اتراکھنڈ حکومت نے ریاست میں اقلیتی تعلیمی اداروں کے لیے ایک نیا فرمان جاری کرتے ہوئے نئی ریاستی اقلیتی تعلیمی اتھارٹی سے منظور شدہ تمام مدارس میں جمعہ کی روایتی چھٹی منسوخ کر دی ہے۔ ریاستی دارالحکومت دہرادون میں وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے واضح کیا کہ ریاست میں کام کرنے والے تمام تعلیمی اداروں کے لیے یکساں ضوابط نافذ ہوں گے اور تسلیم شدہ اسکولوں کی طرز پر مدارس میں بھی اب جمعہ کے بجائے اتوار کو ہفتہ وار تعطیل لازمی ہوگی۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ جب مدارس محکمۂ تعلیم کے دائرہ کار میں شامل ہو چکے ہیں تو انہیں عام اسکولوں کے مقررہ قواعد کے مطابق ہی اپنی سرگرمیاں جاری رکھنی ہوں گی۔
انتظامی اصلاحات کے نام پر سامنے آنے والا یہ قدم ریاست میں اقلیتی تعلیمی نظام میں کی جانے والی وسیع تر تبدیلیوں کا تسلسل ہے۔ اتراکھنڈ حکومت نے روایتی مدرسہ تعلیمی بورڈ کو باضابطہ ختم کر کے ایک جامع اتراکھنڈ اسٹیٹ اتھارٹی فار مائنورٹی ایجوکیشن (USAME) قائم کی ہے، جس کے تحت مسلم اداروں کے علاوہ عیسائی، سکھ، جین، بدھ مت اور پارسی برادریوں کے اسکولوں کو بھی ایک ہی چھتری تلے لایا گیا ہے۔ جولائی 2026 میں نافذ ہونے والے اس نئے انتظامی ڈھانچے کے تحت پرانے مدارس کے لیے نئے قوانین کے مطابق دوبارہ منظوری حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے، جسے حکومت تعلیمی یکسانیت اور معیار کی بہتری کا ذریعہ قرار دے رہی ہے۔
ریاستی اقلیتی تعلیمی اتھارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر سورجیت سنگھ گاندھی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، نئے فریم ورک کے تحت اب تک ریاست کے 76 مدارس کو باقاعدہ منظوری دی جا چکی ہے، جبکہ 114 دیگر اداروں کی درخواستیں محکمۂ تعلیم کی جانچ کے مرحلے میں ہیں۔ منظور شدہ اداروں میں سے 44 کا تعلق ہری دوار، 24 کا ادھم سنگھ نگر، 6 کا دہرادون اور 2 کا ضلع نینی تال سے ہے۔ ریاست میں سابقہ مدرسہ بورڈ کے تحت کل 452 ادارے رجسٹرڈ تھے، جس کے باعث اب بڑی تعداد میں موجود دیگر اداروں پر بھی نئے قواعد تسلیم کرنے کے لیے انتظامی دباؤ بڑھ گیا ہے۔
جمعہ کی روایتی تعطیل کے خاتمے پر پیدا ہونے والے شدید اضطراب کا دفاع کرتے ہوئے حکام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ طلبہ اور اساتذہ کو نمازِ جمعہ کی ادائیگی سے نہیں روکا جائے گا۔ اتھارٹی کے مطابق محکمۂ تعلیم کے تحت اسکولوں کے تدریسی اوقات صبح آٹھ بجے سے دوپہر ایک بجے تک ہوتے ہیں، جبکہ جمعہ کی دوپہر کی نماز عموماً ایک سے ڈھائی بجے کے درمیان ادا کی جاتی ہے، اس لیے معمولات متاثر نہیں ہوں گے۔ اس کے برعکس زمینی صورتحال یہ ہے کہ موسموں کی تبدیلی، دور دراز دیہی علاقوں کے فاصلوں اور طویل تدریسی نشستوں کے باعث نمازِ جمعہ کی بروقت اور باجماعت ادائیگی میں عملی رکاوٹوں کا پیدا ہونا ناگزیر سمجھا جا رہا ہے۔
اس فیصلے کے سامنے آتے ہی سیاسی اور سماجی حلقوں میں ردعمل شروع ہو گیا ہے۔ اپوزیشن کانگریس کی ترجمان ڈاکٹر پرتیما سنگھ نے حکومت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ریاست میں صحت، روزگار اور اسکولوں کے ناقص بنیادی ڈھانچے کے حقیقی مسائل کو نظر انداز کر کے اقلیتوں کے مذہبی اور سماجی امور کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مدارس، مساجد اور مزارات سے جڑے اقدامات کو انتظامی اصلاحات کے بجائے سیاسی مقاصد کے لیے ترجیح دی جا رہی ہے۔ مسلم دانشوروں کا کہنا ہے کہ صدیوں سے رائج دینی تعلیم کے ماحول میں جمعہ کا دن نہ صرف عبادات بلکہ ذاتی طہارت اور خاندانی تیاری کے لیے اہم رہا ہے، جس کی یکطرفہ منسوخی اقلیتی تعلیمی آزادی کے حق پر اثر انداز ہوتی ہے۔
حالیہ برسوں میں ریاست اندر اقلیتی اداروں کے خلاف انتظامی سختی کے پس منظر نے اس معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق پچھلے سال قواعد کی نام نہاد عدم تکمیل کے نام پر 250 غیر رجسٹرڈ مدارس کو سیل کر دیا گیا تھا، جس کے بعد ان اداروں میں زیرِ تعلیم ہزاروں غریب اور یتیم بچوں کے تعلیمی مستقبل کے لیے کوئی مؤثر متبادل سرکاری انتظام سامنے نہیں آ سکا۔ اقلیتی حلقے اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ نئی شرائط اور روایات کے زبردستی خاتمے سے پسماندہ طبقات کی تعلیم تک رسائی محدود ہو سکتی ہے۔




