نئی دہلی میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپوزیشن جماعتوں پر تند و تیز سیاسی حملے کیے۔ انہوں نے کانگریس کے قائد راہل گاندھی کے ووٹ چوری کے بیانات اور انتخابی شفافیت پر اٹھائے گئے سوالات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ منفی طرز سیاست کی وجہ سے کانگریس 2030 تک کسی بھی الیکشن میں کامیابی حاصل نہیں کر سکے گی۔ امت شاہ نے الزام لگایا کہ اپوزیشن لیڈر ووٹوں میں ہیرا پھیری کا شور مچا کر دراصل دراندازوں کے ووٹ بینک کا تحفظ کرنا چاہتے ہیں۔
وزیر داخلہ نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کی غیر جانبداری پر کانگریس کے مسلسل اعتراضات پر سخت موقف اختیار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی سب سے پرانی سیاسی جماعت اپنی شکستوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے ہر بار آئینی اور جمہوری اداروں پر سوالات کھڑے کر دیتی ہے۔ امت شاہ نے کہا کہ کانگریس کے اندر یہ دوہرا معیار پایا جاتا ہے کہ جب وہ اقتدار میں آتی ہے تو ادارے درست دکھائی دیتے ہیں، لیکن عوامی مسترد کیے جانے کی صورت میں انہی انتخابی اداروں پر الزامات عائد کر دیے جاتے ہیں۔
اپوزیشن کے خلاف اس حملے میں عام آدمی پارٹی اور اس کے کنوینر اروند کیجریوال بھی براہ راست نشانے پر آئے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ دہلی میں طویل عرصہ حکومت کرنے کے باوجود عام آدمی پارٹی عوام کو بنیادی شہری سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہی اور صرف احتجاج اور ہنگامہ آرائی کی سیاست پر انحصار کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پنجاب کے ووٹرز آئندہ انتخابات میں عام آدمی پارٹی کو اقتدار سے باہر کر کے اس حکمرانی کا واضح جواب دیں گے۔
سیاسی جوابی کارروائی کے ساتھ امت شاہ نے دارالحکومت دہلی کے لیے بنیادی ڈھانچے کے متعدد ترقیاتی کاموں کا ذکر کیا۔ انہوں نے دہلی جل بورڈ کے تحت دریائے جمنا کی صفائی اور بحالی کے لیے 8,941 کروڑ روپے مالیت کے 43 ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ دارالحکومت میں کوڑے کے بڑے پہاڑوں کو ختم کر کے جدید عوامی پارکوں میں بدلا جا رہا ہے اور پانی کے بنیادی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔




