رام مندر چندہ چوری معاملہ : کانگریس کا سپریم کورٹ کی نگرانی میں آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ

کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے ایودھیا کے شری رام مندر میں چندے اور نذرانوں کی مبینہ خرد برد کے معاملے پر اتر پردیش حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے پورے معاملے کی سپریم کورٹ کی زیر نگرانی آزادانہ، غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے چندے کے مکمل آڈٹ اور ذمہ داروں کے کڑے احتساب پر زور دیا ہے۔ کانگریس رہنما کے مطابق، ریاستی سطح پر تشکیل دی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی کارروائی نے اصل ملزمان اور بااثر عہدیداران کو بچانے کی کوشش کی ہے۔

جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پر اپنا بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ عقیدت کے نام پر عوام کی جانب سے دیے گئے عطیات میں مبینہ بے ضابطگیوں پر حکمراں جماعت کا رویہ غیر تسلی بخش ہے۔ ان کے مطابق ایودھیا میں عطیات کے غائب ہونے کا معاملہ ابتدائی طور پر چار جون کو سامنے آیا تھا، تاہم ریاستی انتظامیہ نے مندر ٹرسٹ کی باقاعدہ درخواست پر نو دن کی تاخیر کے بعد تیرہ جون کو خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ سترہ اگست کو محکمہ داخلہ کو پیش کی گئی حتمی رپورٹ کے تحت ٹرسٹ کے اعلیٰ عہدیداران کو کسی بھی قسم کی جوابدہی سے بری الذمہ قرار دے دیا گیا۔

سی سی ٹی وی شواہد کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس لیڈر نے واضح کیا کہ ستائیس اپریل سے پانچ جون کے دوران نقدی گننے والے عملے کو نوٹوں کی گڈیاں مبینہ طور پر چھپاتے ہوئے ایک سو پانچ مرتبہ کیمروں میں دیکھا گیا، لیکن اس کے باوجود جامع مالیاتی فرانزک تفتیش عمل میں نہیں لائی گئی۔ انہوں نے مالیاتی نگرانی کے طریقہ کار اور کنٹرول روم کے نظم و نسق پر عدم توجہی کے الزامات کا تذکرہ کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ جب چوری شدہ کل رقم یا قیمتی اشیاء کا باضابطہ تخمینہ ہی عام نہیں کیا گیا تو پھر جانچ کا دائرہ کار محدود کس بنیاد پر کیا گیا۔

اس ضمن میں پچیس جون کو درج کی گئی ایف آئی آر اور اس کے بعد نقدی شمار کرنے والے آٹھ افراد کی گرفتاری کے عمل پر بھی کانگریس نے اپنے تحفظات ظاہر کیے۔ پارٹی کے مطابق اس کارروائی میں نچلی سطح کے ملازمین کو تو حراست میں لیا گیا مگر انتظام و انصرام کے ذمہ داران کو شاملِ تفتیش نہیں کیا گیا۔ جے رام رمیش نے اس امر پر حیرت ظاہر کی کہ مرکزی مالیاتی تفتیشی ایجنسیاں اس طرح کے بڑے مالیاتی معاملے پر اب تک خاموش ہیں۔

اپنے بیان کے اختتام پر کانگریس نے مؤقف اختیار کیا کہ عوامی امانت، شفافیت اور قانون کی حکمرانی کا تقاضا ہے کہ عدالت عظمیٰ کی نگرانی میں ایک بااختیار کمیشن اس معاملے کی چھان بین کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مندر کو موصول ہونے والے تمام اندرونی و بیرونی عطیات کی مکمل تفصیلات پبلک ڈومین میں رکھی جائیں تاکہ عوام کے اعتماد کو ٹھیس نہ پہنچے اور تمام ملوث عناصر قانون کے کٹہرے میں آ سکیں۔

شیئر کریں۔