مظفر نگر تھپڑ معاملہ : ڈھائی سال بعد متاثرہ بچے کی فیس کے لیے یوگی حکومت نے جاری کیا فنڈز

اتر پردیش کے ضلع مظفر نگر میں ایک نجی اسکول کے اندر ہم جماعت بچوں کے ہاتھوں پٹوائے جانے والے کمسن مسلم طالب علم کے معاملے میں ریاستی حکومت نے بالآخر مالی امداد فراہم کر دی ہے۔ سپریم کورٹ کے سخت احکامات کے ڈھائی سال بعد حکومت نے متاثرہ بچے کی جاری تعلیم، اسکول کی بقایا فیس، کتابوں، اسٹیشنری، یونیفارم اور آمدورفت کے اخراجات پورے کرنے کے لیے 1.38 لاکھ روپے کی یک وقتی گرانٹ منظور کی ہے۔ اس مالی منظوری کے بعد بچے کے تعلیمی اخراجات کی براہ راست ذمہ داری اب باضابطہ طور پر ریاست کے محکمۂ بنیادی تعلیم کے سپرد ہو گئی ہے۔

یہ دلخراش واقعہ اگست 2023 میں مظفر نگر کے گاؤں کھبّاپور کے نیہا پبلک اسکول میں پیش آیا تھا، جہاں اسکول کی پرنسپل اور ٹیچر ترپتا تیاگی نے کلاس روم کے اندر دیگر معصوم بچوں کو باری باری بلا کر مسلم طالب علم کو تھپڑ مارنے کا حکم دیا تھا۔ کلاس روم سے وائرل ہونے والی اس واقعے کی ویڈیو نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا، جس میں استانی کو بچے کی مذہبی شناخت پر نازیبا تبصرے کرتے ہوئے بھی سنا گیا۔ اس سنگین بدسلوکی کے منظر عام پر آنے کے بعد تعلیمی اداروں میں مذہبی تفریق اور انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف ملک گیر سطح پر سخت غم و غصہ دیکھا گیا، جس پر قومی انسانی حقوق کمیشن اور بعد میں ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے سخت نوٹس لیا۔

سپریم کورٹ نے سماعت کے دوران واضح ہدایات دی تھیں کہ اس خوفناک اور توہین آمیز تجربے سے گزرنے والے بچے کی ذہنی بحالی اور بلا تعطل تعلیم کا بندوبست ریاست کی لازمی ذمہ داری ہے۔ عدالت کے حکم پر اس وقت کے بیسک شکشا ادھیکاری کے ذریعے بچے کا داخلہ مظفر نگر شہر کے شارڈین اسکول میں کرایا گیا تھا۔ شروع میں مقامی تعلیمی محکمے نے ابتدائی اخراجات اٹھائے، مگر بعد کے دنوں میں فیس کی ادائیگی کا بار سید مرتضیٰ میموریل ٹرسٹ کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ فلاحی ٹرسٹ کی جانب سے فیس ادا کرنے میں تاخیر کی شکایات کے باعث بچے کی تعلیمی بقا خطرے میں پڑ گئی تھی، جس کے بعد موجودہ بیسک شکشا ادھیکاری سندیپ کمار نے حکومت سے ہنگامی خصوصی بجٹ کا مطالبہ کیا۔

ریاستی حکومت کے اس اقدام کے پیچھے سپریم کورٹ کا وہ فیصلہ بنیادی بنیاد بنا جس میں عدالت عظمیٰ نے مئی 2025 کے دوران واضح کر دیا تھا کہ کسی بھی لاچار بچے کی بنیادی اسکولی تعلیم، کتابوں، یونیفارم اور اسکول وین کے اخراجات کی ضمانت ریاست کا آئینی فریضہ ہے۔ عدالت نے ریاستی انتظامیہ کو سخت جھاڑ پلاتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت اپنی ذمہ داریوں کا بوجھ کسی غیر سرکاری تنظیم یا فلاحی ادارے پر ڈال کر بری الذمہ نہیں ہو سکتی، بلکہ اسکولی تعلیم کی تکمیل تک تمام مالی بوجھ خود اٹھائے۔

تعلیمی ماہرین اور حقوق انسانی کے کارکنان کا ماننا ہے کہ کلاس رومز میں مذہبی بنیادوں پر طلبہ کے ساتھ امتیازی سلوک یا تضحیک آمیز رویہ نہ صرف آئین کے آرٹیکل 21 اور مفت و لازمی تعلیم کے حق (RTE) کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ اقلیتی برادری کے بچوں کے اندر شدید عدم تحفظ اور نفسیاتی صدمے کو جنم دیتا ہے۔ عدالتی نگرانی اور فنڈز کی اس فراہمی نے بچے کے تعلیمی سلسلے کو وقتی سہارا تو دے دیا ہے، مگر نچلی سطح پر ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اسکولوں میں سخت جوابدہی کا فقدان بدستور بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔

شیئر کریں۔