت کے ذریعے غیر مجاز قرار دیے جانے کے بعد مسمار کر دیا گیا تھا، جس پر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اسد الدین اویسی، جمعیت علمائے ہند اور سابق وزیر اعلیٰ مایاوتی سمیت متعدد سیاسی و سماجی رہنماؤں نے سخت ردعمل ظاہر کیا تھا اور قانونی تقاضوں کی پاسداری اور مذہبی مقامات کے احترام کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

موہن لال گنج کی ریونیو عدالت میں 29 اکتوبر کو ہونے والی پیشی اس پورے معاملے میں فیصلہ کن ثابت ہوگی۔ اس سماعت کے دوران مسجد و مدرسہ کے منتظمین اپنی تاریخی ملکیت، ریونیو نقشہ جات اور وقف دستاویزات پیش کر کے سرکاری سروے کی درجہ بندی کو چیلنج کریں گے، جس کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ عدالت اس تنازع پر اگلا کیا اقدام طے کرتی ہے۔

شیئر کریں۔