بنگلورو(فکروخبرنیوز) ریاست کرناٹک کو رواں سال شدید ترین قحط سالی اور خشک سالی کی صورتِ حال کا سامنا ہے۔ محکمہ موسمیات (IMD) کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق سال 2026 کے جنوب مغربی مانسون (یکم جون سے 30 ستمبر) کے دوران کرناٹک میں ریکارڈ 32 فیصد بارش کی کمی درج کی گئی ہے۔ یہ سال 1918 کے بعد، یعنی گزشتہ 108 سالوں میں بارش کی سب سے بڑی کمی ہے۔ واضح رہے کہ 1918 میں ریاست کو 47 فیصد جبکہ سال 2002 میں 31 فیصد کی کمی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق کرناٹک میں معمول کے مطابق اس مدت کے دوران 831.8 ملی میٹر بارش ہونی چاہیے تھی، لیکن اس سال صرف 563.7 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ بنگلورو محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر این پوویارسن نے بتایا کہ جنوب مغربی مانسون کا ریاست سے مکمل خاتمہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایل نینو (El Niño) کے اثرات اور مقامی موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے شمال مشرقی مانسون میں بھی معمول سے کم بارش کا امکانی خطرہ ہے، جس کے باعث اگلے موسمِ گرما تک ریاست میں پینے کے پانی اور زراعت کے لیے شدید آبی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
منطقائی لحاظ سے جنوبی اندرونی کرناٹک کے 17 اضلاع سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جہاں 36 فیصد بارش کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ شمالی اندرونی کرناٹک کے 11 اضلاع میں 32 فیصد جبکہ ساحلی کرناٹک کے تینوں اضلاع میں 28 فیصد بارش کی کمی درج کی گئی۔ اضلاع کے اعتبار سے رام نگر سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ رہا جہاں معمول کے مطابق 459.6 ملی میٹر کے مقابلے میں صرف 59.2 ملی میٹر (87 فیصد کمی) بارش ہوئی۔ جبکہ بیلگام واحد ایسا ضلع رہا جہاں معمول (573.3 ملی میٹر) کے قریب یعنی 572 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ موسمیاتی ماہرین کے مطابق سال بھر پانی کی یہ کمی ریاست کی زراعت اور عام زندگی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔




