آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئسا) کی صدر نیہا بورا نے دہلی پولیس کی جانب سے جاری کردہ پیس بانڈ پر دستخط کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ کے ذریعے ان کی درخواست مسترد ہونے کے فوری بعد میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے طلبہ رہنما نے واضح کیا کہ ایسے بانڈز کا مقصد دراصل شہریوں کے جمہوری حقوق اور پرامن احتجاج کو بزورِ قوت خاموش کرانا ہے، جسے وہ کسی صورت تسلیم نہیں کریں گی۔
معاملے کی شروعات اسپیشل ایگزیکٹیو مجسٹریٹ (ایس ای ایم) کے اس نوٹس سے ہوئی جس میں نیہا بورا کو امن برقرار رکھنے کی شرط پر دس ہزار روپے کا مچلکہ داخل کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ طلبہ رہنما نے اس نوٹس کو من مانا اور بنیادی حقوق کے منافی قرار دے کر دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا، تاہم عدالت عالیہ نے 23 اکتوبر کو ان کی عرضی مسترد کرتے ہوئے کارروائی سے متعلق دستاویزات فراہم کرنے کی ہدایت دی تھی۔ عدالتی فیصلے کے بعد نیہا بورا نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دستاویز پر کبھی دستخط نہیں کریں گی جس کا استعمال شہریوں کو اپنے بنیادی مطالبات رکھنے سے روکنے کے لیے کیا جا سکتا ہو۔
نیہا بورا نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت کے جمہوری نظام میں عوام کے پاس دو بنیادی ترین طاقتیں موجود ہیں، جن میں سے پہلی ووٹ کا حق ہے اور دوسری اپنے آئینی حقوق پر حملے کے خلاف آواز بلند کرنے کی آزادی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ جب ووٹ کے بنیادی حق پر اثر پڑتا ہے تو سڑکوں پر آ کر پرامن احتجاج کرنا محض ایک حق نہیں بلکہ شہری فریضہ بن جاتا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ پولیس نے انہیں بغیر کسی ایف آئی آر کی کاپی فراہم کیے صرف اس مبہم بنیاد پر نوٹس جاری کیا کہ ان کے ذریعے امن و امان میں خلل پڑ سکتا ہے۔
طلبہ رہنما نے احتجاجی مظاہروں کے دوران پیش آنے والے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار پر بھی شدید اعتراضات اٹھائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امن و امان برقرار رکھنے کے بجائے مظاہرین پر لاٹھیاں برسائی گئیں، خواتین کے ساتھ غیر مناسب سلوک کیا گیا اور کوریج کرنے والے صحافیوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ سکیورٹی ایجنسیوں کے اس رویے کے بعد اب انتظامیہ قانونی نوٹسوں کے ذریعے آئینی گنجائش کو محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔




