کسی سیاسی خاندان نے اتنے مظالم نہیں جھیلے جتنے اعظم خان نے برداشت کیے: رامپور جیل میں ملاقات کے بعد اکھلیش یادو کا بی جے پی پر حملہ

سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے جمعرات کو اتر پردیش کے ضلع رامپور کی جیل میں قید پارٹی کے سینیئر رہنما محمد اعظم خان سے تفصیلی ملاقات کی۔ تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی اس ملاقات کے بعد میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے بی جے پی حکومت پر شدید حملہ کیا اور کہا کہ ملک کی تاریخ میں کسی بھی سیاسی خاندان نے اتنی ناانصافی، ظلم اور انتقامی کارروائیوں کا سامنا نہیں کیا جتنا اعظم خان اور ان کے اہل خانہ نے برداشت کیا ہے۔

اکھلیش یادو نے ریاستی اور مرکزی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ اقتدار کے زور پر سیاسی مخالفین کو خاموش کرنے کے لیے فرضی مقدمات کا سہارا لے رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جھوٹے اور من گھڑت الزامات میں اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ سچائی کو زیادہ دیر تک سلاخوں کے پیچھے قید رکھ سکیں۔ سچائی سامنے آنے میں کچھ تاخیر ضرور ہو سکتی ہے، لیکن انصاف کی بالا دستی کو ہمیشہ کے لیے دبایا نہیں جا سکتا۔ جیل میں قید رہنما کی صحت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اعظم خان کی حالت پہلے سے بہتر ہے، تاہم قید و بند کی صعوبتیں اپنی جگہ برقرار ہیں۔

اس ملاقات کا بنیادی محور اتر پردیش میں ہونے والے آئندہ 2027 کے اسمبلی انتخابات کی انتخابی حکمت عملی بھی رہا۔ سماج وادی پارٹی کے سربراہ نے انکشاف کیا کہ انہوں نے اعظم خان کے ساتھ ریاست کی تمام 403 اسمبلی نشستوں کے سیاسی منظر نامے اور اتحادی جماعتوں کی جانب سے موصول ہونے والی تجاویز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ جب صحافیوں نے رامپور اسمبلی سیٹ کے ممکنہ امیدوار کے بارے میں سوال کیا تو اکھلیش یادو نے نام ظاہر کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی حکمت عملی کے تحت تمام فیصلے مناسب وقت پر سامنے لائے جائیں گے۔

ملاقات کے دوران اکھلیش یادو نے تاریخی تعلیمی ادارے محمد علی جوہر یونیورسٹی کا خصوصی تذکرہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت نے ایک سازش کے تحت اقلیتی اور پسماندہ طبقات کو اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کرنے والے اس ادارے کو تباہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ نوجوان نسل کو جدید تعلیم دینے اور ان کے مستقبل کو سنوارنے کے لیے اعظم خان نے جو خواب دیکھا تھا، سماج وادی پارٹی کا ہر کارکن اس تعلیمی مشن کو مکمل کرنے کے لیے آخری حد تک جدوجہد کرے گا۔

رامپور کے سیاسی اور سماجی حالات پر گفتگو کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے اقتدار کے نام نہاد دعووں پر سوال اٹھائے اور کہا کہ یہاں انصاف اور مساوات کے بنیادی تقاضوں کو پامال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے 2022 کے ریاستی اسمبلی انتخابات میں مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی کا بنیادی مقصد بی جے پی کی تقسیم پسندانہ سیاست کو شکست دینا اور عوام کے بنیادی آئینی حقوق کو بحال کرنا ہے۔

شیئر کریں۔