بنگلورو: کرناٹک کے وزیر داخلہ پریانک کھرگے نے ویجیادشمی کے موقع پر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی جانب سے نکالے جانے والے روٹ مارچ (پاتھ سنچلن) کے حوالے سے تنظیم کے طرزِ عمل پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ محض اطلاع دینا یا تعاون مانگنا اجازت حاصل کرنا نہیں کہلاتا، آر ایس ایس کو قانون کے مطابق باضابطہ پولیس سے اجازت لینی ہوگی۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پریانک کھرگے نے آر ایس ایس کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "خط میں لکھا گیا ہے کہ وہ پولیس کو صرف اطلاع دے رہے ہیں، اجازت نہیں مانگ رہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ باضابطہ درخواست دے کر اجازت حاصل کریں۔ کیا پولیس محکمہ ان کا ذاتی خادم ہے؟” انہوں نے مزید کہا کہ ریاست کے قانون اور ضوابط کا اطلاق تمام تنظیموں پر یکساں ہوتا ہے اور کسی کو بھی اس سے استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔
وزیر داخلہ نے آر ایس ایس سرسنگھ چالک موہن بھاگوت کے حکومت کی تبدیلی اور سیاست سے متعلق بیانات پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے انتخابی نظام اور الیکشن کمیشن پر سوالات موجود ہیں اور عوام سڑکوں پر نکل کر احتجاج کر رہے ہیں۔ انہوں نے فرانس جیسے ممالک میں ہونے والے مظاہروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں مہنگائی اور تعلیم جیسے مسائل پر احتجاج ہو رہا ہے جبکہ ہندوستان میں الیکشن کمیشن کے طرزِ عمل کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں۔
پریانک کھرگے نے آر ایس ایس کی سالانہ رپورٹ 26-2025 کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ تنظیم نے کرناٹک میں 562 مقامات پر مارچ کیے جن میں 2 لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ اتنے بڑے پیمانے پر ایک ہی دن اور وقت پر ہزاروں افراد کی آمد کے لیے پولیس کو سیکورٹی، ٹریفک کنٹرول، اور نقل و حمل کے لیے بھاری وسائل اور فورس تعینات کرنی پڑتی ہے، اس لیے مناسب منصوبہ بندی اور باضابطہ پولیس اجازت کے بغیر ایسے پروگراموں کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔




