جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بھوک ہڑتال کے 13ویں دن بھی احتجاج جاری: طلبا کا اسٹوڈنٹس یونین کی بحالی تک تحریک جاری رکھنے کا اعلان

نئی دہلی میں واقع ملک کی ممتاز مرکزی اور تاریخی اقلیتی درسگاہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبا یونین کی بحالی کے لیے جاری بھوک ہڑتال اور احتجاجی دھرنا 13ویں روز میں داخل ہو گیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے پیش کردہ تجاویز کو ناکافی اور مبہم قرار دیتے ہوئے سراپا احتجاج نوجوانوں نے اعلان کیا ہے کہ جب تک ان کے تمام جائز آئینی مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، ان کی جمہوری جدوجہد پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی۔ طلبا نے واضح کیا ہے کہ وہ محض زبانی یقین دہانیوں پر تحریک ختم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

تحریک کی قیادت کرنے والے طلبہ اتحاد ‘موومنٹ فار ریسٹوریشن آف جے ایم آئی اسٹوڈنٹس یونین’ نے ہفتے کے روز جاری کردہ تفصیلی پریس بیان میں انتظامیہ کی اعلیٰ سطحی کمیٹی کے رویے پر سخت مایوسی کا اظہار کیا۔ طلبا کے مطابق جامعہ ملیہ اسلامیہ ایکٹ کے تحت اسٹوڈنٹس یونین کے قیام کی شقیں گزشتہ دو دہائیوں سے معطل رکھی گئی ہیں، جس کا اعتراف خود انتظامیہ کی دستاویزات میں بھی موجود ہے۔ طلبا نے مطالبہ کیا ہے کہ یونین کے نئے آئین کی تیاری اور انتخابات کے انعقاد کے لیے ایک حتمی اور وقت پر مبنی باضابطہ نوٹیفکیشن فوری جاری کیا جائے، کیونکہ بغیر ڈیڈ لائن کی کوئی بھی کمیٹی محض تاخیری حربہ سمجھی جائے گی۔

احتجاجی طلبا نے یونیورسٹی کے چیف پروکٹر اور سکیورٹی ایڈوائزر کے فوری استعفے یا برطرفی کا پرزور مطالبہ بھی سامنے رکھا ہے۔ بیان میں یاد دہانی کرائی گئی کہ 17 اکتوبر کی علی الصبح ساڑھے پانچ بجے، جب بھوک ہڑتال پر بیٹھے طلبا سو رہے تھے، سکیورٹی فورسز اور عملے نے دھرنے کی جگہ سے انہیں زبردستی ہٹانے کی پرتشدد کوشش کی تھی۔ طلبا کا مؤقف ہے کہ نہتے اور پرامن ہڑتالی نوجوانوں کے خلاف تاریکی میں کی گئی یہ کارروائی کسی لمحاتی غصے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک باضابطہ منصوبہ تھا، جس کی اخلاقی اور انتظامی ذمہ داری سکیورٹی اور پروکٹوریل انتظامیہ کے سر جاتی ہے۔

اس کے علاوہ طلبا نے تحریک میں حصہ لینے والے تمام طالبعلموں کے خلاف جاری کردہ تادیبی نوٹسوں کو غیر مشروط طور پر واپس لینے اور مستقبل میں کسی قسم کی کارروائی نہ کرنے کی تحریری ضمانت مانگی ہے۔ انتظامیہ کی کمیٹی نے کارروائیوں کا محض ‘جائزہ’ لینے اور طلبا کو ریلیف مانگنے کا مشورہ دیا تھا، جسے مسترد کرتے ہوئے طلبہ نمائندوں نے کہا کہ حق مانگنے کی پاداش میں سزا پانے والوں پر ہی صفائی کا بوجھ ڈالنا کھلی ناانصافی ہے۔ کیمپس کی دیواروں پر لگائے گئے نعروں کے تنازع پر طلبا نے وضاحت کی کہ بنیادی مطالبات سے عوام کی توجہ ہٹانے اور پرامن احتجاج کو بدنام کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، جبکہ ان کی تحریک خالصتاً کیمپس جمہوریت کی بحالی پر مرکوز ہے۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ نے تاریخ کے ہر دور میں ملک کی جمہوری اقدار، شخصی آزادی اور تحریک آزادی میں ناقابل فراموش کردار ادا کیا ہے۔ ایسے تعلیمی ادارے میں طلبا کو اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے آواز اٹھانے سے دہائیوں تک محروم رکھنا نہ صرف لنگدوہ کمیٹی کی سفارشات اور سپریم کورٹ کے اصولوں کے خلاف ہے بلکہ یہ اقلیتی اور پسماندہ طبقات سے آنے والے نوجوانوں کی قائدانہ صلاحیتوں کو دبانے کے مترادف بھی ہے۔ جمہوری روایت کا تقاضا ہے کہ یونیورسٹی کے اندر مکالمے کا ماحول ہموار رہے اور خوف کی فضا کو ختم کیا جائے۔

شیئر کریں۔