قطر کے دارالحکومت دوحہ میں کیرالہ مسلم کلچرل سینٹر (کے ایم سی سی) کے دفتر سے تقریباً 31 لاکھ قطری ریال (تقریباً 8 کروڑ 8 لاکھ ہندوستانی روپے) کی چوری کے ہائی پروفائل معاملے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ کیرالہ کے کوئلانڈی سے تعلق رکھنے والے 60 سالہ بی جے پی رہنما اور پیشے سے ویلڈر پاراپل بالاکرشنن نے کوزی کوڈ پولیس کے روبرو خودسپردگی کر دی ہے۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو مقامی عدالت میں پیش کیا، جہاں سے عدالت نے اسے عدالتی تحویل میں بھیجنے کے احکامات صادر کیے۔ بالاکرشنن گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار کے طور پر میدان میں اتر چکے ہیں۔
دستیاب رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ 18 ستمبر 2025 کو دوحہ میں واقع کے ایم سی سی کے مرکزی دفتر میں پیش آیا تھا۔ پولیس کی اب تک کی تفتیش کے مطابق اس سنگین واردات کو انجام دینے کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیرالہ سے چار افراد کو خصوصی طور پر ہوائی جہاز کے ذریعے قطر پہنچایا گیا تھا، جبکہ وہاں موجود دو دیگر ساتھیوں نے قیام و طعام اور لاجسٹک مدد فراہم کی تھی۔ ملزمان نے مبینہ طور پر دفتر میں موجود ایک عملے کو یرغمال بنا کر باندھ دیا اور گیس کٹر کی مدد سے اسٹرانگ روم کے لاکر کو کاٹ کر نقدی اڑا لی تھی۔
خودسپردگی سے قبل منظرِ عام پر آنے والے ایک ویڈیو بیان میں بالاکرشنن نے دعویٰ کیا کہ وہ چوری کے اس منصوبے سے مکمل طور پر بے خبر تھے۔ ان کے مطابق شاہجی عرف بمبئی شاہجی نامی شخص نے انہیں ویلڈنگ کے کام کے بہانے قطر بلوایا تھا، لیکن دوحہ پہنچنے کے بعد انہیں دباؤ میں لا کر کے ایم سی سی کے دفتر لے جایا گیا اور اسلحے یا دھمکی کے زور پر لاکر کٹوایا گیا۔ بالاکرشنن نے الزام لگایا کہ رقم شاہجی نے اپنے قبضے میں لی جبکہ قمر نامی شخص اس پوری کارروائی کی ہدایت کاری کر رہا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں قطر میں 50 ہزار روپے اور وطن واپسی پر ڈیڑھ لاکھ روپے دیے گئے تھے۔ قانونی ماہرین کے مطابق ملزم کے ان تمام دعوؤں کا عدالتی سطح پر ثابت ہونا ابھی باقی ہے۔
سوشل میڈیا پر اس واقعے سے متعلق ایک مشتبہ آڈیو ٹیپ بھی گردش کر رہی ہے جس میں مبینہ طور پر ملزمان رقم کے بٹوارے پر بات کر رہے ہیں اور اس میں درج شدہ مقدمے سے کہیں بڑی رقم کا ذکر سنائی دیتا ہے، تاہم اس آڈیو کی آزادانہ تصدیق تاحال ممکن نہیں ہو سکی ہے۔ کوئلانڈی پولیس نے یہ مقدمہ 15 ستمبر 2026 کو کے ایم سی سی کی قطر یونٹ کے نائب صدر پی کے عبدالرحیم کی تحریری شکایت پر درج کیا تھا۔ واقعہ پیش آنے کے تقریباً ایک سال بعد پولیس میں شکایت درج کرانے پر تنظیم کے اندرونی لائحہ عمل اور فیصلہ سازی پر بھی سوالات کھڑے کیے جا رہے ہیں۔
چوری ہونے والی یہ خطیر رقم ’اسنیہا سورکشا‘ نامی فلاحی اسکیم کی بتائی جاتی ہے، جو خلیجی ممالک میں مقیم محنت کشوں، ان کے اہل خانہ کے علاج معالجے اور مالی بحران میں مدد کے لیے باقاعدہ چندوں سے جمع کی جاتی ہے۔ کے ایم سی سی دراصل انڈین یونین مسلم لیگ (آئی یو ایم ایل) کا اوورسیز ونگ ہے۔ آئی یو ایم ایل کے ریاستی جنرل سکریٹری پی ایم اے سلام نے واضح کیا ہے کہ فلاحی فنڈز کے تحفظ کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور اگر کسی بھی اندرونی رکن کا ملوث ہونا ثابت ہوا تو سخت تادیبی کارروائی ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ چونکہ بالاکرشنن بی جے پی سے وابستہ ہیں اس لیے پارٹی سطح پر ان کے خلاف کارروائی کا اختیار ان کے پاس نہیں، جبکہ بی جے پی کی مقامی قیادت نے بھی شفاف اور مکمل غیر جانبدارانہ تفتیش کا مطالبہ کیا ہے۔




